Thursday, March 22, 2018

Urdu PG Diploma in Journalism at Indian Institute of Mass Communication, IIMC یک سالہ اردو جرنلزم کورس سے کریں بہترین کریئر کا آغاز

اردو جرنلزم کورس سے کریں بہترین کریئر کا آغازیک سالہ
Indian Institute Of  Mass Communication  
مدارس سے فراغت کے بعد اکثر ذریعۂ معاش کے لیے آنکھوں کے سامنے ایک نا معلوم اندھیرا چھایا رہتا ہے اور بظاہر راہیں کم اور محدود دکھائی دیتی ہیں ۔قابل غور ہے کہ جب رزاق لامحدود ہے تو رزق محدود کیونکر ہو سکتا ہے ۔دینی تعلیم کا مقصد ایک بہترین معاشرے کی تشکیل ہے جس میں دینی رہنمائی ،انسانی قدریں،اخلاقیات ،مساوات اور انسانیت کا بول بولا ہو ۔ صحافت کے مقاصد یہی کچھ ہیں ۔

جامعہ اشرفیہ مبارکپور ،اعظم گڑھ


جامعہ روناہی، تقسیم اسناد کی تقریب
 اگرآپ کم وقت میں ایک پروفیشنل کورس کے ذریعہ بر سر روزگار ہو کر ملک و ملت کے لیے ایک پُروقار زندگی کو مشن کے بطور نہ صرف یہ کہ گزارنا چاہتے ہیں بلکہ کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے ہندوستان میں صحافت کی تعلیم کا اولیں مرکز انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن(IIMC)یک سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ اِن جرنلزم کا ایک بے حد اہم موقع فراہم کر رہا ہے جو JNU,New South Campus میں واقع ہے ۔یہاں پڑھنا کسی خواب سے کم نہیں۔آنے والا وقت مذہب اور میڈیا کا ہے ۔ 
 آج کا میڈیا حکومتیں بنوا رہا ہے ، سرکاری پالیسی پر اثر انداز ہورہا ہے ۔اگر مثبت ذہنی ہو تو یہ حُسنِ امتزاج طلبۂ مدارس کواوج کمال تک پہنچا سکتا ہے ۔میڈیا میں مسلم محض تین فیصد ہیں جوکہ آٹے میں نمک کے برابربھی نہیں جبکہ دس فیصد برہمن کا فیصد 67سے 70 ہے ۔یہ ایک ایسا کار گر میدان ہے جسے ہر گز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔

آئی آئی ایم سی کے انٹرنس امتحان کے لیے فارم ۲۰مارچ۲۰۱۸ سے فروخت ہو رہا ہے جس کی آخری تاریخ ایک مئی ۲۰۱۸ ہے ۔ یہ فارم کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے جسے آن لائن بھرا جا سکتا ہے۔ یہاں ایڈورٹائزنگ اینڈپبلک رلیشن (اشتہا ر،عوامی رابطہ)، ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن نیز انگریز ی کے علاوہ ہندوستانی زبانوں اردو،ہندی،مراٹھی ، اڑیہ اور ملیالم میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ اِن جرنلزم دس مہینے میں کیا جا سکتاہے ۔ اردومیں 15 ؍ سیٹیں ہیں جن کی فیس ۳۹۰۰۰)دو سیمسٹر ہیں اس لیے فیس دو قسطوں میں جمع ہوگی )روپیے ہے ( اگربروقت اسکالرشپ کے لیے درخواست دے دی جائے تو فیس ریفنڈ (واپس) ہو سکتی ہے)۔ یہ ایک بہترین پروفیشنل کورس ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ آئی آئی ایم سی کیمپس پلیسمنٹ کا موقع فراہم کرتاہے۔اردو پرنٹ ،الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں پروفیشنل لوگوں کی بے حد کمی ہے ۔اردو زبان تلفظ ،ہلکے ، خوبصورت الفاظ اور عوامی بول چال سے قریب تر ہے اس لیے الیکٹرانک میڈیا ( اردو ،ہندی اور ریڈیو) میں اردو کے طالب علم کے لیے زیادہ مواقع ہیں ۔میڈیا انڈسٹری میں آئی آئی ایم سی کا ’ٹھپا‘ چلتا ہے ۔ تمام میڈیا آرگنائیزیشن میں آئی آئی ایم سی کے لوگ چھائے ہوئے ہیں ۔آج ہم جنہیں چوٹی کے صحافی سمجھتے ہیں ان کی اکثریت یہیں کی پروردہ ہے مثلاََگوری لنکیش ،رویش کمار ، ندھی رازدان اور سدھیر چودھری ۔
IIMC’s Alumni  

