Monday, May 22, 2017

Al-Jame-atul-Islamia

الجامعۃ الاسلامیہ ،روناہی:ایک تعارف


مذہب اسلام اپنے دامن پُربہار میں مکمل نظام حیات رکھتا ہے۔ جو قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ جن کا حصول، تمام مسلمانوں پر بقدر ضرورت فرض ہے ۔اسی نیک مقصد کی خاطر دینی مدارس کا وجود عمل میں آیا۔ جن میں مسلمان بچوں کو بااخلاق ،امن پسند ،مہذب شہری،قوم و ملت کا سچا خادم ، دین دار عالم ،خدا  اس کے  رسول ﷺ اور بندوں کے حقوق کا آشنا اور کامیاب انسان بنایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ’’ الجامعۃ الاسلامیہ‘‘ تقریبا چھ دہائی سے نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

تبت کے جھیل ’مانسرو‘ کے قریب سے نکل کر ’کَرْنالی ‘ ندی نیپال میں ہمالیہ سے بہتے ہوئے برہما گھاٹ ،بھارت کے مقام پر دریائے شاردا سے مل کر دریائے گھاگھرا میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ 315 میل طویل یہ دریا نیپال کی سب سے بڑی ندی ہے ۔ آیودھیا میں’’ سریو‘‘کہلاتی ہے پھردریائے گنگا میں مل جاتی ہے ۔ اسی دریائے گھاگھرا کے کنارے ملک کی یہ عظیم دینی درسگاہ، الجامعۃ الاسلامیہ شمالی ہند کے صوبہ ’اتر پردیش‘ کے قدیم ترین شہر فیض آباد سے تقریبا 18 کلو میٹر دور قصبہ روناہی میں لکھنؤ فیض آباد شاہراہ پر واقع ہے ۔جس کا قیام 1964ء میں مفکر اسلام حضرت علامہ قمر الزماں خان اعظمی (جنرل سیکریٹری ، عالمی تنظیم ’ورلڈ اسلامک مشن لندن‘) کی قیادت اور سربراہی میں مقامی مخلص حضرات خصوصا سید محفوظ الرحمن صاحب کے تعاون سے ہوا۔ 

یہ ادارہ مفکر اسلام کی سر پرستی و نگرانی اورحضرت قاری جلال الدین صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کی کاو شِ فکری اور دن را ت کی انہماک نیز ارکان، و اساتذۂ کرام کی پر خلوص خدمات کا نتیجہ ہے کہ اس عظیم ادارے نے قلیل مدت میں زبردست دینی و ملی اور علمی کارنامہ انجام دیاہے۔چنانچہ اس کے فارغین علما،فضلا ،حفاظ وقراء، ہند و بیرون ہند یعنی امریکہ ،برطانیہ ،ہالینڈ کے علاوہ بر اعظم افریقہ اور عرب کے ممالک میں دینی ،سماجی اور معاشی قیادت سے قوم و ملت کی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں نظم ’مدرسہ‘ https://abirti.blogspot.com/2020/03/nazm-madarsa.html

الجامعۃ الاسلامیہ کا نصابِ تعلیم لکھنؤ بورڈ کے نصابِ تعلیم سے ہم آہنگ نیز وقتا فوقتا ماہر دانشورانِ قوم اور بزرگ علما کے ذریعہ جامعہ کا ’نصاب بورڈ‘ ترجیحی طور پر، ترمیمات کرتارہتا ہے ۔تاکہ طلبہ آئینِ ہند ،موجودہ سیاسی اور معاشی نظام کو بخوبی سمجھ سکیں،نیز جدید ٹکنا لوجی کی وساطت سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ نیو میڈیا کا استعمال ملک و قوم کے فلاح و بہبودکے لیے کر سکیں۔یہاں طلبہ کے لیے سید محفوظ الرحمن لائبریری ،کمپیوٹر لیب،ہاسٹل ،نیز کھیل میدان ہے ۔ 

