Friday, April 24, 2020

TwitterIndia...Muslim, Ulma


ٹویٹر مگر احتیاط سے!


العلم نور’علم روشنی ہے‘ مگر فی زماننا علم طاقت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاٹا نیا آئل (پٹرول) ہے، اگلا سپر پاور ہونے کا سہرا اسی ملک کے سر ہوگا جس کے پاس سب سے زیادہ ڈاٹا ہوں گے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے! کہ کوئی بھی ایپ انسٹال کرنے کے بعد وہ ہر طرح کا اختیار(Access) مانگتا ہے اور جب تک آپ ہاں، نہیں کر دیتے وہ غیر فعال رہتا ہے...کام ہی نہیں کرتا۔ یہ واقعہ ہے کہ ہم صد فیصد دورِ دستاویز میں جی رہے ہیں...سب کچھ ریکارڈ ہو رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں ’ہٹ دھرمی‘ https://abirti.blogspot.com/2020/02/caa-caa-un.html?m=1

جمہوری نظام میں اقلیتیں تربوز کے مانند ہوتی ہیں، چاقو ان پر گرے یا وہ چاقو پر گریں...بہرحال کٹنا تربوز کو ہی ہوتا ہے۔ ہمیشہ درپردہ سازش اور میڈیائی پروپیگنڈہ کرکے اقلیتوں کو مشتعل کیا جاتا ہے اور وہ بھی ظلم کے تازیانے سے تازہ دم ہوکر جذباتی ہو اٹھتے ہیں...ہر طرح کا نقصان اٹھاتے ہیں۔ مسائل میں الجھا کر مقاصد باطلہ کی تکمیل ایک آسان، پرانا اور گھٹیا طریقۂ کار ہے جو مسلسل دہرایا جا رہا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اقلیتوں کے موقر وجود کا انحصاراکثریتی فرقے سے بڑھ کر صلاحتیں پیدا کرنے پر ہے۔ تصادم کا طرزِعمل وقتی طور پر بہت مؤثرمعلوم پڑتا ہے مگر دیر پا اور پائیدار ہرگز نہیں۔


یہ بھی پڑھیں’خودی کا اثؔر نعمان خاں رحمہ اللہ‘https://abirti.blogspot.com/2019/10/blog-post.html

مسرت خیز ہے کہ علماء کرام بڑی تعداد میں سوشل میڈیا میں سب سے زیادہ مؤثر ٹویٹرپر نہ صرف آئے ہیں بلکہ بے حد سرگرم بھی ہیں۔ چونکہ مسلسل میڈیا مسلم اقلیت پر حملہ آور رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی زندگی کا انحصار اقلیتوں کی بستیاں سبوتاژ کرنے، ہزاروں کی تعداد میں انھیں بے کس و بے بس کرنے، انہی کی لاش کھانے اور انہی کا خون پینے پر ہے۔ ایسے میں بالکل واضح ہے کہ میڈیا جانب داری کی حرم سرا سے ایک سے بڑھ کر ایک بردہ فروش، عیار، مکار اور داشتاؤں کو اینکر بنا بنا کر اسکرین پر لاتا رہے گا اور یہ دیکھ کر مسلم نوجوان ’علماء‘ غیظ وغضب میں آکر مضطرب تو ہوں گے ہی جو عین فطری ہے بلکہ خود کو مضطر بھی پائیں گے...اوربہت ممکن ہے کہ وہ جوش میں آکر ہوش کھو بیٹھیں۔ 

تو ایسے میں احتیاط کریں:

کسے فالو کر رہے ہیں؟
کسے لائک کر رہے ہیں؟
کسے رپلائی کر  رہے ہیں؟
کسے مینشن کر رہے ہیں؟
کس ہیش ٹیگ کو ہوا دے رہے ہیں اور اس کا مقصد کیا ہے؟
بیرون ممالک بالخصوص عرب کو فالو یا ری ٹویٹ کرتے وقت یقینی بنائیں کہ آپ ان کے بارے میں کتنا جانتے ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ کوئی آپ کی منھ بھرائی کردے اور آپ اس پر لٹُّو ہو جائیں۔ آج کل تو پروین توگڑیا کو بھی کبھی کبھی مسلمانوں کے بارے میں اچھی باتیں کرتے دیکھا جا سکتا ہے...تو کیا مطلب؟ ماحیتِ قلب ہوگیا ہے!
سوشل میڈیا پر اس قدر ہوشیار رہیں کہ آپ کے کسی بھی اقدام پرغیرقانونی ہونے کا شائبہ تک نہ گزرے! 

