ہائے رہے! علماء
لاک ڈاؤن کے سوا ہندوستان کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں۔ آزادی کے 73 برس گذر جانے کے باوجود یہاں انفراسٹرکچر، ڈاکٹر، نرس، وارڈ بوائے، دوا، پرسنل پروٹیکٹیو اکوپمنٹ (پی پی ای) اور ٹیسٹ لیبارٹریز حسب ضرورت نہیں ہیں کیونکہ سیاست مذہبی جنون کی آبیاری کرتی ہے اور سیاست داں اپنی اپنی تجوری بھرنے میں سرگرداں رہتے ہیں۔ در حقیقت چند افراد ہی خوشحال ہیں، انہی کی خوشحالی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور برہمن ازم در پردہ اپنے خاص ایجنڈے پر پیہم کاربند رہتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ روز ایمس کے ڈاکٹروں نے وزیر اعظم کو مکتوب ارسال کیا ہے کہ انہیں ضروری اشیاء فراہم کی جائے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں عرضی بھی دائر ہے جس پر اگلے ہفتے مرکز اپنا موقف رکھے گا۔ یہ بھی قابل دید و داد ہے کہ سپریم کورٹ ہیلتھ ایمرجنسی میں بھی اتنا وقت لے رہا ہے اور دے رہا ہے۔
دیکھیے! نظم "گھر کو چھوڑا" (مرکزی خیال؛ پی ایم مودی) https://youtu.be/UvuDAnP9Rto
خبر رساں ادارہ رائٹر نے کورونا کے حوالے سے ورلڈ کی ٹاپ 10 اسٹوریز کا انتخاب کیا ہے۔انہی میں ہندوستان سے جس اسٹوری کو چنا ہے، اس میں یہ ہے کہ پی ایم مودی نے لاک ڈاؤن کے اعلان سے قبل میڈیا سے کہا۔۔۔جو ایک طرح سے حکم ہی ہے کہ "کووڈ-19" سے متعلق مثبت خبریں ہی دکھائی جائیں۔
دیکھیے! دہلی فسادات 2020 پر نظم"بے حسی" https://youtu.be/bsNlHcbrVW0
پڑھیے!"ناجائزحکومت" https://abirti.blogspot.com/2020/02/delhiriots2020-cmhmpm.html?m=1
آزادی کے بعد سے ہی ہم اقلیت (مسلم) برہمن ازم کی طاغوتی چکی میں گیہوں کی طرح، پھنسے ہوئے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہم میں انتشار کا عالم یہ ہے کہ ہم اپنی ہی لاش کھا کر اپنا پیٹ بھرتے آئے ہیں اور بھر رہے ہیں۔۔۔اپنا ہی خون پی کر اپنی پیاس بُجھاتے آئے ہیں اور بجھا رہے ہیں؛ اس سنگین ہولناکی کے باوجود علماء اپنی ہی دھن میں مست ہو کر بے سر و پا "انا الحق، انالحق" کی رٹ لگائے رہتے ہیں جبکہ ان کے پاس محض "انا" ہے "حق" تو ہے ہی نہیں تاہم انہیں تنہا جنت میں جانے کا "عجیب الحقائق یقین کامل" ہے۔
الجامعۃ الاسلامیہ،روناہی: ایک تعارف؛ یہ بھی پڑھیں https://abirti.blogspot.com/2017/05/aljame-atul-islamia-raunahi-ek-taaruf.html
سابق وائس پرنسل جامعہ روناہی علامہ وصی صاحب حفظہ اللہ کا قول ہے،’اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کی ضروت بن جاؤ‘۔ قرآن عظیم میں فرمایا گیا کہ (وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى الْاَرْضِ) ہر وہ چیز جو انسانوں کو فائدہ پہنچائے اسے زمین میں ثبات ہے۔
بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی رحمہ اللہ بارہا فرمایا کرتےتھے،’من لم یعرف زمانہ فھو جاھل‘۔(جو اپنے زمانے کو نہیں سمجھتا وہ جاہل ہے۔)
’حضور بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی‘ یہ بھی پڑھیں https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post.html
لاک ڈاؤن کے بعد جس طرح سے علماء جبہ، قبہ، عمامہ، داڑھی اور ٹوپی میں پولیس کی لاٹھی چارج کے دوران پٹتے اور اپنی جان بچاتے ہوئے بے تحاشہ بھاگتے نظرآئے، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نہ تو انسانوں کے لیے نفع بخش ہیں اور نہ ہی اپنے زمانے کو جانتے ہیں۔ پولیس تعصب سے کام لیتی ہے کیونکہ مبینہ طور پر وہ فرقہ پرست ہے۔۔۔۔اسی طرح فوج، آر اے پی سمیت تمام ایجنسیاں اور مکمل انتظامیہ حتی کہ عدلیہ بھی۔
آپ اگر ایک مفتی، عالم اور امام ہیں تو کوئی مانے نہ مانے‘ آپ ایک قائد ہیں۔ آپ کو موجودہ حالات اور ان کے تقاضوں کے تئیں دو قدم آگے بڑھ کر معلومات ہونی چاہیے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ایڈوائزری اور آرڈر جاری کیے تھے۔ آپ کو انھیں پڑھنا چاہیے تھا کہ کیا شرائط ہیں اور کیا چھوٹ ہے۔ (انٹرنیٹ کے زمانے میں بہت آسان ہے۔) اگر آپ نے پڑھا ہوتا اور تھوڑی بھی قانون کی معلومات ہوتی تو آپ بھاگ کھڑے نہیں ہوتے بلکہ پولیس سے پوچھتے....
