Saturday, April 11, 2020

Surah Ar-Rahman Translation in Urdu Poetry



سورۂ رحمٰن کا منظوم اردو ترجمہ

تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی_اقبؔال

حضرتِ انساں کی فطرت، فطرت سے کس قدر متصادم ہے۔ تصور کیجیے! اگر کسی کو آزاد رہنے کا پابند کر دیا جائے تو اسے آزادی بھی زہر ہلاہل معلوم ہوگی۔ یہی باعث ہے کہ’مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں‘_فرؔاز

پڑھیے! غزل ’وقت ظہور عشق بھی بعثت سے کم نہیں‘ https://abirti.blogspot.com/2020/03/blog-post.html?m=1

بڑا ممنون کرم ہوں کہ آپ نے اپنے اپنے اسکرین پر ’ہندوستانیہ‘ https://abirti.blogspot.com/ بلاگ کو باریابی کا شرف بخشا۔ شب برأت گزری۔ اس دوران کئی چہرے جگنو تو کئی درخشندہ ستاروں کے مانند مطلع دل و دماغ پر رونما ہوتے رہے۔ دل بے چین رہا کہ اب سے پہلے تو ’یہ حال کبھی بحال‘ نہ ہوا...رسمِ دنیاداری ہے! میں نے بھی واٹس ایپ اسٹیٹس لگا کر جان چھڑا لی کہ آپ مجھے معاف فرما دیں۔ شب برأت کے دوران سورۂ رحمٰن کی تلاوت سے مشرف ہوا۔ اسی دوران یہ خیال آیا کہ سورۂ رحمٰن کا منظوم اردو ترجمہ پیش کروں جسےجوؔش ملیح آبادی نے لکھا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ جوؔش صاحب کمیونسٹ ’اشتراکیت کے عملبردار‘ تھے۔ وہ اردو کے’سب سے شعلہ مزاج ترقی پسند شاعر، شاعرِ انقلاب کے طور پر معروف‘ تھے۔

پڑھیے نظم ’میگی کورونا‘ https://abirti.blogspot.com/2020/03/nazm-maggi-corona.html

جوؔش صاحب کا مختصر تعارف یہ ہے کہ وہ 5 دسمبر 1898ء کو اترپردیش کے مردم خیز علاقے ملیح آباد کے ایک علمی اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے چند برسوں بعد وہ ہجرت کر گئے۔

جتنے گدا نواز تھے کب کے گزر چکے 
اب کیوں بچھائے بیٹھے ہیں ہم بوریا نہ پوچھ_جوؔش

پڑھیے! دہلی فسادات پر نظم ’بے حسی‘https://abirti.blogspot.com/2020/03/nazm-behisi-apathy.html?m=1

جوؔش صاحب مروت میں ایک ملازمت کے لیے کئی لوگوں کی سفارش کردیتے تھے ایک دفعہ ایک شخص کے ہمراہ سفارش کے لیے گئے افسر نے کہا اس کے لیے تو آپ نے کسی اور کی سفارش کی ہے فرمایا کہ اس مردود کو رکھ لیجئے کیونکہ مجھے ساتھ لایا ہے۔

نایاب کلام، سورۂ رحمٰن کا منظوم ترجمہ_جوؔش ملیح آبادی


اے فنا انجام انسان کب تجھے ہوش آئے گا
تیر گی میں ٹھوکریں آخر کہاں تک کھائے گا
اس تمرد کی روش سے بھی کبھی شرمائے گا
کیا کرے گا سامنے سے جب حجاب اٹھ جائے گا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

یہ سحر کا حسن ، یہ سیارگاں اور یہ فضا
یہ معطر باغ ، یہ سبزہ ، یہ کلیاں دل ربا
یہ بیاباں ، یہ کھلے میدان یہ ٹھنڈی ہوا
سوچ تو کیا کیا ، کیا ہے تجھ کو قدرت نے عطا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

خلد میں حوریں تری مشتاق ہیں آنکھیں اٹھا
نیچی نظریں جن کا زیور ، جن کی آرائش حیا
جِن و انساں میں کسی نے بھی نہیں جن کو چھوا
جن کی باتیں عطر میں ڈوبتی ہوئی جیسے صبا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

اپنے مرکز سے نہ چل منہ پھیر کر بہر ِ خدا
بھولتا ہے کوئی اپنی انتہا اور ابتدا
یاد ہے وہ دور بھی تجھ کو کہ جب تو خاک تھا
کس نے اپنی سانس سے تجھ کو منور کر دیا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

سبز گہرے رنگ کی بیلیں چڑھی ہیں جا بجا
نرم شاخیں جھومتی ہیں ، رقص کرتی ہے صبا
پھل وہ شاخوں میں لگے ہیں دل فریب و خوشنما
جن کا ہر ریشہ ہے قندو شہد میں ڈوبا ہوا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

پھول میں خوشبو بھری ، جنگل کی بوٹی میں دوا
بحر سے موتی نکالے صاف روشن ، خوش نما
آگ سے شعلہ نکالا، ابر سے آبِ صفا
ک سے ہو سکتا ہے اس کی بخششوں کا حق ادا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

ہر نفس طوفان ہے ، ہر سانس ہے اک زلزلہ
موت کی جانب رواں ہے زندگی کا قافلہ
مضطرب ہر چیز ہے جنبش میں ہے ارض وسما
ان میں قائم ہے تو تیرے رب کے چہرے کی ضیا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

صبح کے شفاف تاروں سے برستی ہے ضیا
شام کو رنگ شفق کرتا ہے اک محشر بپا
چودھویں کے چاند سے بہتا ہے دریا نور کا
جھوم کر برسات میں اٹھتی ہے متوالی گھٹا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

चांद भी तनहा, हम भी तनहा.... शब बरात भी तनहा तनहा
پڑھیے! نظم ’مدرسہ‘ https://abirti.blogspot.com/2020/03/nazm-madarsa.html?m=1

سورۂ رحمٰن کا صوتی جمال ایسا پُر کیف ہے کہ دل شب برأت کی ’پندرہویں چاند‘ کی طرح چمک، دمک محسوس کرتا ہے۔ 

@MobeenJamei
+917618049339
https://youtu.be/HHffMy4TB4U ‘دیکھیے! نظم ’کردو غوث کرم خدارا

No comments:

Post a Comment