پورے ہندوستان سے طلبہ یہاں علم کی پیاس بجھانے کے لیے دیوانہ وار آتے ہیں ۔طلبہ کے لیے درس نظامی ،شعبہ حفظ، شعبہ قرأت ، شعبہ افتاء،شعبہ دعوت و تبلیغ ( قرب و جوار میں سرگرم طلبہ کی تنظیم) اور شعبہ نشر و اشاعت میں طلبہ کی صحافتی استعداد کو مہمیز دینے کے لیے جامعہ کا ’’الجامعہ ‘‘ماہنامہ ایک لمبے عرصے سے قوم کی سچی خدمت کرتے ہوئے جاری و ساری ہے۔طلبہ، اساتذہ کی نگرانی میں تقریری تربیتی ہفتہ واری پروگرام اور اچھوتے موضوعات پہ مذاکرہ ،مباحثہ کرتے رہتے ہیں ۔یہ مذاکرہ بہت خوب ہوتا ہے ۔2009-10 میں یہ کافی دلچسپ ہوتا تھا، نیزسالانہ تقریری ،تحریری مقابلہ آرائی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں ’خودی کا اثر، نعمان خاں رحمہ اللہ https://abirti.blogspot.com/2019/10/blog-post.html

مختلف محفل اور مختلف موضو عات پہ لیکچر یعنی توسعی خطبہ کے ذریعہ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے رغبت دلائی جاتی ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ یہاں طلبہ کا ذہن مثبت اورنہایت صاف و شفاف بنائے رکھنے کی مسلسل کوشش رہتی ہے ۔ طلبہ میں Tolerance دوسر وں کو قبول کرنے، ان کی بات ،خیال کو سن کر ان کی مخلصانہ رہنمائی کرنے کا خوگر بنایا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے فارغین صرف ’’اتحاد زندگی ہے اور اختلاف موت‘‘ کو ذہن میں رکھ کر’’زمین کے اوپر کام اور زمین کے نیچے آرام‘‘کرنا چاہتے ہیں ۔اختلافات میں نہ تو الجھتے ہیں اور نہ ہی انھیں ہوا دیتے ہیں ۔اختلافات سے قطعی طور پر دور رہتے ہیں۔وطن عزیز میں مذہبی اور سماجی امن و آشتی کے لیے شبانہ روز کوشاں رہتے ہیں۔


اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان کہ علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں چین جانا پڑے ۔اگر اس حدیث سے علم دین مراد ہے تو وہ صحابہ کے پا س پہلے ہی سے موجود تھا ۔اسی لیے یہ فکر الجامعۃ الاسلامیہ کے درو دیوار میں سیمینٹ کی طرح پیوست ہے کہ دین عمل کا نام ہے ، اسے محض علم و فن سے تعبیر کرنا ایک خطا ہے۔ پس ،ہندوستان کی مختلف یونور سٹیز مثلا ہمدر،علی گڑھ مسلم یونورسٹی نیز الازہر قاہرہ سے الجامعۃ الاسلامیہ کامعادلہ ہے اور طلبہ نئے جوش و جزبہ سے ان مقامات پہ پہنچ رہے ہیں اور اپنی تعلیمی سفر کو منزلِ مقصود سے ہمکنار بنا رہے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں ’حضور بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی‘https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post.html