ٹویٹر پر ڈائریکٹ میسج (ڈی ایم) بھیجے جاتے ہیں جن  میں صارف کی تعریف ہوتی ہے اور صارف کا ای میل اور رابطہ نمبر طلب کیا جاتاہے۔ جب صارف کوئی توجہ نہیں دیتا تو اسے آفر دیے جاتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ ’لالچ بری بلا ہے‘... ہزاروں اور لاکھوں ڈالر کا فائدہ بتلایا جاتا ہے۔ کئی بار بے وقوف بنا کر چندہ  بھی مانگنے کی کوشش ہوتی ہے۔ ان تمام عمل کے دوران ہوتا یہ ہے کہ جوں ہی آپ ان کی لنک اوپن کرکے فارم بھرنا شروع کریں گے تو منٹوں میں آپ کا اکاؤنٹ، ڈاٹا اور سسٹم کسی نامعلوم کے کنٹرول میں آ جائے گا۔ پس! آپ ہمہ جہت تباہ و برباد ہو کر جیل کی پناہوں میں ہوا کھا رہے ہوں گے۔

ہم ایک مشکل اور انتہائی صبر آزما دورِ پُر فِتَن سے گذر رہے ہیں۔ آزمائیشیں انسانوں کو عظیم بنانے کے لیے رب کی طرف سے دنیا میں انمول عطیہ (مواقع) ہیں۔ گھبرانے یا جذباتی ہونے کی کوئی ضروت نہیں۔ ضروت اس بات کی ہے کہ ہمہ لمحہ ’مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ‘ کو حرزجاں بنائیں اور مومنانہ فراست ’غایت درجے کی سوجھ بوجھ‘ سے کام لیں...’ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین‘۔ یاد رہے!’دودھ کا جلا ہوا، چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے‘۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا،’ ان مع العسر یسرا‘ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

یہ بھی پڑھیں "کیوں ڈراتے ہو!  https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_19.html?m=1

احتیاطی تدابیرحسنہ کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال ایک مشکل امر ہے۔ لیکن؛ اگر آپ جذباتی نہ ہوں اور مومنانہ فراست سے کام لیں تو یہی مشکل آپ کے لیے مشعل کا کام کرے گی۔ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت مشکل یہ ہے کہ یہاں مختلف ممالک کی خفیہ ایجنسیاں، بلیک مارکیٹ (منی لانڈرنگ، غیر قانونی اسلحہ فراہمی، ڈرگس، افیم  اور منشیات کی خرید وفروخت)، مختلف غیر قانونی اور دہشت گرد تنظیمیں بھی سرگرم رہتی ہیں۔ چونکہ ان سب کے پاس ڈاٹا ماہرین کی ایک فوج ہوتی ہے جو بہ آسانی آپ کی پسند نا پسند کو جان لیتی ہے۔ پھر وہ دھیرے دھیرے اپنے جال میں آپ کو پھانستی چلی جاتی ہے۔ بادی النظر میں تو یہ کسی بہت پڑھے لکھے اور ہوشیار آدمی کو بھی سمجھ میں نہیں آتا اور وہ بھی دھوکہ کھا جاتا ہے جو آئی ٹی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کا بڑا تیس مار خاں بنا پھرتا ہے۔ آپ اپنے ذہن پر تھوڑا سا زور دیں! ماضی قریب کی مثال ہے کہ مبینہ طور پر ہندوستان سے بھی کچھ مسلم نوجوانوں نے آئی ایس آئی ایس (دہشت گرد تنظیم) کی آن لائن رکنیت حاصل کرکے جنگ زدہ ملک عراق روانہ ہو گئے تھے۔


