مذہب اسلام اپنے دامن پُربہار میں مکمل نظام حیات رکھتا ہے۔ جو قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ جن کا حصول، تمام مسلمانوں پر بقدر ضرورت فرض ہے ۔اسی نیک مقصد کی خاطر دینی مدارس کا وجود عمل میں آیا۔ جن میں مسلمان بچوں کو بااخلاق ،امن پسند ،مہذب شہری،قوم و ملت کا سچا خادم ، دین دار عالم ،خدا اس کے رسول ﷺ اور بندوں کے حقوق کا آشنا اور کامیاب انسان بنایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ’’ الجامعۃ الاسلامیہ‘‘ تقریبا چھ دہائی سے نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
تبت کے جھیل ’مانسرو‘ کے قریب سے نکل کر ’کَرْنالی ‘ ندی نیپال میں ہمالیہ سے بہتے ہوئے برہما گھاٹ ،بھارت کے مقام پر دریائے شاردا سے مل کر دریائے گھاگھرا میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ 315 میل طویل یہ دریا نیپال کی سب سے بڑی ندی ہے ۔ آیودھیا میں’’ سریو‘‘کہلاتی ہے پھردریائے گنگا میں مل جاتی ہے ۔ اسی دریائے گھاگھرا کے کنارے ملک کی یہ عظیم دینی درسگاہ، الجامعۃ الاسلامیہ شمالی ہند کے صوبہ ’اتر پردیش‘ کے قدیم ترین شہر فیض آباد سے تقریبا 18 کلو میٹر دور قصبہ روناہی میں لکھنؤ فیض آباد شاہراہ پر واقع ہے ۔جس کا قیام 1964ء میں مفکر اسلام حضرت علامہ قمر الزماں خان اعظمی (جنرل سیکریٹری ، عالمی تنظیم ’ورلڈ اسلامک مشن لندن‘) کی قیادت اور سربراہی میں مقامی مخلص حضرات خصوصا سید محفوظ الرحمن صاحب کے تعاون سے ہوا۔
یہ ادارہ مفکر اسلام کی سر پرستی و نگرانی اورحضرت قاری جلال الدین صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کی کاو شِ فکری اور دن را ت کی انہماک نیز ارکان، و اساتذۂ کرام کی پر خلوص خدمات کا نتیجہ ہے کہ اس عظیم ادارے نے قلیل مدت میں زبردست دینی و ملی اور علمی کارنامہ انجام دیاہے۔چنانچہ اس کے فارغین علما،فضلا ،حفاظ وقراء، ہند و بیرون ہند یعنی امریکہ ،برطانیہ ،ہالینڈ کے علاوہ بر اعظم افریقہ اور عرب کے ممالک میں دینی ،سماجی اور معاشی قیادت سے قوم و ملت کی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں نظم ’مدرسہ‘ https://abirti.blogspot.com/2020/03/nazm-madarsa.html
الجامعۃ الاسلامیہ کا نصابِ تعلیم لکھنؤ بورڈ کے نصابِ تعلیم سے ہم آہنگ نیز وقتا فوقتا ماہر دانشورانِ قوم اور بزرگ علما کے ذریعہ جامعہ کا ’نصاب بورڈ‘ ترجیحی طور پر، ترمیمات کرتارہتا ہے ۔تاکہ طلبہ آئینِ ہند ،موجودہ سیاسی اور معاشی نظام کو بخوبی سمجھ سکیں،نیز جدید ٹکنا لوجی کی وساطت سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ نیو میڈیا کا استعمال ملک و قوم کے فلاح و بہبودکے لیے کر سکیں۔یہاں طلبہ کے لیے سید محفوظ الرحمن لائبریری ،کمپیوٹر لیب،ہاسٹل ،نیز کھیل میدان ہے ۔
پورے ہندوستان سے طلبہ یہاں علم کی پیاس بجھانے کے لیے دیوانہ وار آتے ہیں ۔طلبہ کے لیے درس نظامی ،شعبہ حفظ، شعبہ قرأت ، شعبہ افتاء،شعبہ دعوت و تبلیغ ( قرب و جوار میں سرگرم طلبہ کی تنظیم) اور شعبہ نشر و اشاعت میں طلبہ کی صحافتی استعداد کو مہمیز دینے کے لیے جامعہ کا ’’الجامعہ ‘‘ماہنامہ ایک لمبے عرصے سے قوم کی سچی خدمت کرتے ہوئے جاری و ساری ہے۔طلبہ، اساتذہ کی نگرانی میں تقریری تربیتی ہفتہ واری پروگرام اور اچھوتے موضوعات پہ مذاکرہ ،مباحثہ کرتے رہتے ہیں ۔یہ مذاکرہ بہت خوب ہوتا ہے ۔2009-10 میں یہ کافی دلچسپ ہوتا تھا، نیزسالانہ تقریری ،تحریری مقابلہ آرائی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں ’خودی کا اثر، نعمان خاں رحمہ اللہ https://abirti.blogspot.com/2019/10/blog-post.html
