Friday, May 1, 2020

poetry on whatsapp #covid19pandemic

در واٹس ایپ

ٹویٹر بہترین ہتھیار مگر احتیاط سے!https://abirti.blogspot.com/2020/04/twitterindiamuslim-ulma.html?m=1

لن ترانی لن ترانی، خواہ مخواہ کی گفتگو
سارا دن گذرا عبث میں، چاہ تھی نہ جستجو

مصلحت سے تیر چھوڑیں، تیرگی بڑھتی ہی جائے
نور خواہی اس طرح سے عام ہے اب کو بہ کو

ہر تباہی کا جہاں میں ایک ہی انداز ہے
سبزہ ہی سبزہ نظر میں، ساون برسے چار سو

جلسے ہوں جب رات میں تو شعبدہ ہونا ہے طے
خیر سے ہو، دن میں ہو تو بات ہوگی خوبرو

اب زمینداری ہے صاحب، پیر لوگوں کی یہاں 
مولوی سارے لَٹَھیت ہیں، بعض تو ہیں پالتو

ابنِ پیرے، پیر ہووے، ابنِ عالم کچھ ہو اور
کیا وجہ ہے، کیا خبر ہو، کون چھیڑے گفتگو

خانقاہیں اب چڑھاوا، حضرتِ انساں کو دیں
وقتِ مشکل میں بچا لیں مفلسی کی آبرو

تنگ ذہنی سے نکل کر ننگ ذہنی میں یہاں 
سب یہ کہتے ہیں انا میں، میں ہوں میں اور تو ہے تو

بے وجہ ہم نے لگایا تھا گلے وَٹسَپ مبؔیں
تھی وجہ اچھی مگر تھی، وہ بحث ہی فالتو

نوٹ: الا ما شاء اللہ کی قید بہرحال ہے!

اب نظم کے بعد نثر یعنی چند گذارشات بھی ملاحظہ فرما لیں!

 یہ بات درست ہے کہ اس وقت بازار سے بیزار رہا جائے اور خریداری نہ کی جائے مگر یہ لکھ کر کہ ’وہ آپ سے سبزی خریدنے کو تیار نہیں ہیں تو آپ کیوں ان کی چیزیں خریدوگے؟' غلط ہے۔ عید کی خریداری نہ کریں بلکہ کورونا بحران میں اپنے پیسے بچا کر رکھیں‘....معلوم نہیں کہ حالات کب بہتر ہوں گے...بہاریں کب آئیں گی!


آپ کو احساس نہیں کہ تند روی میں آپ کس قدر نقصان کر رہے ہیں۔ جو قابل نفریں سماج دشمن افراد ہیں‘ انھیں یہی مواد چاہیے تاکہ وہ سادہ لوح شخص (سناتنی) کو رام کر سکیں کہ وہ بھی سلگتی چنگاری کا حصہ بنے، شعلے کی طرح بھڑک اٹھے اور پھرخاک ہوجائے۔ ساتھ ہی وطن عزیز بھارت کو بھی خاکستر کر دے۔ یاد رہے! آج یہ جو نفرت کا پہاڑ ہے‘ ایک دن کی پیدا کردہ نہیں بلکہ تقریباً ایک صدی پیہم ریشہ داوانی کا حاصل ہے لہٰذا اس کا ازالہ بھی ایک جھٹکے میں ہرگز ممکن نہیں۔ بڑے احتیاط سے سوشل میڈیا کا استعمال کریں اور میٹھے میٹھے زہر سے بھی بچیں اور بچائیں؎

آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے 
بجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے
کیف بھوپالی

بعض مدارس ایسے ہیں کہ ان کے پاس ایک دہائی سے زیادہ کا بجٹ موجود ہے۔ انھیں چاہیے کہ چھوٹے مدارس کی مالی امداد کریں تاکہ وہ بند نہ ہوں۔ ساتھ ہی عوام میں اپیل کریں کہ وہ اپنے زکوٰۃ و فطرات اور عطیات زیادہ سے زیادہ (حسب مصارف زکوٰۃ) اپنے  مستحق عزیز و اقارب، محلے، گاؤں، شہر اور غریب بھائیوں کو دیں‘ ان کی مدد کریں۔ یہ اتنا مشکل وقت ہے کہ ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ انسان کن تکالیف اور مصائب و آلام سے گذر رہا ہے۔ مقاصد شرعیہ میں ضروریہ کے تحت حفظ دین پہلے بیان کیا گیا مگر میں سجھتا ہوں کہ حفظِ جان پہلے ہے کیونکہ جب زندگی ہوگی تبھی تو دین پر عمل ہوگا اور اس کی حفاظت ہوگی۔ دین دنیا کے لیے ہے بعد الموت تو حساب (یوم الدین) ہے لہٰذا اپنی اور تمام جانوں کی حفاظت کریں....’جان ہے تو جہان ہے‘۔


ایک نہیں‘ متعدد خبریں موصول ہورہی ہیں کہ بہت سے علاقوں میں لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ ہر شخص یہ یقینی بنائے کہ وہ اپنی جان کی حفاظت کرے گا۔ 

صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ’كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْؤُوْلٌ عَنْ رَّعِيَّتِهِ‘ ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اگر آپ کی وجہ سے کسی کی جان جاتی ہے تو آپ سے اس ہلاکت کے بارے میں سوال ہوگا!

فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ‘ اگر کسی نے ذرہ برابر اچھائی یا برائی کی تو وہ اسے بروز قیامت دیکھے گا (سورہ زلزال)۔ یومِ حساب سے خوف کریں۔ ’إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا‘ اللہ تم سب پر نگراں ہے (سورہ النساء)۔ جب رب تعالیٰ نگراں ہو، تو اس کی نگرانی سے کون بچ سکتا ہے! اپنا اور اہل خانہ کا خاص خیال رکھیں!

इसे हिंदी में पढ़ने के लिए क्लिक करें http://abirti.blogspot.com/2020/05/hindi-poetry-on-whatsapp-covid19pandemic.html?m=1

غزل ’وقت ظہور عشق بھی بعثت سے کم نہیں‘https://abirti.blogspot.com/2020/03/blog-post.html?m=1

یوں بے حسی کےداغ مٹاتا چلا گیا
آتا رہا جودل میں سناتا چلا گیا

@MobeenJamei
mobeenahmad.abirti@gmail.com

9 comments:

  1. ما شاءاللہ بہت عمدہ آپ کا ہرپیغام دل کو چھو لینے والا ہوتا ہے

    ReplyDelete
  2. کیا بتائیں حال کیا ہے کر کے تم سے گفتگو

    ہر گھڑی رہتی ہے واللہ اب تمھاری جستجو

    بات کر کے یہ ہوا احساس ہم کو ہے میاں

    آپ اچھے آپ سچے آپ تو ہیں نیک خو

    اے مبیں تم ساتھ دینا جب ملے مشکل مجھے

    اب تمھیں سونپی ہے ہم نے عزت و آبرو

    🖊شاداب قادری بارہ بنکوی

    ReplyDelete
  3. Plz ise hindi language me bhi share kiya jaye

    ReplyDelete