صاحبو! ایسا کیوں ہے کہ ہمارے یہاں تحریریں پرانی نہیں ہو تیں اور مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ ’تاکہ پتہ چل سکے کہ علماء مشائخ ناقا بل برداشت ہوچکے ہیں‘ کا تحریری سلسلہ شروع کروں مگر خوف اس بات کا ہے کہ وفور جزبات سے کام لوں گا تو خطا ہوگی۔ بے حد تکلیف دہ ہے کہ بہت سے وہ لوگ جنھیں میں کھونا نہیں چاہتا تھا، کھو چکا ہوں۔ وجہ ندارد ہے کیوں؟ مجھے بخوبی معلوم ہے کہ یہ سلسلہ شروع کرنے سے فائدے کا تو پتہ نہیں لیکن نقصان بہت ہوگا اور یہی خود کشی کے مثل وہ مجرمانہ اور باغیانہ خیال ہے جو ہر کسی کو خاموش رکھتا ہے۔ میں مجبور اور قدرے اشکبار ہوں کیونکہ اب میں اپنوں
میں بے گانہ اور گھر سے بے گھر ہونے کو تیار
ہوں...ع
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں _اقبؔال
ایسے نفسیاتی دباؤ میں کچھ اچھی تحریریں پڑھتا ہوں مگر آج پڑھنے کے ساتھ ٹائپ بھی کر رہا ہوں تاکہ آپ بھی ایک بارغور و خوض کرو کہ ہماری موجودہ قیادت کس قدر کھوکھلی ہے اور کچھ ہے بھی تو وہ غلطیاں بھی پرانی اور تاریخی کر رہی ہے۔ خیال رہے علم وہ بھی ہے جس میں
قرآن و حدیث کے اقتباس نہیں ہوتے۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق نے معروف مجاہد آزادی محمد علی جوہر پر ایک خاکہ ’چند ہم عصر‘ میں لکھا ہے۔ رامپور میں واقع جوہر یونیورسٹی انھیں کے نام سے منسوب ہے۔
یہ بھی پڑھیں ’آخری فتویٰ‘ https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_21.html?m=1
مولانا محمد علی مرحوم
1933
ہندوستانِ جدید میں جو انگریزی اور مغربی خیالات کا مواد ہے، مولانا محمد علی جوہر مرحوم ’عجیب و غریب‘ شخص ہوئے ہیں۔ وہ مختلف، متضاد اور غیر معمولی اوصاف کا مجموعہ تھے۔ اگر انھیں ایک آتش فشاں پہاڑ یا گلیشیر سے تشبیہ دی جائے تو کچھ زیادہ مبالغہ نہ ہوگا۔ ان دونوں میں عظمت و شان لیکن دونوں میں خطرہ اور تباہی بھی ہے۔
وہ انگریزی کا بہت بڑا
ادیب، زبردست انشاء پرداز اور اعلیٰ درجے کا مقرر تھا لیکن جب لکھنے اور
بولنے پر آجاتا تو اعتدال اور تناسب دونوں نظروں سے اوجھل ہوجاتے تھے اور
انمول جواہر پاروں کے ساتھ کنکر اور روڑے بھی بے تکلف چلے آتے تھے۔ وہ
آزادی کا دلدادہ اور جبر و استبداد کا پکَّا دشمن تھا۔ لیکن اگر کبھی اس کے
ہاتھ میں اقتدار آتا تو وہ بہت بڑا جابر اور مستبد ہوتا۔ وہ محبت و مروت
کا پتلا تھا اور دوستوں پر جاں نثار کرنے کے لیے تیار رہتا تھا‘ لیکن بعض