مختلف محفل اور مختلف موضو عات پہ لیکچر یعنی توسعی خطبہ کے ذریعہ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے رغبت دلائی جاتی ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ یہاں طلبہ کا ذہن مثبت اورنہایت صاف و شفاف بنائے رکھنے کی مسلسل کوشش رہتی ہے ۔ طلبہ میں Tolerance دوسر وں کو قبول کرنے، ان کی بات ،خیال کو سن کر ان کی مخلصانہ رہنمائی کرنے کا خوگر بنایا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے فارغین صرف ’’اتحاد زندگی ہے اور اختلاف موت‘‘ کو ذہن میں رکھ کر’’زمین کے اوپر کام اور زمین کے نیچے آرام‘‘کرنا چاہتے ہیں ۔اختلافات میں نہ تو الجھتے ہیں اور نہ ہی انھیں ہوا دیتے ہیں ۔اختلافات سے قطعی طور پر دور رہتے ہیں۔وطن عزیز میں مذہبی اور سماجی امن و آشتی کے لیے شبانہ روز کوشاں رہتے ہیں۔
اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان کہ علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں چین جانا پڑے ۔اگر اس حدیث سے علم دین مراد ہے تو وہ صحابہ کے پا س پہلے ہی سے موجود تھا ۔اسی لیے یہ فکر الجامعۃ الاسلامیہ کے درو دیوار میں سیمینٹ کی طرح پیوست ہے کہ دین عمل کا نام ہے ، اسے محض علم و فن سے تعبیر کرنا ایک خطا ہے۔ پس ،ہندوستان کی مختلف یونور سٹیز مثلا ہمدر،علی گڑھ مسلم یونورسٹی نیز الازہر قاہرہ سے الجامعۃ الاسلامیہ کامعادلہ ہے اور طلبہ نئے جوش و جزبہ سے ان مقامات پہ پہنچ رہے ہیں اور اپنی تعلیمی سفر کو منزلِ مقصود سے ہمکنار بنا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں ’حضور بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی‘https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post.html
ملک کی عظیم دینی درسگاہ ،الجامعۃ الاسلامیہ ،یہ ایسا منفرد ،ادارہ ہے کہ جسے مدارس کی دنیا میں یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کے سابق پرنسپل حضرت علامہ نعمان خاں اعظمی علیہ الرحمہ کو دو حکومتی ایوارڈ ایک صدر جمہوریہ ہند اوردوسرا ،اتر پردیش حکومت کے ہا تھوں سے اپنی’’پرنسپل کی ذمہ داری‘‘کو ذمہ داری سے نبھانے کے سبب حاصل ہوا۔ روناہی قصبہ کے لوگ اور اساتذۂ کرام بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی مدرس ایک منٹ تاخیر سے آتا تو اُسے بھی وہ رجسٹر میں لکھ دیا کرتے تھے۔جب تک وہ رہے کسی کلرک کی کوئی ضرورت کبھی محسوس نہ ہوئی ۔وہ بذات خود اس ذمہ داری کو نبھاتے رہے۔مزید یہ کہ وہ سرکاری کوٹے سے مٹی کا تیل اور راشن حاصل کرتے رہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے دور کے طلبہ انھیں یا د کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم جس کی فرمائش کرتے تھے ہمیں کھانے میں وہی ملتا تھا۔وقت کے سخت پابند تھے۔تمام طلبہ کو ایسے پہچانتے تھے جیسے ماں اپنی اولاد کو پہچانتی ہے۔حضرت کپڑے ،ٹوپی ،پاجامہ،لنگی ،بال،چپل اور چلنے کے انداز سے طلبہ کو پہچان لیا کرتے تھے۔
الجامعۃ الاسلامیہ میں پرائمری سکول ہے ۔ جس میں سیکڑوں غریب بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔اب یہ پرائمری شعبہ شاہراہ ترقی پہ گامزن ہے۔ یعنی اس کے لیے نئی بلڈگیں زیر تعمیر ہیں اور تقریبا شرمندۂ تعبیر ہونے کو ہیں ۔لہٰذا پوری ملت اسلامیہ سے گزارش ہے کہ اپنا تعا ون جاری رکھیں اور دوسروں کو بھی اس جانب توجہ دلائیں اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ تمام وابستگا ن کو اللہ رب العزت اجرِ عظیم عطا فرمائے ۔آمین
یہ بھی پرھیں ’تعلیم: بدحالی کا حل‘ https://abirti.blogspot.com/2017/05/blog-post.html




Fakhr hai....Naz hai...
ReplyDeleteI Am proud of that i am getting education at al jame atul islmia raunahi and also i am proud of that i am a pupil of imamul ulma huzoor mufti Shabbir Hasn rizvi sahib qibla
ReplyDeleteMufiti sahib qibla has taught us lesson of islam and also said that served of millah and maslake aala hazrat always,so we should do this work
If happend any mistakes ,inform me because right now i am a student
Please remember me your prayers
Mohd Saqib Raza jamai
Allah Hafiz
Obviously dear!
DeleteIn Sha Allah...
Masha Allah
ReplyDeleteAllah azzawal Madare ilmi ko khuoob tarqqiyan ataa farmaye
Allah rozfuzun tarqqi ata farmaye ameen summa ameen
ReplyDelete