ملک کی عظیم دینی درسگاہ ،الجامعۃ الاسلامیہ ،یہ ایسا منفرد ،ادارہ ہے کہ جسے مدارس کی دنیا میں یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کے سابق پرنسپل حضرت علامہ نعمان خاں اعظمی علیہ الرحمہ کو دو حکومتی ایوارڈ ایک صدر جمہوریہ ہند اوردوسرا ،اتر پردیش حکومت کے ہا تھوں سے اپنی’’پرنسپل کی ذمہ داری‘‘کو ذمہ داری سے نبھانے کے سبب حاصل ہوا۔ روناہی قصبہ کے لوگ اور اساتذۂ کرام بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی مدرس ایک منٹ تاخیر سے آتا تو اُسے بھی وہ رجسٹر میں لکھ دیا کرتے تھے۔جب تک وہ رہے کسی کلرک کی کوئی ضرورت کبھی محسوس نہ ہوئی ۔وہ بذات خود اس ذمہ داری کو نبھاتے رہے۔مزید یہ کہ وہ سرکاری کوٹے سے مٹی کا تیل اور راشن حاصل کرتے رہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے دور کے طلبہ انھیں یا د کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم جس کی فرمائش کرتے تھے ہمیں کھانے میں وہی ملتا تھا۔وقت کے سخت پابند تھے۔تمام طلبہ کو ایسے پہچانتے تھے جیسے ماں اپنی اولاد کو پہچانتی ہے۔حضرت کپڑے ،ٹوپی ،پاجامہ،لنگی ،بال،چپل اور چلنے کے انداز سے طلبہ کو پہچان لیا کرتے تھے۔ 

الجامعۃ الاسلامیہ میں پرائمری سکول ہے ۔ جس میں سیکڑوں غریب بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔اب یہ پرائمری شعبہ شاہراہ ترقی پہ گامزن ہے۔ یعنی اس کے لیے نئی بلڈگیں زیر تعمیر ہیں اور تقریبا شرمندۂ تعبیر ہونے کو ہیں ۔لہٰذا پوری ملت اسلامیہ سے گزارش ہے کہ اپنا تعا ون جاری رکھیں اور دوسروں کو بھی اس جانب توجہ دلائیں اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ تمام وابستگا ن کو اللہ رب العزت اجرِ عظیم عطا فرمائے ۔آمین

یہ بھی پرھیں ’تعلیم: بدحالی کا حل‘ https://abirti.blogspot.com/2017/05/blog-post.html
@MobeenJamei
+917618049339
👇...دیکھیے! نظم "کر دو غوث کرم خدارا

Naat and Urdu literature


نعتیہ شاعری اور اردو ادب  


عصرِ حاضر میں اردو پرچے اور رسائل قارئین کی کمی کے سبب گھٹتے جا رہے ہیں لہٰذا اردو مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں نیز اردو کے پاؤں تلے اقتصادی زمین کھسکتی جا رہی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب عام کسانوں کی طرح اردو کے محنت  کشوں کی بھی اپنے اپنے دفاتر، دکانوں اور پریس میں پھانسی لگا کر خود کشی کرنے کی خبریں برابر آنے لگیں گی۔ کہیں ایسا ہو نہ ہو، اگریہی زبوں حالی رہی تو کم از کم شمالی ہندوستان (یوپی) میں ایسا ضرور ہوگا۔ 

شہزاد پور، امبیڈکر نگر (یوپی) میں ایک پرانی دوکان ’حیات بک ڈپو‘ ہے۔ آج سے تقریباً آٹھ، دس برس پہلے یہاں بہت زیادہ نہیں تاہم خاطر خواہ گاہک نظر آتے تھے لیکن اب یہاں اکثر اوقات سناٹا رہتا ہے۔ ماہانہ اردو رسائل جیسے آتے ہیں ویسے ہی پڑے رہتے ہیں، کوئی خریدار ہی نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہاں دو چند جریدے اور ماہنا مے ہی آتے ہیں، وہ بھی فروخت نہیں ہو پاتے۔ اسی لیے بسا اوقات اردو محبین کے لیے یہ شدید تکلیف کا باعث بھی ہوتا ہے۔ موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے اداروں میں مہنگے مہنگے سیمینار، مشاعرے تو خوب ہوتے ہیں مگر پرائمری کی سطح پر اساتذہ کا انتظام نہیں ہو پاتا... کیونکہ یہ محض حکومت کی ذمہ داری ہے سیمینار اور مشاعرے کرنے والوں کی نہیں جبکہ موجودہ نسل کی اردو زبان سے اس قدر نا آ شنائی ہے کہ اب سخت ضرورت آن پہنچی ہے کہ اردو کے لیے جنگی پیمانے پر ذاتی اور اجتماعی سطح پر کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جس کے ذریعے نئی نسل کو اردو زبان سے جوڑا جائے۔ خوب واضح رہے کہ جنگ میں کبھی یہ نہیں دیکھا جاتا کہ حکومتی امداد کتنی مل رہی ہے بلکہ جسم و جان کی تمام تر توجہ صرف اور صرف ہدف یعنی دشمن پر ہوتی ہے۔ 