’سی اے اے احتجاج، اب آگے کیا؟‘ یہ بھی پڑھیںhttps://abirti.blogspot.com/2020/01/caaprotest_30.html

ٹویٹر ایک مجازی اور عوامی جگہ ہے۔ ایک سوشل نیٹ ورک کی حیثیت سے، یہ فیس بک یا جی + کے مقابلے کہیں زیادہ اوپن ہے، کیونکہ یہ فلٹر یا رکاوٹوں کے بغیرہر طرح کے واقعات اور آراء کو شیئر کرنے اور ان پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کوئی بھی آپ کو فالو کرسکتا ہے اور آپ کسی کو بھی فالو کر سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے ، بہت کم پابندیاں ہیں۔عوامی نوعیت کا ہونے کے سبب ٹویٹر آپ کی پرسنل پرائیویسی (ذاتی رازداری) اور سکیورٹی کے لیے ایک انتہائی خطرناک سوشل نیٹ ورک ہے لہٰذا مندرجہ ذیل نکات ہرگز نظر انداز نہ کریں۔

مشتبہ لنلک چیک کریں:
زیادہ تر ٹویٹس کے لنکس مختصر ہوتے ہیں۔ بسا اوقات یہ لنک خطرناک مقامات کی طرف لے جاتے ہیں جیسے جعلی فارم یا وائرس جو آپ کے براؤزر پر ڈاؤن لوڈ ہوتے ہیں۔ چونکہ ہمیں جہاں نہیں ہونا چاہئے اس پر کلک کرنے سے ہی سوشل نیٹ ورکس پر میلویئر انفیکشن (وائرس) کا خطرہ پیدا ہوتا لہذا ان لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں جن پر آپ کو اعتبار نہیں ہے۔ ایک مختصر لنک کے پیچھے کیا پوشیدہ ہے یہ جاننے کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ براؤزر ایکسٹینشن ‘کروم’ اور ‘فائر فوکس’ کا استعمال کریں۔ آپ اے وی جی ’لنک اسکینر‘ بھی استعمال کرسکتے ہیں جو چیک کرتا ہے کہ لنک محفوظ ہے یا نہیں۔

ٹویٹر کے لیے ایک منفرد (Unique)، اسٹرونگ پاس ورڈ استعمال کریں:
سیکیورٹی کی سب سے بڑی غلطی جو آپ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ متعدد سروسز کے پاس ورڈ کو دہرانا ہے کیونکہ اگر کوئی ہیکر آپ کے پاس ورڈ میں سے کسی ایک کو پکڑ لیتا ہے تو وہ متعدد اکاؤنٹس میں اسے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔ اسی لیے آپ کو ٹویٹر کے لیے ایک منفرد اور محفوظ پاس ورڈ چننا ہوگا۔ اگر مخمصہ محسوس ہو توآپ پاس ورڈ مینیجر کا استعمال کرسکتے ہیں۔

دوسروں کے ساتھ اپنے اکاؤنٹ کا پاس ورڈ ہرگز شیئر نہ کریں:
اپنے اکاؤنٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئرکرنا تفریح طبع کے لیے بہت ہی خوشگوار ہو سکتا ہے، اگر اس اکاؤنٹ کا یہی مقصد ہے۔ لیکن؛ اگر آپ کو اپنے اکاؤنٹ کی معلومات کی پرواہ ہے تو کبھی بھی کسی ایسے شخص کے ساتھ اپنا پاس ورڈ شیئر نہ کریں جو آپ کا کامل معتمد علیہ نہیں ہے: جتنا زیادہ لوگ آپ کے پاس ورڈ کو جانیں گے اتنا ہی زیادہ خطرے کا امکان ہے۔

اپنے موبائل پر ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کو آن  کریں:
اگر آپ ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کو آن کرتے ہیں تو جب بھی آپ کسی نئے کمپیوٹر یا فون سے اپنا اکاؤنٹ ایکسِس کریں گے تو آپ کو ایک ایسا کوڈ ڈالنا ہوگا جو آپ کے فون پر ہر بار بھیجا جائے گا۔ اس کا فائدہ یہ ہے  کہ اگر کوئی آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کا پاس ورڈ جان بھی جا بھی ہے تو وہ بھی آپ کے اکاؤنٹ کو ایکسس نہیں کر پائے گا۔