آئی آئی ایم سی انٹرنس درخواست کے لیے گریجویشن (کسی بھی سبجیکٹ سےB.A.میں محض پاس ہونا)لازمی ہے ۔انٹرنس کی تیاری کے لیے کرنٹ افیئرس(موجودہ صورتحال) ، جنرل نالج(عام معلومات) اور زبان پر مہارت ہونا چاہیے ۔اگر کوئی طالب علم مسلسل اخبارکا قاری ہے تو اس کے لیے انٹرنس کافی حد تک آسان ہوجا تا ہے ۔ IIMC کی تقریباََ 400؍ سیٹ کے لیے کم از کم آٹھ سے دس ہزار طلبہ درخواست دیتے ہیں ۔ انٹرنس کے بعد انٹرویو کا مرحلہ ہوتا ہے جس میں خود اعتمادی سے موجودہ صورتحال پرذاتی نقطۂ نظر کی بنیاد پر اظہار خیال کا اکثرمطالبہ ہوتا ہے لہٰذا اخبار کے ا داریے اور ٹیلی ویژن کے پرائم ٹائم پر مسلسل نظر رکھنا چاہیے۔انٹرنس اور انٹرویو میں سب سے اہم ہوتاہے کہ حال فی الحال کے اہم موضوعات پر آپ کا استدلالی نقطۂ نظر کیا ہے ۔  


اردو ماس میڈیا کے لیے بہت سی یونیورسٹیز میں کورسیز چلائے جا رہے ہیں مثلاََجامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی،جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ،دہلی ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور الہ باد یونیورسٹی وغیرہ مگر اکثر پارٹ ٹائم اور سرٹیفیکٹ کورس ہیں۔واضح ہو کہ صحافت میں اکثر یونیورسٹیز سے گریجویشن ،ماسٹر ، ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی کیا جا سکتا ہے مگر ان کے لیے زیادہ وقت اور لوازمات ضروری ہیں ۔

یہ مضمون لکھنے کی اہم وجہ IIMC انتظامیہ کا ایک دعویٰ ہے جس میں گزشتہ برس اردو کے پرچار میں سات سے نو لاکھ روپیے تک خرچ کیے جانے کی بات ہے ۔ خدا معلوم ! یہ ایڈ ،پرچار کون سے ٹیلی ویژن یا اخبارات میں دیے گئے جو کہیں دیکھنے میں نہیں آئے ۔ابتدا ء میں 25سیٹیں تھیں ،امید وار طلبہ کے کم آنے کے سبب 15 سیٹیں کر دی گئیں ۔اگر یہی حال رہا تو کہیں یہ کورس ہی بند نہ کر دیا جائے۔ گزشتہ برس گیارہ طلبہ نے انٹرنس دیا جن میں سات انٹرویو کے لیے کامیاب ہوئے اور بالآخر پانچ کا داخلہ ہو ا ۔جو بھی ہو؛ کم از کم میں اسے کوئی سازش نہیں مانتا ۔ مواقع کسی کے تلاش میں نہیں ہوتے لہٰذا ہمیں خود ہی ہمیشہ ان کا متلاشی رہنا چاہیے۔
اردو ڈپلومہ سرٹیفکیٹ کورس ان جرنلزم کو پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کیے جانے کی  12 Jan 2017 تقریب

تعجب ہے یہ کورس 2013سے چل رہا ہےجسے12جنوری 2017کو فُل ٹائم سرٹیفیکیٹ ڈپلومہ کورس سے پوسٹ گریجوٹ ڈپلومہ کرس کر دیا گیا ہےمگر ہماری تنظیمیں اور اہم اشخاص بھی اس سے بے خبر رہے۔IIMC کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں میڈیا کے حوالے سے مکمل تربیت ہوتی ہے ۔ اردو سے اتنے کم فیس میں ہم تمام سہولتوں سے فیضیاب ہو سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دوسرے کورس کے طلبہ اردو پر رشک کرتے ہیں کہ کاش ہم بھی اردو جانتے ہوتے ۔جرنلزم ہر لحاظ سے عملی دنیا کے لیے ایک بہترین آغاز کا موقع فراہم کرتا ہے اس لیے مختلف میدان قانون ،انجینئرنگ ، ڈبل ایم .اے.اور ایم بی اے جیسے اہم کورس کر کے بھی طلبہ جرنلزم ( IIMC)کا رُخ کرتے ہیں۔یہ پرواز کے لیے سنہری موقع ہے ۔ ایک مرتبہ کوشش ضرور کریں۔مزید معلومات کے لیے http://www.iimc.nic.in پر جائیں ۔


جرنلزم ایک پُر وقار پروفیشنل پیشہ ہے جس میں عزت ،شہرت اور دولت سب کچھ ہے مگر اس کی روح غیر جانب دار ہو کر ایک پاکیزہ ترقی پذیر سے ترقی یا فتہ انسانی معاشرے کی تشکیل ہے ۔بے شک جرنلزم مشکلوں،مصیبتوں اور تکالیف سے بھرا ہر دن ایک نیا چیلنج اور مسلسل جد و جہد کا نام ہے تاکہ کمزوروں ، پچھڑوں ،اقلیتوں اور تمام انسانوں کو انسان ہونے کے ناطے مکمل آزادی کے ساتھ تمام حقوق حاصل ہوں۔ اسی لیے جرنلزم جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔صحافتی پیشے کا حقیقی ترجمان خلیل الرحمن اعظمی کا یہ شعر ہے....
یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں
زندگی تیرے لیے زہر پیا ہم نے


مبین احمد جامعی ،اہرولی امبیڈکر نگر یوپی 

+917618049339