 ’سورۂ رحمٰن کا منظوم اردو ترجمہ‘https://abirti.blogspot.com/2020/04/surah-ar-rahman-translation-in-urdu.html

آج کے دور انحطاط میں بھی مذہبی شاعری پر اگر ذرا توجہ کریں تو حقیقی مذہبی تعلیمات کو اردو شاعری میں پہنچا کر وطن عزیز ہند سمیت بر صغیر میں اردو کی عظمت رفتہ بحال ہوسکتی ہے۔ ساتھ ہی ان انسان دشمن عناصر کے حوصلے بے جان پڑ جائیں گے جو مذہبی پیغامات کو غلط طریقے سے پہنچا کر ظلم و تشدد کا بازار گرم کرنے پر تُلے رہتے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہندوستانی سماج میں آج بھی مذہبی شاعری کی جارہی ہے اور عوام کو زباں زد بھی ہے لیکن یہ کد و کاوش اہم ادبی دھارے کا حصہ نہ بن پانے کی وجہ سے اپنی موت آپ مری جا رہی ہے۔

مسلمانوں میں مذہبی شاعری کے اصنافِ سخن حمد، نعت، منقبت ہیں جبکہ ہندو سماج میں گیت، بھجن وغیرہ ہیں جبکہ سکھ میں شبد ہے۔ اردو ادب کی موجودہ تاریخ میں دو چند شعراء کا ہی ذکر اردو نظم کے دیگر اصنا فِ سخن کے ذیلی تذکرے میں جزوی طور پر مذہبی شاعری (نعتیہ شاعری) کے حوالے سے ملتا ہے ورنہ در حقیقت یہ ادب کا حصہ ہی نہیں معلوم پڑتا۔ یہ اور بات ہے کہ اردو زبان کا وجود، جمال و کمال اور جھنکار صوفیاء کی مرہون منت ہے۔ بعض شعراء کے قصیدے، مرثیہ نعتیں اور اہلبیت کی شان میں کہی گئی منقبتیں (مرثیہ) وغیرہ اردو ادب کا حصہ ہیں مگر اُنہی بحر و بر میں دوسرے بہتیرے اہم شعرا ء کے کلام سے مجرمانہ چشم پوشی کرتے ہوئے انہیں نظر انداز کیا گیا ہے، مثلََاامام احمد رضاؔ محدث بریلوی علیہ الرحمہ کا مکمل دیوان’حدائقِ بخشش‘ نعتیہ شاعری کے لیے مشہور ہے جبکہ اِسی دیوان میں قصیدہ کی صنف موجو ہے اورقصیدہ معراجیہ اور قصیدہ نوریہ ہیں جو فنی لحاظ سے بہت ہی اہم ہیں مگریہ اردو ادب کا حصہ نہیں ہیں۔ 

جان ہے عشقِ مصطفےٰروز فزوں کرے خدا​
جس کو ہو درد کا مزہ نازِ دوا اٹھائے کیوں​_​رضؔا
مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم میرٹھی رحمہ اللہ کی منقبت در شان رضؔا_اسماعیل میرٹھی، مبلغ اسلام کے عم محترم ہیں۔