پاس ورڈ کو ریسیٹ کرنے لیے پرسنل انفارمیشن کی ویریفکیشن کو فعال (Enable) کریں:
دوسرا اچھا خیال یہ ہے کہ جب آپ اپنا پاس ورڈ بھول جاتے ہو تو ٹویٹر سے پرسنل انفارمیشن (ذاتی معلومات) طلب کریں۔ اگر آپ سکیورٹی مینو پر باکس کو چیک کرتے ہیں تو آپ کو اپنا ای میل اور اپنا فون نمبر دینے کا اشارہ کیا جائے گا۔ یہ Username تلاش کرنے سے کہیں زیادہ بھروسے مند ہے۔

اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے نامعلوم ایپس کو ہٹائیں:
بہت سے ایپ ایسے ہیں جو آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ تک رسائی (Access) حاصل کرنا چاہتے ہیں اور بعض اوقات ہم اس بابت سوچے بغیر اجازت بھی دے دیتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس سے آپ کا ڈاٹا خطرے میں پڑ جائے گا۔
وقتاً فوقتاً، ایپلی کیشنز کی فہرست چیک کریں جنھیں آپ کے اکاؤنٹ تک ایپلی کیشن سیٹنگ مینو سے رسائی (Access) حاصل ہے۔ صرف Revoke Access پر کلک کردیں۔ ایپ کو فوری طور پر منقطع کردیا جائے گا پھروہ آپ کے ڈیٹا ریڈنگ کو جاری رکھنے سے قاصر ہو جائے گا۔ اگرآپ غلط پر کلک کرتے ہیں تو دوبارہ کلک کریں، اسے بحال کردیا جائے گا۔

کمپرومائزٹڈ اکاؤنٹ کی علامات پر توجہ دیں:
بہت ساری علامات ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آپ کا  ٹویٹر اکاؤنٹ کمپرومائزڈ ہے۔ انہی علامات میں سے کچھ یہ ہیں:
آپ کو مطلع کیا گیا ہے کہ آپ نے براہ راست پیغامات (ڈی ایم) بھیجے ہیں جو دراصل آپ نے نہیں بھیجے تھے۔
آپ کو ٹویٹس کے جواب ملتے ہیں جنھیں بھیجنا آپ یاد نہیں رکھتے۔
آپ ان اکاؤنٹس کو فالو کرتے ہیں یا فالو  کرنا چھوڑ دیتے ہیں جو آپ کی یاد داشت سے دور ہیں۔
آپ کو نان رکویسٹیڈ (Non-requested) یا عجیب سے سیکیورٹی نوٹیفکیشن موصول ہوتی ہیں۔
آپ کے پروفائل کی شکل بدل گئی ہے ، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔
اگر آپ کو یہ علامات نظر آتی ہیں تونامعلوم ایپس کی آتھرائیزیشن (اجازت) منسوخ کریں اور اپنا پاس ورڈ فوری طور پر بدل لیں۔

پاس ورڈ کا مطالبہ کرنے والے کسی بھی ای میل کا جواب ہرگز نہ دیں:
یہ ممکن ہے کہ حالیہ پاس ورڈ کی چوری کے سبب ہونے والی خوف و ہراس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کو ایک ای میل موصول ہو اور محسوس ہو کہ یہ ٹویٹر کے کی جانب سے بھیجا گیا ہے۔ اگر ای میل آپ سے اپنا موجودہ پاس ورڈ بھیجنے یا کسی شکل میں لکھنے کو کہے تو اسے نظرانداز کریں۔ عام طور پر کسی بھی مشتبہ ای میل سے ہوشیار رہیں، اگر آپ نے کچھ پوچھا نہیں ہے تو ہرگز کلک نہ کریں۔

