Saturday, November 28, 2020

Mufti Shabbir Hasan Razvi first Urs 2020

 ’بڑے مفتی صاحب نے دبے پاؤں آنے والیں منفی تحریکات کو داب دیا تھا‘

فی زماننا بہت سے چمچ؛ بطور چمچہ فروغ پانے کو ہیں لہذا وہ مذہبی سیاست کو روا جانتے ہیں اور اس میں خوں آشام سرمایہ داریت کے طرفدار بن بیٹھے ہیں۔ یہ وہی سرمایہ داریت ہے جسے سوائے اپنی؛ کسی اور کی خبر نہیں رہتی ؛ اس پر طرہ یہ کہ وہ اپنی اس جہالت کو "وحدۃ الوجود" سے تعبیر کرتی ہے۔


بہتوں کو اسی حسرت میں دنیا چھوڑ کر جانا پڑا کہ اعلیٰحضرت کی تحریروں کی تصحیح کرنا ہے!

بہتیرے یہ کہتے چل بسے کہ کتب اعلیٰحضرت کو مرجع کی حیثیت کیونکر دی جائے۔ اور یہ بڑبڑ تو ہنوز جاری ہے کہ ہر بات میں اعلیٰحضرت اعلیٰحضرت کیوں کرنا؟ اتنا ہونے کے باوجود ہر نام سے پہلے "محمد" اور تقریباً ہر نام کے آخر میں "رضوی" نظر آنا عام ہو گیا۔ یہ اعلیٰحضرت کو عوامی خراج عقیدت ہے کیونکہ انہوں نے نام سے پہلے "محمد" لکھنے کا دفاع کیا تھا۔


پھر دبے پاؤں نسبت چھوڑ کر مدرسے کا ٹائیٹل لکھا جانے لگا اور آج نام میں ٹائیٹل کا لاحقہ تو لازم ہے مگر نسبت، ندارد۔


ہمیں لگتا ہے کہ یہ محض موجودہ دور کا مسئلہ ہے۔  نہیں! یہ بہت پہلے ہوا چاہتا تھا مگر کچھ مرد میدان تھے جنہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، اساتذہ، علماء اور مشائخ "کسے باشد" ہر کسی کو دنداں شکن جواب دیا۔ انہی میں ایک امام العلماء، شہریار درسگاہ، جامع معقولات و منقولات، حضرت علامہ مفتی شبیر حسن رضوی "بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی" نور اللہ مرقدہ بھی ہیں۔ ایک صدی سے بھی زائد کا عرصہ گذر چکا، دبے پاؤں آنے والیں منفی جذبات پر مبنی تحریکات کی چال آج بھی دبے پاؤں اس لیے ہے کیونکہ انھیں بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی جیسی شخصیات نے داب دیا تھا۔


کار عناد و نفاق دراز ہے! نام اور حوالے تحریر کرنا باعث تفرقہ بازی ہے۔۔۔آپ کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔ آپ یہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ میں اتنی "رس ملائی" کیوں کر رہا ہوں؟ تو پہلا جواب یہ ہے کہ آپ زندگی بھر کام کیجیے مگر مدارس، خانقاہ اور خود اپنے شاگردوں کے پاس بھی آپ کی آخری رسومات میں شرکت کرنے اور آپ کو یاد کرنے کی فرصت نہیں ہوتی۔ یہ بھرم ہے، کچھ حد تک سچ بھی مگر مکمل سچ نہیں۔


دوسرا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر آپ خانقاہی فرد نہیں ہیں یا متعدد خلافتیں ملنے کے باوجود آپ نے پیری مریدی شروع نہیں کی ہے تو ایسی صورت میں بھی آپ کو "خراج فراموشی" ملنا طے ہے۔ کسی کے پاس آپ کو یاد کرنے کی فرصت نہیں ہوگی مگر میں اپنی چھوٹی سی کوشش سے یہ باور کرواتا ہوں کہ یہ ہرگز ممکن نہیں..."ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین"۔



بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی فرمایا کرتے تھے،"انتفاء جز انتفاء کل کو مستلزم ہے"۔ یہ محض کوئی منطقی جملہ نہیں بلکہ اعلیٰ ترین سفارتی بیان ہے مثلاً بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی سواد اعظم کا جز ہیں، اور جز کی نفی کرنا یعنی انھیں فراموش کرنا پورے سواد اعظم کو فراموش کرنا ہے۔

یہ بھی کہا کرتے تھے،"اعلیٰحضرت کی کتابوں کے نام پڑھنا سیکھ لو، عالم خود بخود بن جاؤ گے".

"جس کے پاس جتنا علم ہے، وہ شخص اعلیٰحضرت سے اتنا ہی محبت کرتا ہے".

"کام کرنے کے لیے اچھی تنخواہ نہیں، اچھے لوگوں کی ضرورت ہے، اچھے لوگوں کی پرکھ ہونی چاہیے۔ کام اچھا ہوگا تو تنخواہ خود بخود اچھی ہو جائے گی".


جس طرح امام احمد رضا عشق محمدی (صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم) کے حوالے سے زندہ باد ٹھہرے، اسی طرح بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی عشق رضوی کے حوالے سے زندہ یادگار ٹھہرے...

اب بھی اگر نہیں سمجھے تو ہمیں انہی کی بولی میں آپ سے کہنا ہوگا "ابے! جب بات نہیں سمجھتا تو کتاب کیا خاک سمجھے گا!" بہر کیف! بڑے مفتی صاحب قبلہ کا پہلا عرس مبارک ہو!

"مبین احمد جامعی"

~ اب جبکہ آپ نے یہاں تک پڑھ لیا ہے اور دل میں بہت کچھ امنڈ بھی آیا ہے تو آپ مجھے شوق سے "جامعی" کے بجائے "شبیری" کہیے! ہمیں کوئی دقت نہ ہوگی۔ آپ کی قسم! مگر آپ کے لیے ادھر ادھر کی چھوڑ دیں مثلاً  "دینی تجارت"  تو سیدھا سیدھا پیغام یہی ہے کہ برصغیر میں اہلسنت والجماعت کا بکھرتا شیرازہ اگر کسی واحد ذات بہ برکات کے نام پر یکجا و توانا ہو سکتا ہے تو وہ اعلیٰحضرت امام عشق و محبت کی ہی ذات ہے۔ 

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

                                                            بشیر بدر

@MobeenJamei

No comments:

Post a Comment