کیا بات ہے؟
آپ کے پاس ایڈوائزری یا آرڈر کی کاپی ہے؟
آپ جانتے ہیں اس میں کیا کیا شرائط ہیں؟
آپ کی کاروائی ایڈوائزری یا آرڈر کی خلاف ورزی ہے؟
۔۔۔ اور یہ سوالات آپ اسی وقت کرنے کے اہل ہوں گے جبکہ آپ خود غلط نہ ہوں۔ خدا کرے کہ جھوٹ ہو؛ اگر خاطی پائے گئے تو آپ متانت سے کہتے! ٹھیک ہے....آپ قانونی کاروائی کریں ہم قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ یاد رہے کہ آئین میں ایک شہری کو بڑے اختیارات ہیں مگر ذمہ داریاں بھی ہیں۔ اگر کسی شہری کو اندیشہ ہوکہ سرکاری اہلکار اس کی جان لے سکتا ہے تو وہ ذاتی دفاع میں اسے قتل بھی کر سکتا ہے۔
دیکھیے! نظم "جے این یو اٹیک" https://youtu.be/f3G7tx7ACGI
ذاتی دفاع (پرائیویٹ ڈیفنس) کے حوالے سے آئی پی سی (تعزیرات ہند) کے تحت 16، 18 کی شق 96، 99، 100 کو پڑھنا چاہیے۔
شق 100 کے تحت سات صورتوں میں پرائیویٹ ڈیفنس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔۔۔
(1) ایسا حملہ، جس سے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہو۔۔۔شدید زدو کوب (grievous hurt)۔
(2) ایسا حملہ جو جنسی زیادتی (ریپ) کے ارادے سے کیا گیا ہو۔
(3) ایسا حملہ جس سے کسی لڑکی کو اندیشہ ہو کہ وہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی ہے۔
(4) غیر فطری طور پر جنسی ہوس کی تکمیل ( لواطت بھی اسی زمرے میں شامل ہے۔)
(5) ایسا حملہ جو اغوا یا زبردستی دباؤ ڈال کر بھگانے کی نیت سے کیا گیا ہو۔
(6) ایسا حملہ جو کسی شخص کو غلط طریقے سے قید کرنے کے ارادے سے کیا گیا ہو، ایسے میں جو اسے معقول حد تک گرفت میں لے جانے کا سبب بن سکتا ہے کہ وہ اپنی رہائی کے لئے عوامی حکام سے تعاون کرنے سے قاصر ہوگا۔
(7) تیزاب سے حملے کا اندیشہ ہو
واضح رہے کہ ان قوانین کا ذکر محض اس مقصد سے کیا جا رہا ہے کہ آپ اپنے اندر بہ اختیار اور بہ وقار شہری کا احساس پیدا کریں۔۔۔۔یہ نہیں کہ گتھم گتھا ہوجائیں۔ ہم پر فرض ہے کہ اس آئین و اقتدار کے بارے میں جانیں جس کے توسط سے ہم گورن ہو رہے ہیں (ہم پر حکومت کی جاری ہے)۔ قانون سے لاعلمی بھی ناقابل تلافی ایک سنگین بد عملی ہے۔
’سپریم کورٹ کا جنازہ‘ یہ بھی پڑھیں https://abirti.blogspot.com/2020/01/supremecourt.html?m=1
مدارس کو چاہیے کہ بورڈ کا نصاب چلائیں اور بورڈ کا ہی امتحان سختی سے کروائیں کیونکہ اس میں بہرکیف! این سی ای آر ٹی کی کتب سمیت کافی اچھی کتابیں داخل ہیں جو آئین، سماجیات، سیاسیات، سائنس اور جغرافیہ سمیت دیگر موضوعات کی بنیادی معلومات طلبہ تک پہنچاتی ہیں۔(جیسا کہ میں نے لکھنؤ بورڈ کی ویب سائٹ پر دیکھا اور سمجھا، قطعی معلومات میرے پاس بھی نہیں ہیں کیونکہ بورڈ کے نصاب کی کاپی دستیاب نہ ہوسکی۔) مدارس کے فارغ اکثر ’بدھو‘ ہوتے ہیں۔ انھیں کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا۔ میں بھی انہیں میں سے ایک ہوں۔