وقتاً فوقتاً اپنے ٹویٹس کا بیک اپ ڈاؤن لوڈ کریں:
ذرا تصور کریں کہ کوئی آپ کے اکاؤنٹ کا Access پا لیتا ہے اور پھر اسے بند کردیتا ہے یا ایسے ایپ کو مجاز بنائیں جو آپ کی نصف پوسٹ کو حذف کردے۔ یہ ایک تباہی ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر اگر آپ اپنا اکاؤنٹ کام کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ آپ اپنے ٹویٹر پروفائل کے ’فُل بیک اَپ‘ اکاؤنٹ مینو سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ جب فائل تیار ہوجائے گی ، آپ کو ڈاؤن لوڈ لنک کے ساتھ ایک ای میل موصول ہوگا۔

گمنام ٹرول، بر انگیختہ، پریشان اور ناراض کرنے والوں کو بلاک کریں۔

آپ کا ای میل اکاؤنٹ ایک علیحدہ کائنات ہے جسے ٹویٹر کے ساتھ خلط ملط نہ کریں۔ اپنے ای میل ایڈریس کے ذریعہ دوسروں کو ڈھونڈنے سے روکیں۔

کسی کا آپ کو بلا اجازت ٹیگ کرنا بہت پریشان کن ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس سے آپ کی پروائیویسی کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے تو فوٹو ٹیگنگ کو غیر فعال(disable) کریں۔ آپ ان افراد کا انتخاب کر سکتے ہیں جنھیں آپ کی مرضی سے ٹیگ کرنے کی اجازت ہوگی۔

اپنے ٹویٹس کا جغرافیائی مقام (جیو لوکیشن) غیر فعال (disable) کریں:
کچھ سالوں سے ٹویٹر آپ کوجیو لوکیشن اپنے ٹویٹس (جی پی ایس کے ذریعے) سے منسلک کرنے کا آپشن دیتا ہے۔ یہ پرائیویسی کے لیے بڑا خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔ تصور کیجیے! مثال کے طور پر ممکنہ چور کو پتہ چلا کہ آپ عارضی طور پر کسی دوسرے ملک سے ٹویٹ کررہے ہیں۔ اس طرح آپ کی جانب سے اسے گھر لوٹنے کی ایک کھلی دعوت ہوگی۔ پرائیویسی کی سیٹنگ سے اس فنکشن کو غیر فعال (disable) کریں۔

نامناسب ٹویٹس، ایڈ یا تصاویر کو فلیگ لگائیں:
آپ انٹرنیٹ کو ایک زیادہ محفوظ اور خوشگوار جگہ بنانے میں بھی مدد کرسکتے ہیں۔ جب آپ کو تصاویر یا نامناسب پیغامات نظر آئیں تو آپ انہیں فلیگ (رپورٹ) کرسکتے ہیں تاکہ ٹویٹر ایکشن لے سکے۔ اس ترح ٹیوٹس کو ری ٹویٹ یا رپلائی نہ کریں جو واضح طور پر خطرناک یا غیر قانونی ہوں۔ اس پر خاص توجہ دینا چاہیے۔ تحریک فروغ اسلام نے منظم جد و جہد کا آغاز کیا ہے۔ ہم رپورٹ نہیں کرتے، اسی لیے نفرت پھیلانے والوں کے حوصلے اس قدر بلند ہیں۔

اگر آپ کو دھمکی ملے تو ٹویٹر اور حکام کو مطلع کریں:
سائبر کرائم ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اگر کوئی آپ کو ہراساں کرتا ہے، دھمکی دیتا ہے یا ٹویٹر کے ذریعہ آپ پر زبانی طور ہر حملہ آور ہے تو ٹویٹر پرایک فارم ہے اسے استعمال کرتے ہوئے رپورٹ کریں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو جان کا خطرہ ہے تو حکام سے رابطہ کریں۔ (حکام کو بتانے سے بھی کچھ خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا مگر کاغذی کاروائی کی اپنی اہمیت ہے۔)