اوقات ذرا سی بات پر اس قدر آگ بگولا ہوجاتا تھا کہ دوستی اور محبت طاق پر
دھری رہ جاتی تھی۔ دوست بھی اس کے جاں نثار اور فدائی تھے لیکن اس طرح بچتے
تھے جیسے آتش پرست آگ سے بچتا ہے۔ وہ اپنے رفیقوں اورہمکاروں کے ساتھ بڑی
شفقت اور عنایت سے پیش آتا تھا اور طرح طرح کے سلوک کرتا تھا۔ لیکن جب
بگڑتا تو آپے سے باہر ہو جاتا تھا‘ اس وقت اسے نہ کسی کی عزت و آبرو کا
خیال رہتا تھا نہ اپنے کام کا۔ اسی لیے وہ اپنے ہمکاروں سے نباہ نہ سکا اور
وہ لوگ جنھیں وہ چن چن کر لایا تھا آخر کار ایک ایک کرکے الگ ہوگئے۔ یوں
تو ایک مدت تک وہ عزیز مذہب سے بیگانہ رہا اور جب ادھر جھکا تو ایسا کہ بڑے
بڑے جگادھری مولوی اور کٹَّر مُلَّا بھی اس کے سامنے ہیچ تھے۔ وہ جب کبھی
کسی کام کو اٹھاتا تو بڑی شان شکوہ سے اٹھاتا اور بڑی بڑی تیاریاں کرتا تھا
لیکن تکمیل کو پہنچانا اس کی طبیعت میں ہی نہیں تھا۔ ’کامریڈ‘ کس شان سے
نکلا۔ قدر بھی اس کی وہ ہوئی جو شاید ہی کسی اخبار کی ہوئی ہو۔ اپنے پرائے
سب اسے سر آنکھوں پر رکھتے تھے لیکن جو اس کاحشر ہوا وہ سب کو معلوم ہے۔
مسلم نیشنل یونیورسٹی (جامعہ ملیہ اسلامیہ) کی بنیادجس زوروشور اورشدومد کے
ساتھ ڈالی گئی اس کا حیرت انگیز منظر اب تک ہماری نظروں کے سامنے ہے‘اس
وقت قومیت اور آزادی کی کھولن انتہائی نقطے تک پہنچ گئی تھی۔ اسی ہفتے جب
یونیورسٹی کے نصاب تعلیم نظم و نسق پر غور کرنے کے لیے ان کے رفقاء کی
کمیٹی ہوئی ہے تو وہ سماں ہم کبھی نہیں بھول سکتے’مجذوب کی بڑ‘ بولتے اور
سنتے آتے تھے‘ لیکن اس روز اپنے کانوں سُنی اور بڑی عبرت ہوئی۔ ان کے بعض
سنجیدہ اور صاحب نظر رفیق جو اس مجلس میں شریک تھے، ششدر و حیران تھے کہ
یہ کیا معاملہ ہے اور بے بسی کے ساتھ ایک دوسرے کا منھ تکتے تھے۔ وہ‘ اس
وقت اس خیال میں مست تھے (اور انھیں اس کا پورا یقین تھا)کہ کوئی دن جاتا
ہے کہ ہندوستان ان کے قدموں کے تلے ہوگا اور اس کی حکومت کی باگ ان کے قوی
ہاتھوں میں ہوگی۔ اس خیال سے ان کا اور ان سے زیادہ ان کے برادر بزرگ (شوکت علی) کا
دماغ بہک سا گیا تھا اور جو بات اس وقت ان کے منھ سے نکلتی تھی اس میں ایک
عجیب مستانہ ادا اور بے تکا پن ہوتا تھا۔ خلافت کا ذکر جتنا کم کیا جائے
بہتر ہے۔ اس کا غلغلہ صورِ اسرافیل کی طرح ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک
پہنچ گیا۔ اور وضیع، شریف، عالم و عامی‘ ہندو اور مسلمان سب ہی اس کی لپیٹ
میں آگئے۔ اس میں شک نہیں کہ اس کی وجہ سے حمیت و جوشِ قومی کی لہر سارے ملک
میں پھیل گئی تھی لیکن جو انجام ہوا وہ بے کہے سب کو معلوم ہے۔ اب یہ ایک
اسم ہے بلا مسمّٰی۔ سانپ نکل گیا مگر ہم ابھی تک لکیر پیٹے جارہے تھے۔ محمد
علی مرحوم اس شخصیت اور قابلیت کے آدمی تھے کہ وہ اپنے کاموں کے لیے گھر
بیٹھے ہزاروں لاکھوں روپے جمع کر سکتے تھے اور کرتے تھے‘ لیکن وہ اس بے
دردی‘ بے پروائی‘اور غیر ذمہ دارانہ طور پر اسے صرف کرتے تھے کہ ان کے کام
بھی برباد ہو جاتے تھے۔ ہم میں (خاص کر یوپی والوں اور خصوصاً مسلمانوں
میں) اب تک زمیندار کی شان قائم ہے جو بادشاہی شان کی نقل ہے۔ ہم انتظام
کرنا اور اعتدال کی شان کو ملحوظ رکھنا بالکل نہیں جانتے‘ ہم صرف ایک ہی
بات جانتے ہیں لوٹنا اور لٹانا۔
محمد علی
مرحوم ہر اعتبار سے ایک دیو پیکر شخص تھا۔ اس کے رفقاء اور اس کے ہم عصر اس
کے سامنے پودنے تھے۔ اور جنھوں نے زندگی کی ہر منزل میں اسے دیکھا اور اس
کا ساتھ دیا تھا۔ فرماتے تھے کہ’محمد علی کو لیڈری نے تباہ کیا‘ اس میں
مطلق شبہ نہیں کہ وہ اپنے ہم عصروں میں سب سے زیادہ لیڈری کے قابل تھا
بشرطیکہ اسے اپنے نفس پر قابوہوتا۔ وہ جس طرح بیماری میں پرہیز پر قابو
نہیں رکھتا تھا اسی طرح ہر معاملے میں جوش کے وقت وہ اپنے اختیار سے باہر
ہوجاتا۔
محمد علی کی زندگی بہت سبق آموز اور نہایت عبرت انگیز ہے۔ اس کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ
ہم میں بہتر سے بہتر اور قابل سے قابل شخص بھی ابھی بہت پیچھے ہے۔ ہماری
ناکامی کے اسباب خود ہم میں موجود ہیں۔ آج جس شی کے لیے ہم لڑ رہے ہیں‘
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید ہم اس کے قابل نہیں۔ ہم جب اپنے نفسوں کا جائزہ
لیتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہماری سیرتیں خام، ہماری طبعیتیں ناتربیت
یافتہ اور ہمارے نفس چور ہیں۔ ہمیں ابھی بہت سی ٹھوکروں اور بہت کچھ تربیت
کی ضرورت ہے۔ جس چیز کی ہم خواہش کر رہے ہیں، اس کے لیے پختہ سیرت اور
اعتدالِ طبع کی ضرورت ہے اور وہ ابھی ہم سے کوسوں دور ہے۔
دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد_جوہر
یہ بھی پڑھیں سورۂ رحمن کا منظوم ترجمہ https://abirti.blogspot.com/2020/04/surah-ar-rahman-translation-in-urdu.html
' मुहम्मद अली को लीडरी ने तबाह किया'
जानिए! क्यों?