قرآن کی متعدد آیات ہیں جن سے محاسبہ نفس کا حکم مستفاد ہوتا ہے۔ آپ جو بھی ہیں عالم، مفتی اور امام۔۔۔خدا کے لیے! ایک مرتبہ اپنا محاسبہ نفس کرو...! اگر خود کو اپنے اپنے مناصب کا اہل پاتے ہو تو بحال رہو! ورنہ کوئی اور کام کرو۔ اصلاح کا یہی عمل سب سے بہتر ہے کہ خود سدھر جاؤ اور یہ تصور کرو کہ دنیا میں ایک نا اہل انسان کم ہو گیا۔
لاک ڈاؤن اور نماز جمعہ
ایک طرف "جمعہ کی نماز" کے حوالے سے حضرت مفتی نظام الدین رضوی صاحب کا فتویٰ آتا ہے اور دوسری طرف اہل سنت (صوفی) میں گٹ بازی شروع ہو جاتی ہے۔ چند مزید علماء جن کی رائے مفتی نظام صاحب کے دلائل اور مشمولات سے مختلف ہے؛ وہ میدان میں نکل پڑے۔ عوام میں کنفیوژن اور انتشار پھیلانا شروع کر دیا۔ اگر حسن معاملہ کی بات کی جائے تو جتنے افراد نے بعد میں فتویٰ دیا انھیں مفتی نظام صاحب سے گفتگو کرکے ہی کوئی فتویٰ جاری کرنا چاہیے تھا۔ مگر یہاں امت اور مقاصد شرعیہ سے زیادہ اپنی جھوٹی شان اور دھندے کی پڑی رہتی ہے۔ کسے یہ فرصت کہ وہ امت کا بھی خیال کر لے۔واۓ تعجب! یہ سبھی مل کر مدارس کا ہنوز اپنا کوئی مشترکہ نصاب تک تشکیل نہ دے سکے۔
یہ بھی پڑھیں ’ٹانگ کشیدنhttps://abirti.blogspot.com/2020/03/drgah-ala-hazrat-announced-boycott-of.html
ویسے پھر بھی بڑی خیر ہوئی؛ اگر حشمتی میدان میں آ جاتے تو پھر مقابلہ نا قابل دید ہوجاتا۔
یہ بھی پڑھیں، آخری فتویٰhttps://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_21.html?m=1
اگر یہ تحریر کسی ایسے صاحب کے ہاتھ لگے جو مفتی نظام الدین صاحب تک اسے پہنچا سکتے ہوں تو برائے کرم ضرور پہنچا دیں۔ ان سے ہماری اپیل ہے کہ آپ جتنے بھی دارالقضاء (دو چار ہی اہم) ہیں، انھیں اعتماد میں لے کر فتویٰ جاری کریں۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت مشکل کام ہے مگر آپ سے امید ہے کہ آپ ایک فون کرکے ان کی رائے ضرور طلب کر لیا کریں گے اور عوام کو انتشار سے بچائیں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی عرض ہے کہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی پر بھی آپ کی جانب سے کوئی لیٹر یا فتویٰ جاری ہونا چاہیے۔ بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم شمالی ہند والے جنوبی ہند کے علماء کا کوئی خیال نہیں کرتے، نہ ہی ہمارے درمیان ان کا کوئی تذکرہ ہوتا ہے۔۔۔۔اسی طرح ہم نے نارتھ ایسٹ (آسام، تریپورہ، منی پور، میزورم اور میگھالیہ وغیرہ) کو بھی بالکل چھوڑ رکھا ہے۔
’سی اے اے احتجاج، اب آگے کیا؟ یہ بھی پڑھیںhttps://abirti.blogspot.com/2020/01/caaprotest_30.html