ذاتی معلومات شائع کرنے سے پہلے غور کریں:
ٹویٹر پر آپ جو بھی پوسٹ کرتے ہیں اس میں اگر ذاتی ڈیٹا شامل ہے  تو وہ آپ کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے۔ ٹویٹر پر اس طرح کے کسی بھی معلومات کو پوسٹ کرنے سے پہلے غور و خوض کریں! Hootsuite جیسے ٹول کا استعمال کریں جو آپ کو پوسٹس شیڈول کرنے اور ان کے اثرات کو آسانی سے فالو کرنے کی سہولت دیتا ہے۔

اگر آپ خواہ مخواہ کے مسئلے میں پڑنا نہیں چاہتے ہیں تو اپنے ٹویٹس کی حفاظت کریں:
ٹویٹر پر لاک ایک کلاسک فیچر ہےاس کے استعمال سے آپ کا ٹویٹر پروفائل فیس بک کی طرح نجی ہوجائے گا۔ آپ کی اجازت سے لوگ آپ کو فالو کریں گے اور آپ کے ٹویٹس دیکھ سکیں گے۔ (یہ زیادہ مفید نہیں)

ٹویٹر کے ضابطے پرعمل کریں:
آپ کو ایک اچھا ٹویٹریوزر بننا چاہئے۔ اگر آپ نہیں چاہتے کہ آپ کا اکاؤنٹ بلاک ہو تو آپ کو ٹویٹر کے ضابطوں پر عمل کرنا ہوگا۔ کسی اور شخص یا برانڈ کی نقالی نہ کریں، دوسرے لوگوں کی خفیہ معلومات شائع نہ کریں، کسی کو دھمکی نہ دیں، کسی بھی کاپی رائٹس (حق اشاعت) کی خلاف ورزی نہ کریں، غیر قانونی مقاصد کے لیے ٹویٹر کا استعمال ہرگز نہ کریں ۔ اگر آپ کو بلاک کردیا جاتا ہے تو آپ اپیل کرسکتے ہیں۔

سب سے اہم بالکل نہ گھبرائیں!

یہ بھی پڑھیں ’بابا صاحب اور سی اے اے 2019https://abirti.blogspot.com/2020/02/caa-caa-un.html?m=1

ٹویٹر ایک عوامی جگہ ہے ، لیکن یہ ایک محفوظ جگہ ہے۔ اگر آپ بلا وجہ کے مخمصے میں نہیں پڑنا چاہتے تو آپ ایک بہترین پاس ورڈ کا استعمال کریں اور کوئی کمپرومائزڈڈیٹا شائع نہ کریں۔ ہوشیار رہیں! آپ کے ساتھ کچھ بھی غلط ہونے کا کوئی امکان بھی پھٹک نہیں سکتا۔

واٹس ایپ  اور فیس بک میسنجر پر کئی بار اسپیم میسجز یا لنک بھیجے جاتے ہیں اوراسی سے پورے موبائل پر کنٹرول پا لیا جاتا ہے۔

فیس بک پیج لائک کرنے میں بھی احتیاط برتنا چاہیے۔ اسی طرح واٹس ایپ پر شیئر اور فارورڈ کرتے وقت حد درجہ محتاط ہونا لازمی ہے۔ کسی بھی شخص کو کسی طرح کا اوٹی پی (ون ٹائم پاسورڈ) ہرگز نہ بتائیں۔ انڈروئڈ بالکل محفوظ نہیں مانا جاتا۔ ایپل کے فون محفوظ ترین سمجھے جاتے ہیں کیونکہ اس کی تمام سروسز، اپنی ہوتی ہیں جبکہ دوسرے برانڈ کے موبائل میں ایسا نہیں ہے.... موبائل مینوفیکچرنگ کسی اور کمپنی کی تو ایپلیکیشنس سروسز کسی اور کمپنی کی ہوتی ہے۔ سکیورٹی کے لحاظ سے ایپل کا کلاؤڈ سسٹم بہت سخت ہے۔

یہ بھی پڑھیں ’آخری فتویٰ‘https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_21.html?m=1