साहिबो! ऐसा क्यों है कि हमारे यहां तहरीरें पुरानी नहीं होतीं और मसाइल जूं के तूं रहते हैं। 'ताकि पता चल सके कि उल्मा मशाइख़ नाक़ाबिले बर्दाश्त हो चुके हैं' का तहरीरी सिलसिला शुरू करूँ मगर ख़ौफ़ इस बात का है कि वफ़ूरे जज़बात से काम लूँगा तो ख़ता होगी। बेहद तकलीफ़-दह है कि बहुत से वो लोग जिन्हें मैं खोना नहीं चाहता था, खो चुका हूँ। वजह नदारद है क्यों? मुझे बख़ूबी मालूम है कि ये सिलसिला शुरू करने से फ़ायदे का तो पता नहीं लेकिन नुक़्सान बहुत होगा और यही ख़ुदकुशी के मिसल रस्म वो मुजरिमाना और बाग़ियाना ख़्याल है जो हर किसी को ख़ामोश रखता है। मैं मजबूर और क़दरे अश्कबार हूँ क्योंकि अब मैं अपनों में बेगाना और घर से बे-घर होने को तैयार हूँ।
यक़ीं मुहकम अमल पैहम मुहब्बत फ़ातेह-ए-आलम
जिहाद-ए-ज़िंदगानी में हैं ये मर्दों की शमशीरें_इक़बाल
ऐसे नफ़सियाती (ज़हनी) दबाव में कुछ अच्छी तहरीरें पढ़ता हूँ मगर आज पढ़ने के साथ टाइप भी कर रहा हूँ ताकि आप भी एक-बार सोच विचार करो कि हमारी मौजूदा लीडरशिप किस क़दर खोखली है और कुछ है भी तो वो गलतियां भी पुरानी और तारीख़ी कर रही है। ख़्याल रहे इल्म वो भी है जिसमें क़ुरआन-व-हदीस के इक़तिबास (कोटेशन) नहीं होते।
बाबा ए उर्दू मौलवी अबदुलहक़ ने मारूफ़ मुजाहिद ए आज़ादी मुहम्मद अली जौहर पर एक ख़ाका 'चंद हमअसर' में लिखा है। रामपूर स्तिथ जौहर यूनीवर्सिटी उन्हीं के नाम पर है।
मौलाना मुहम्मद अली मरहूम
1933
हिंदूस्तान-ए-जदीद में जो अंग्रेज़ी और मग़रिबी (पश्चिमी) ख़्यालात का मवाद (कंटेंट) है, मौलाना मुहम्मद अली जौहर मरहूम 'अजीब-ओ-ग़रीब शख़्स हुए हैं। वो मुख़्तलिफ़, मुतज़ाद (कंट्राडिक्शन, विरोधाभास) और ग़ैरमामूली औसाफ़ (खूबियों) का मजमूआ थे। अगर उन्हें एक आतिश-फ़िशाँ (ज्वाला) पहाड़ या ग्लेशियर से तशबीह (मिसाल) दी जाये तो कुछ ज़्यादा मुबालग़ा (बढ़ा कर बताना) न होगा। इन दोनों में अज़मत-ओ-शान लेकिन दोनों में ख़तरा और तबाही भी है।
वो अंग्रेज़ी का बहुत बड़ा अदीब (साहित्यिक), ज़बरदस्त इंशा-ए-पर्दाज़ (लिखाड़ी) और आला दर्जे का मुकर्रिर (वक्ता) था लेकिन जब लिखने और बोलने पर आ जाता तो एतिदाल (बैलेंस) और तनासुब दोनों नज़रों से ओझल हो जाते थे और अनमोल जवाहर पारों के साथ कंकर और रोड़े भी बे-तकल्लुफ़ चले आते थे। वो आज़ादी का दिलदादा और जबर-ओ-इस्तिबदाद (ज़ुल्म) का पक्का दुश्मन था। लेकिन अगर कभी उस के हाथ में इक़तिदार (गवर्नमेंट) आता तो वो बहुत बड़ा जाबिर और मुस्तबिद (ज़ालिम) होता। वो मुहब्बत-ओ-मुरव्वत का पुतला था और दोस्तों पर जां निसार करने के लिए तैयार रहता था लेकिन बाज़-औक़ात (कभी कभी) ज़रा सी बात पर इस क़दर आग बगूला हो जाता था कि दोस्ती और मुहब्बत ताक़ पर धरी रह जाती थी। दोस्त भी उस के जां निसार और फ़िदाई थे लेकिन इस तरह बचते थे जैसे आतश परस्त (पारसी) आग से बचता है। वो अपने रफ़ीक़ों