ہمیں خوب یاد ہے! ایک شخص نے از راہ مزاح ایک چھوٹا سا اعلان لکھ کر وائرل کر دیا تھا کہ فلاں فلاں صاحبان آج سی اے اے کا بائیکاٹ کریں گے۔۔۔تو برگزیدہ صاحبان نے تردیدی بیان جاری کر دیا۔ حالانکہ دل ہی رکھنے کو کہہ سکتے تھے کہ ہاں! ہم آئین کی حفاظت میں عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں "کیوں ڈراتے ہو! https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_19.html?m=1
دوسری جانب عرب ممالک ہمیشہ! جنگ پر آمادہ نظر آتے ہیں؛ جب اسرائیل کو جواب دینے کی بات آتی ہے تو سب دم دبا کر بیٹھ جاتے ہیں۔
نوٹ! میری اس تحریر کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ کسی کی حمایت یا مخالفت کی جائے۔۔۔میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے...کیونکہ بہت مشکل ہے زندگی اور بہت آسان ہے مر جانا۔۔۔پتے کی بات یہ ہے کہ اتحاد ہی زندگی ہے اور اختلاف موت ہے۔
یہ بھی پڑھیں "مرگ انبوہ جشن دارد" https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_22.html?m=1
فتویٰ
بغض و حسد کی دنیا، عقبیٰ میرے آگے
علماء کا ہے جو کھیل فتویٰ میرے آگے
ملت کے مسیحا تو، ملت کے قاتل دیکھ
ہے دوست قناعت کا قشقہ میرے آگے
العالمْ هو العاملْ‘فرما گئے غزالی’
بد خلق، بے عمل ہیں علماء میرے آگے
کورونا کی گھڑی میں، بے اعتنائی کیوں؟
مسجد بھی لاٹھی چارج سے رسوا میرے آگے
دیر و حرم کے جھگڑے مٹی میں مل ہی جائیں
سچا مبیں تو بن جا مسلماں میرے آگے
7, اپریل 2020
03:00 pm
نوٹ! یہاں مسجد سے مراد مقتدی اور مقتدیٰ ہیں۔
کورونا میگی نظم‘ یہ بھی پڑھیں https://abirti.blogspot.com/2020/03/nazm-maggi-corona.html




علما پر پولس افسران کے ہاتھ کھل گئے ہیں سارا قصور ہماری کم علمی کا ہی ہے۔
ReplyDeleteJi
Deleteہمیں ہی تگ و دو کرکے عظمت رفته بحال کرنا ہے۔
Deleteبحال کرنی ہے!
DeleteSahi likha hai. .. Aur axi ray hai. Ab hamare ambedkar nagar me Shabe Barat 8 aur 9 ko hogi.... Mufti Nizam sb ka 9 ko aelaan hai jbki Jame Ashraf aur Jamia Izharul Uloom ja 8 ko Aelaan hai
ReplyDeleteThis comment has been removed by the author.
Deleteजी हमारे गांव से भी फोन आया था...लोग बहुत परेशान हैं.
DeleteGood. ... Keep it up....
ReplyDeleteI always obey... Nashtar jo lagata hai woh dushman nhi hota
شکریہ ۔۔۔۔دعائے خیر میں یاد رکھیں۔
Deleteماشاء اللہ... اللہ آپکے زور قلم کو اور مضبوط اور ماثر کرے.
ReplyDeleteیہ مقالہ اگر سو صفحات پر بھی مشتمل ہوتا تو پڑھنے میں کوئی اکتاہٹ محسوس نہ ہوتی.. مبین بھائی آپ مستقبل میں نئ نسل کے لئے امیف ہیں.. اللہ آپکو سلامت رکھے اور آپکی صلاحیتوں کو اور اجاگر کرے..