اکاؤنٹ ویریفکیشن
ٹویٹر اکاؤنٹ پر بلو ٹِک ہونے کے بہت سے فائدے ہیں کیونکہ یہ ویریفائیڈ اور مؤثر اکاؤنٹ ہونے کی پہچان ہے۔ ٹویٹر نے ویریفکیشن کا عمل کچھ مہینوں سے معطل کر رکھا ہے۔ پی آر (رابطہ عامہ) ایجنسیز، کمپنیز یا ورکر اکاؤنٹ ویریفکیشن میں جم کر کمائی کر رہے ہیں کیونکہ بہت معروف شخصیات ہیں جن کے ٹویٹر ہینڈل پر بلو ٹک نہیں۔ اسی لیے یہ بہت مشکل نہیں تو بہت آسان بھی نہیں۔ آپ گوگل پر ٹائپ کریں گے تو خود بہ خود سامنے آ جائے گا کہ ویریفکیشن کے لیے کیا کرنا ہے۔ جو اخبارات میں چھپتے ہیں اور عوامی شخصیت ہیں ان کے لیے قدرے آسان ہے۔ انھیں اپنے ادارے سے کے وائی سی کی طرز پر ایک لیگل پیپر تیار کروانا ہوگا۔ کئی بار پہلے ہی مرحلے میں ٹویٹر اکاؤنٹ ویریفائی ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں ’ہائے رے! علماءhttps://abirti.blogspot.com/2020/04/73-10-19.html

ٹویٹر کے مثبت اثرات کا ہی نتیجہ ہے کہ آج نفرتوں کے بیانیے تبدیل ہو رہے ہیں۔ یاد رہے کہ لوہا، لوہے کو کاٹتا ہے مگر اندھیرا اندھیرے کو نہیں کاٹتا اسی طرح نفرت کا خاتمہ نفرت سے ممکن ہی نہیں۔ ابتلاء اور آزمائش سے نہ گھبرائیں، یہ سب قدرتی ہے۔ سو بات کی ایک بات! جو برتن کام کا ہو؛ اسے بار بار دھویا جاتا ہے۔  


یہ تو محض استعمال کی بات ہو رہی ہے پروگرامنگ کی نہیں...ویسے بھی ٹیکنو فرینڈ ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ اگلا جو بھی مجدد دین و ملت ہوگا، اسے آئی ٹی (انفارمیشن ٹینالوجی) پر مکمل دسترس ہوگا۔ قومی صلاح و فلاح کی خاطر موبائل کا مثبت استعمال کریں۔ جو بھی ٹویٹر یوزر ہیں وہ سیٹنگ میں جاکر اکاؤنٹ پر کلک کریں۔ Username پر کلک کرکے Unique (منفرد) مثلاً BlogABIRTI@ ہینڈل لے لیں۔ یہ منفرد ہوتا ہے۔ دو ہینڈل ایک Username سے نہیں ہوسکتے۔ 

بندگان خدا کی خاطر صوفیاء کی نیم شبی آج بھی جاری ہے! یہ مضمون بھی اسی کا فیضان ہے جس کے لیے کچھ انگریزی مضامین اور ویب سائٹ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ 

مقصد یہ ہے کہ آپ کے اندر دنیا کا کامیاب ترین انسان بننے کا جوہر پیدا ہو جسے معلوم ہو کہ اسے کیا نہیں لکھنا ہے... کیا نہیں بولنا ہے اور کیا نہیں سننا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نا سمجھی اور نادانی میں سوشل میڈیا کا استعمال بے دریغ بڑھ تو جائے مگر اس سے نفع کم، نقصان زیادہ ہو۔ مسائل کا تدارک ’خود مسئلہ‘ بن کر ہرگز ممکن نہیں لہٰذا شش جہات سے اپنی حفاظت آپ کریں اور اپنا خاص خیال بھی رکھیں!

مزید معلومات کے لیے...👇



@MobeenJamei
mobeenahmad.abirti@gmail.com
+917618049339
Nazm, 'Kar Do Ghaus Karam Khudara!'