और हमकारों (साथ काम करने वालों) के साथ बड़ी शफ़क़त और इनायत से पेश आता था और तरह तरह के सुलूक करता था। लेकिन जब बिगड़ता तो आपे से बाहर हो जाता था उस वक़्त उसे ना किसी की इज़्ज़त-ओ-आबरू का ख़्याल रहता था ना अपने काम का। इसी लिए वो अपने हमकारों (साथ काम करने वालों) से निबाह न सका और वो लोग जिन्हें वो चुन-चुन कर लाया था आख़िरकार एक एक करके अलग हो गए। यूं तो एक मुद्दत तक वो अज़ीज़ मज़हब (इस्लाम) से बेगाना रहा और जब उधर झुका तो ऐसा कि बड़े बड़े जोगाधरी मौलवी और कट्टर मुल्ला भी उसके सामने हेच थे। वो जब कभी किसी काम को उठाता तो बड़ी शान शिकोह से उठाता और बड़ी बड़ी तैयारीयां करता था लेकिन तकमील को पहुंचाना उस की तबीयत में ही नहीं था। 'कामरेड' (अंग्रेज़ी अखबार) किस शान से निकला। क़दर भी उसकी वो हुई जो शायद ही किसी अख़बार की हुई हो। अपने पराए सब उसे सर आँखों पर रखते थे लेकिन जो उसका हश्र हुआ वो सबको मालूम है। मुस्लिम नेशनल यूनीवर्सिटी (जामिआ मिल्लिया इस्लामीया) की बुनियाद जिस ज़ोर-ओ-शोर और शद-ओ-मद के साथ डाली गई उस का हैरत-अंगेज़ मंज़र अब तक हमारी नज़रों के सामने है' उस वक़्त क़ौमियत (राष्ट्रवाद) और आज़ादी की खौलान इंतिहाई नुक़्ते तक पहुंच गई थी। इसी हफ़्ते जब यूनीवर्सिटी के निसाब ए तालीम (सिलेबस) नज़म-ओ-नसक़ (एडमिनिस्ट्रेशन) पर ग़ौर करने के लिए उनके रोफ़क़ा (साथियों) की कमेटी हुई है तो वो समां हम कभी नहीं भूल सकते 'मजज़ूब (जिसे होश न हो) की बड़' बोलते और सुनते आते थे लेकिन उस रोज़ अपने कानों सुनी और बड़ी इबरत हुई (सीख मिली)। उनके बाज़ (कुछ) संजीदा और साहिब-ए-नज़र (सूझ बूझ वाले) रफ़ीक़ जो इस मजलिस में शरीक थे, शश्दर-ओ-हैरान थे कि ये क्या मामला है और बेबसी के साथ एक दूसरे का मुँह तकते थे। वो उस वक़्त इस ख़्याल में मस्त थे (और उन्हें इसका पूरा यक़ीन था) कि कोई दिन जाता है कि हिन्दोस्तान उनके क़दमों के तले होगा और इस की हुकूमत की बाग उनके क़वी (मज़बूत) हाथों में होगी। इस ख़्याल से उनका और उनसे ज़्यादा उनके बिरादर ए बुज़ुर्ग (शौकत अली) का दिमाग़ बहक सा गया था और जो बात उस वक़्त उनके मुँह से निकलती थी ,उस में एक अजीब मस्ताना अदा और बे-तुका पन होता था। ख़िलाफ़त का ज़िक्र जितना कम किया जाये बेहतर है। इस का ग़लग़ला सूरे (संख) इसराफ़ील की तरह मुल्क के एक सिरे से दूसरे सिरे तक पहुंच गया। और वज़ीअ, शरीफ़, आलम-ओ-आमी हिंदू और मुस्लमान सब ही उस की लपेट में आ गए। इस में शक नहीं कि इस की वजह से हमीयत-ओ-जोश-ए-क़ौमी की लहर सारे मुल्क में फैल गई थी लेकिन जो अंजाम हुआ वो बे-कहे सबको मालूम है। अब ये एक इस्म (नाम) है बिला मुसम्मा (वस्तु)। साँप निकल गया मगर हम अभी तक लकीर पीटे जा रहे थे।