رضؔا کی طرح سید شاہ برکت اللہ مارہرویؒ پیؔم پرکاش عشؔقی مارہرری(آپ عربی اور فارسی کے علاوہ اردو (ہندوی، ریختہ) اور سنسکرت پر بھی عبور رکھتے تھے۔)، اشرفی میاں کچھوچھیؒ، حسؔن رضا خاں بریلویؒ، بیؔدم شاہ وارثیؒ، مصطفیٰ رضا خاں نوؔریؒ، حضرت آسیؔ اور سید آلِ رسول حسنین میاں نظؔمی مارہرویؒ وغیرہ ایک فہرست ہے جنھیں بالکل نظر انداز کیا گیا ہے۔ ادب کے چند جغادری جن کی کُل پونجی سرقے بازی اور چاپلوسی کی اعلیٰ منزل پر پہنچ کر حکومت کے تلوے چاٹنا ہے...جو نہ تو ادب کے سچے خیرخواہ ہیں نہ ہی زبان کے‘ جن کی کوتاہ نظری پر آج بھی اولے پڑرہے ہیں...آخر وہ اس جانب کیوں متوجہ ہوں! اگر یہ بات غلط ہے تو یہ ریاستوں میں پرائمری سطح پر اردو چلانے اور کیندریہ ودیالیہ کے نصاب میں اردو داخل کرنے لیے تحریک کیوں نہیں چلاتے؟  

پڑھیں، نظم میگی کورونا https://abirti.blogspot.com/2020/03/nazm-maggi-corona.html

یہی حال نثر کا ہے فاضل بریلویؒ، یارخاں نعیمیؒ، ملک العلماء ظفر الدین بہاریؒ، مولانا بدرالدین قادریؒ گورکھپوری، علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی سمیت متعدد صوفی علماء نے سیکڑوں کتابیں مختفلف موضوعات پر تصنیف کی ہیں جن میں فتاویٰ کے علاوہ علم جفر، سائنس، تاریخ اور خطوط نویسی موجود ہیں۔ ابھی تک جتنے اسماء آپ کی نظروں سے گذرے ہیں ان میں بعض سر سید اور شبلیؔ نعمانی کے ہم عصر بھی ہیں تاہم ان کا ادب اب تک نا قابل قبول ہی ہے۔  

نعت  اور غزل میں فرق یہ ہے کہ نعت میں محبوب متعین ہوتا ہے مگر معنویت میں کئی بار نعت کے اشعار غزل سے کہیں اعلیٰ درجے کے ہوتے ہیں مثلاً؎ 

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں 
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں 
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا

اے رضؔا ہر کام کا اک وقت ہے 
دل کو بھی آرام ہو ہی جائے گا

کچھ ایسا کر دے میرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشه نقش رہے روۓ یار آنکھوں میں
مصطفیٰ رضا خاں نورؔی

ساری دنیا کی نگاہوں سے گرا ہے بیدؔم 
تب کہیں جا کے تیرے دل میں جگہ پائی ہے

بعض نعت گو شعراء کو اردو ادب کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے جیسے محؔسن کاکوروی اور حالیؔ (حالیؔ نے دیگر اصناف میں  بھی شعرگوئی کی ہے) وغیرہ۔ مذہبی شاعری کا ایک عجیب اور پرشکوہ پہلو یہ بھی ہے کہ بعض ایسے بھی شعرا ہیں جن کے کلام کو کسی خاص صنف کا نام نہیں دیا جا سکتا گو کہ وہ نعت کے طور پر مشہور ہیں جنہیں خانقاہی زبان میں معرفتی کلام کہا جا تا ہے۔ کم از کم ان کا مطالعہ ادب کے بطور بہر کیف! ممکن ہے لہٰذ انھیں پڑھا اور پڑھایا جانا چاہیے؎ 

بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ​
آ دِل میں تُجھے رکھ لُوں اے جلوہ جَانَانَہ​
کِیوں آنکھ مِلائی تِھی کیوں آگ لگائی تِھی​
اب رُخ کو چُھپا بیٹھے کر کے مُجھے دِیوانہ​
جاناں تُجھے مِلنے کی تدبِیر یہ سوچِی ہے​
ہم دِل میں بنا لیں گے چھوٹا سا صنم خانہ​
بیدمؔ میری قِسمت میں سجدے ہیں اُسِی دّر کے​
چُھوٹا ہے نہ چُھوٹے گا سنگِ درِّ جَانَانَہ​

یہ معرفتی کلام کے اشعار ہیں۔ اگر کوئی شعر و سخن کا فہم رکھتا ہے تو اس کا مطلع اتنا اچھا ہے کہ کئی دنوں تک اندر سے طبیعت ہری بھری اور مزاج ہشاش بشاش رہے گا؎ 

جِی چاہتا ہے تحفے میں بھِیجُوں اُنہیں آنکھیں​
​درشن کا تو درشن ہو نذرانے کا نذرانَہ​

...آپ تخیل دیکھیے! کس درجے کا ہے...درشن کا تو درشن ہو نذرانے کا نذرانَہ​

بیدؔم کا یہ کلام کوئی بھی چشتی (قوالی) محفل ہو تو ضرور پڑھا جاتا ہےجبکہ نعت کی محفل میں بھی یہ کثرت سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ 


اکثر اردو کی محفلوں سے یہ صدائے گریہ بلند ہوتی ہے کہ اردو پر الزام ہے کہ یہ طوائفوں کی زبان ہے، اسے علم و سائنس کی زبان بنانے کی سمت میں کام ہونا چاہیے۔ جن شخصیات کا ذکر گذرا اگر انہی کی کتابیں شامل نصاب کر لی جائیں تو یہ الزام بے بنیاد ہو جائے گا۔ بہر حال؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی شاعری کی توسیع کے ساتھ ادب کے دامن کو وسیع تر سے وسیع ترین کیا جائے اور سب سے اہم؛ اردو ادب کا مطالعہ ایک بار اس حیثیت سے کیا جائے کہ کیوں انورا جلال پوری نے گیتا کا اردو شعری ترجمہ کرنے کے بعد اسے دیوناگری رسم الخط میں شائع کیا؟ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اردو میں کتابیں فروخت ہی نہیں ہوتیں۔ دوسری وجہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ گیتا ہے تو اسے زیادہ ہندو سماج پڑھے گا۔۔۔مگر کام تو اردو ادب کا ہے!...مثنوی مولانا روم کے بارے میں اردو ادب کے جغادریوں کا کیا خیال ہے؟ جس کی آب و تاب آج بھی نصف النہار پر ہے۔ کیا وہ مذہبی ہونے کا ٹیگ دے کر اسے بھی خارج کر سکتے ہیں؟ واضح ہو کہ یہ مثنوی عالمی ادب میں دولہے کی حیثیت رکھتی ہے۔ 

چلو سچ بولنے والوں سے رشتہ کر لیا جائے 
خود اپنے آپ کو دنیا میں تنہا کر لیا جائے
انوؔر جلال پوری

سچی بات یہ ہے کہ اگر اردو ادب کا یہی رویہ رہا تو دھیرے دھیرے رسم الخط بدلتا جائے گا اور جس زبان کا اپنا رسم الخط نہ ہو بالآخر اس کو ایک دن گمنامی کی موت مرنا ہی ہوتا ہے۔ ایسی کئی مثالیں بھی دنیا میں دستیاب ہیں۔ کیا اردو ادب کو ہتھیا لیا گیا ہے؟ آخر اردو ادب اتنا تنگ دل اور کم ظرف کیوں ہے؟ اور اس پرچند ہی اشخاص کی اجارہ داری کیوں ہے اور کب تک رہے گی؟ نیز اردوکے تمام خدمتگاروں کو برابر کا حق کب ملے گا؟ 

@MobeenJamei
mobeenahmad.abirti@gmail.com
+917618049339
Watch Nazm 'Kar Do Ghaus Karam Khudra!'