آمین۔۔۔بہت شکریہ
Deleteکیسے وہ دکھائیں گے زمانے کو راستہ
ReplyDeleteمعلوم نہیں جس کو ہے کیا میرے آگے
واہ۔۔۔داد دینے کا انداز منفرد ہے۔ ماشاء اللہ
Deleteکیسے وہ دکھائیں گے زمانے کو راستہ
ReplyDeleteمعلوم نہیں جس کو ہے کیا میرے آگے
ہو علم تو پہھر کیا نہیں قبضے میں تمہارے
ReplyDeleteواہ ماشااللہ لاجواب تحریر اس تحریر میں علماء کرام کا ادب بھی صوفیوں کی جھلک بھی محبت کا پیغام بھی معاشرے کی اصلاح بھی نظر آرہےہیں
اللہ تعالی آپکے قلم میں مزید ترقی دے
آمین۔۔۔۔بہت شکریہ
Deleteماشاءاللہ بہت چشم کشاں تحریر
ReplyDeleteسب سے بڑی بات یہ کہ قارئین کیلئے علم میں اضافہ بھی ہوگا
یہ تحریر طلبہ کو عصریات کی طرف راغب کریگی
بس اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے عزیز مبین بھائی ہمت اور حوصلے کو سلامت رکھے و ترقی کے بام عروج کی طرف گامزن فرمائے
Aamin
Deleteکی
ReplyDeleteماشاءاللہ بہت خوب لکھا
ReplyDeleteمولی قدیر خوب دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطافرمایےآمین
مشورہ خوب ہے
گر قبول افتد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شرف
Aamin bahut shukriya Peer Sab!
Deleteآپ کی تحریر پر از معلومات ہے
ReplyDeleteزمانے کے تقاضوں کےساتھ زندگی بسر کرنے کا سلیقہ ہونا لازمی ہے, علمی انحطاط کا اس قدر زور ہے کہ اس کا کوئی حساب نہیں
علماء, خطباءاورمذہبی رہنماؤں نے جو آپ سی رویہ اختیار کیا ہے وہ اس دور میں بالکل موزوں نہیں میری مراد نماز جمعہ کے حوالے سے مفتی نظام الدین صاحب کی رائے کے مقابل میں جو جس گروہ نے فتوی باز ی کی ہے سے ہے, امت مسلمہ اس وقت صالح قیادت کی سخت محتاج ہے اگر اس ضرورت کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ کی گئی تو صورت حال خطرناک بھی ہوگی اور امت میں مایوسی کے بادل بھی سامنے آئیں گے
محترم مبین بھائی نے ایک کوشش کی ہے بیدار کرنے کی خدا کرے یہ کاوش ان کی کامیاب ہو
💓آپ کے یہ بزرگانہ کلمات تحریر سے کہیں زیادہ اچھی ہیں۔ بہت شکریہ حوصلہ افزائی کا۔
ReplyDeleteیقیناً آپ کی تحریر پڑھ کر ایسا لگا آپ نہیں بول رہے ہیں ۔بلکہ آپ کا درد بول رہاہے
ReplyDeleteبہت شکریہ۔۔۔۔💓
DeleteBuhat umda mazmoon h bhai
ReplyDelete💓 بہت شکریہ
Deleteجس سے جگر لالہ کوٹھنڈک ہو وہ شبنم*دریاوں کے دلجس سے دہل جائیں وہ طوفاں ط
ReplyDeleteتحریر سبک روی سے بڑھتی ہوئی ندی کی مانند محسوس ہوتی ھے اللھم زد فزد !!
Aamin
DeleteBahut shukriya 💓
ماشاء اللہ... اللہ آپکے زور قلم کو اور مضبوط اور ماثر کرے.
ReplyDeleteیہ مقالہ اگر سو صفحات پر بھی مشتمل ہوتا تو پڑھنے میں کوئی اکتاہٹ محسوس نہ ہوتی.. مبین بھائی آپ مستقبل میں نئ نسل کے لئے امیف ہیں.. اللہ آپکو سلامت رکھے اور آپکی صلاحیتوں کو اور اجاگر کرے..
Shukriya
Deleteماشاءاللہ.سبحان اللہ.الحمد للہ
ReplyDeleteبہت خوب بہت عمدہ حضور.
اللہ تعالیٰ آپ کی اس خدمات کو قبول ومقبول فرمائیں اور آپ کو صحت و سلامتی عطا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم
آپ سے عزیزانہ درخواست ہے کہ آپ اپنے مضامین کے ذریعہ عصر حاضر کے حالات سے ہمیں باخبر کرتے رہیں
ReplyDeleteعلماء حضرات کو یہ مضمون لازمی پڑھنا چاہیے
بہت شکریہ 💓
Deleteواہ بہت عمدہ و لاجواب تحریر ہے پروردگار اور ترقی عطا فرمائے
ReplyDeleteآمین
Delete