मुहम्मद अली मरहूम इस शख़्सियत और क़ाबिलीयत के आदमी थे कि वो अपने कामों के लिए घर बैठे हज़ारों लाखों रुपय जमा कर सकते थे और करते थे लेकिन वो इस बेदर्दी' बेपर्वाई'और ग़ैर ज़िम्मा दाराना तौर पर उसे सर्फ (खर्च) करते थे कि उनके काम भी बर्बाद हो जाते थे। हम में (ख़ासकर यूपी वालों और ख़ुसूसन मुस्लमानों में) अब तक ज़मींदार की शान क़ायम है जो बादशाही शान की नक़ल है। हम इंतिज़ाम करना और एतिदाल (बैलेंस) की शान को मलहूज़ रखना बिलकुल नहीं जानते, हम सिर्फ एक ही बात जानते हैं लूटना और लुटाना।
मुहम्मद अली मरहूम हर एतबार से एक देव पैकर शख़्स था। उसके रोफ़क़ा और उसके हमअसर (ज़माने वाले) उस के सामने पोदनते (उगते हुए पौदे की तरह) थे। और जिन्होंने ज़िंदगी की हर मंज़िल में उसे देखा और उस का साथ दिया था। फ़रमाते थे कि 'मुहम्मद अली को लीडरी ने तबाह किया।' इस में मुतलक़ शुबहा (शक) नहीं कि वो अपने हम-असरों (ज़माने वालों) में सबसे ज़्यादा लीडरी के काबिल था बशर्ते कि उसे अपने नफ़स (आप) पर क़ाबू होता। वो जिस तरह बीमारी में परहेज़ पर क़ाबू नहीं रखता था उसी तरह हर मामले में जोश के वक़्त वो अपने इख़तियार से बाहर हो जाता था
मुहम्मद अली की ज़िंदगी बहुत सबक़ आमोज़ और निहायत इबरत-अंगेज़ है। उसको पढ़ कर मालूम होता है कि हम में बेहतर से बेहतर और काबिल से काबिल शख़्स भी अभी बहुत पीछे है। हमारी नाकामी के अस्बाब (कारण) ख़ुद हम में मौजूद हैं। आज जिस शै (चीज़) के लिए हम लड़ रहे हैं ऐसा मालूम होता है कि शायद हम उसके काबिल नहीं। हम जब अपने नफ़सों का जायज़ा लेते हैं तो ये मालूम होता है कि हमारी सीरतें (आदतें) ख़ाम (कच्ची), हमारी तबईतें (मिज़ाज, मन) न तरबियत याफता और हमारे नफ़स चोर हैं। हमें अभी बहुत सी ठोकरों और बहुत कुछ तरबियत की ज़रूरत है। जिस चीज़ की हम ख़ाहिश (चाहत) कर रहे हैं, उस के लिए पुख़्ता सीरत और एतिदाल-ए-तबा (बैलेंसिव मिज़ाज) की ज़रूरत है और वो अभी हम से कोसों दूर है।
दौरे हयात आएगा दौरे कज़ा के बाद
है इबतेदा हमारी तेरी इंतेहा के बाद
कतले हुसैन असल में मर्गे यजीद है
इस्लाम जिंदा होता है हर कर्बला के बाद_जौहर
@MobeenJamei
+917618049339
Watch..."Apathy | संवेदनहीन | بے حسی |" https://youtu.be/bsNlHcbrVW0





جوہر کےخاکہ میں جو ان کی شخصیت کی عکاسی کی ہے مولوی صاحب نے اور جوہر کا جو طرز مزاج اس خاکے کے توسط سے ظاہر ہوتا ہے وہ یقینا فائدہ کم نقصان کے اندیشے کو زیادہ فراہم کرتا ہے
ReplyDeleteلیکن آپ سے گزارش ہے کہ آپ فائدہ زیادہ اور نقصان کم سے کم ہو یہ راستہ اختیار کیجئے گا
بالکل سوجھ بوجھ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
Deleteہمیں فی الوقت اتحاد پر زور دینا چاہیے۔ باقی ماندہ سماجی برائیوں کا سد باب کیا جائے گا بشرطیکہ ہم سوئیں نہ۔ بس۔
Ji
Deleteواہ۔۔۔اچھی کوشش!
ReplyDeleteمبین بھائی لگے رہیے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
Shukria Janab!
DeleteVery brilliant
ReplyDeleteLage rahu Bhai
ReplyDelete