Saturday, May 20, 2017

Education and Muslim

تعلیم :بد حالی کا حل


یہ بھی پڑھیں،’ کیوں ڈراتے ہو!‘https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_19.html?m=1

موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے آپ کے پاس کیا حل ہے؟ جس طرح سے پورے ہندوستان بالخصوص جھارکھنڈ سے کبھی گائے کے نام پر توکبھی بچہ چوری کے نام پرجھوٹے شک کی وجہ سے سوشل میڈیا پہ مظلوم مسلمانوں کی تصویریں اور ویڈیوز وائرل کیے جا رہے ہیں کہیں آپ ان پر جذباتی ردعمل سے مشتعل ہو کر جوش میں ہوش کھو دینے والی بات تو نہیں کر رہے ہیں؟ صورتحال سنگین ہے۔ تصویریں دیکھ کر کلیجہ منھ کو آتا ہےمگر اندھیرے کو اندھیرا نہیں کاٹ سکتا۔ 

یہ بھی پڑھیں، الجامعۃ الاسلامیہ روناہی: ایک تعارف

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اقلیتیں اسی وقت اپنے وجود کا تحفظ کر پائی ہیں جب انہوں نے اکثریت سے بڑھ کر صلاحتیں پیدا کی ہیں اور  فی الحال ہم محض دو فیصد سے بھی کم صلاحیت پیدا کر رہے ہیں۔ہمیں آبادی کے تناسب سے بڑھ کر یعنی تقریبا 25یا 35 فیصد اعلیٰ صلاحیت پیدا کرنی ہے۔ وطن عزیز ہندوستان کو ترقیاتی سرخاب کے پر صرف مسلمان ہی لگا سکتے ہیں اور اب ہمیں ہی یہ وطن بچانا ہے۔ دوبارہ اسے "سونے کی چڑیا" بنانا ہے۔ یہ حقیقت حرز جاں بنائے رکھیے کہ اس دور  میں صرف تعلیم ہی امراض ملت کی دوا ہے۔ سوائے اس کے اور کوئی حل نہیں ہے۔ لاکھ ہمیں نئے نئے مسائل میں الجھایا جائے، ہماری توجہ تعلیم سے بالکل نہیں ہٹنی چاہیے اس لیے کہ ہمہ جہت ترقی صرف تعلیم سے ممکن ہے۔ اگر ہم جذباتی ہوں گے تو ہر طرح سے نقصان ہمارا ہی ہوگا جیسا کہ اب تک ہوتا آیا ہے۔ ہماری اسی کمزوری کا ہمیشہ فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ ہمیں پروپیگنڈا کر کے بھڑکایا جاتا ہے۔ اس لیے خیال رہے کہ ہر جان قیمتی ہے،اور ہمیں بس ان حالات سے خود کو اور  پوری قوم کو نکال کر لے جانا ہے۔ اس دور میں ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے۔ اگر آپ اس کے لیے تیار ہیں تب تو ٹھیک ہے ورنہ مسائل یونہی بڑھتے رہیں گے جن کا کوئی حل نہیں ہوگا۔ عزت نفس یونہی سر بازار نیلام ہوتی رہے گی اور ایک دن ہم بالکل بے حس ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں، ’آخری فتویٰ‘https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_21.html?m=1

یہ بھی پڑھیں ’ہائے رے! علماء  https://abirti.blogspot.com/2020/04/73-10-19.html?m=1

@MobeenJamei
mobeenahmad.abirti@gmail.com
+917618049339
.دیکھیے! نظم "کر دو غوث کرم خدارا https://youtu.be/HHffMy4TB4U