Thursday, April 16, 2020

One metre name, 1.50 KM Lqab


القاب


اس سے پہلے کہ ہمارے علماء اور مشائخ القاب کے خس و خاشاک میں گم ہو جائیں....پیش ہے۔ 

خود سے چل کر نہیں، یہ وصف کمال آیا ہے
سارے القاب چرائے ہیں بزرگوں سے تو بھوکال آیا

منور رانا سے معافی کے ساتھ کہ ان کے شعر سے استفادہ کیا گیا ہے۔

القاب کے پیچوں میں الجھتے نہیں مبيں 
جس کو بھی اب لقب دو، مجمع الالقاب دو

یا رب ایک میٹر کے نام اور ڈیڑھ کلو میٹر کے القاب سے توبہ کی توفیق دے۔ آمین 

खुद से चल कर नहीं, ये  वस्फ-ए-कमाल आया है
सारे अलक़ाब चुराए हैं बुजुर्गों से तो भौकाल आया है

मुनव्वर राना से माफी के साथ

अलक़ाब के पेचों में  उलझते नहीं मुबीं
जिस को भी अब लक़ब दो, मजमउल अलक़ाब दो

अलक़ाब = खेताब जैसे रोहित शर्मा को हिटमैन कहा जाता है

@MobeenJamei
mobeenahmad.abirti@gmail.com
Read more articles....https://abirti.blogspot.com/

Tuesday, April 14, 2020

System hunts the real India #InTheNameOfMuslim


वास्तविक भारत सिस्टम और साज़िशों का शिकार


कहा जाता है कि असली भारत देखना है तो यहाँ के गॉंवों का भ्रमण ज़रूरी है. पूरी दुनिया कोविड-19 के क़हर का शिकार है. इस महामारी से अब तक 300 से ज़्यादा भारतीय समेत पूरी दुनिया में एक लाख से अधिक लोगो की मौत हो चुकी है. इसे फैलने से रोकने के लिए ही लॉकडाउन जैसा सख्त फैसला किया गया है, जिसे आज 03 मई तक बढ़ा दिया गया है.बड़ी मुश्किलों और मुसीबतों का सामना करते हुए लोग कोरोना से लड़ रहे हैं मगर कुछ गांव देहात में अकारण ही कोरोना के नाम पर विशेष वर्ग के कुछ खास लोगों को जानबूझ कर निशाना बनाते हुए परेशान किया जा रहा है.

11 अप्रैल 2020 की शाम को अचानक एम्बुलेंस, पुलिस और डॉक्टर की गाड़ियों का क़ाफ़िला बहराइच के मीरपुर गावं, मौलाना, सय्यद ज़मीर अल्वी (बदला हुआ नाम) के घर पहुँचता है. बिना किसी पुख्ता सुबूत और तथ्य के उनसे कहा जाता है कि वो अस्पताल चलें, उन्हें सूचना मिली है कि वो दिल्ली स्थित तब्लीग़ी जमात, मरकज़ के प्रोग्राम में शरीक हो कर लौटे हैं.


ज़मीर ने कहा की यह सूचना ग़लत और निराधार है. उन्होंने कहा की पिछले छह माह से तो मैं घर पर ही हूँ. गत 23 फरवरी 2020 को मेरी शादी हुई है.इस बीच मैं 11 दिसंबर 2019 को पासपोर्ट के लिए लखनऊ ज़रूर गया था.आप के पास क्या सुबूत है कि मैं दिल्ली में आयोजित हुए तब्लीग़ी जमात, मरकज़ के प्रोग्राम से लौटा हूँ.


आश्चर्यजनक है कि एक महिला स्वास्थ्यकर्मी कहती हैं कि पहले इनकी स्क्रीनिंग (टेंपेरेचर) कर लेते हैं, अगर ज़रूरत होगी तो अस्पताल ले चलेंगे, मगर क़ैसरगंज थाने के दरोगा उदयचंद तिवारी ने कहा कि नहीं, इन्हें अस्पताल ले चलिए! इतना कहते ही वो, तुरंत चलने के लिए ज़मीर पर दबाव बनाने लगे. वो इस तरह पेश आ रहे थे...मानो 302 के केस की छानबीन हो रही हो और उन्होंने आरोपी को धर लिया हो जबकि मीरपुर के पूर्व प्रधान के बेटे ने ज़मानत लेते हुए कहा कि ये पिछले छह माह से घर पर ही हैं मगर दरोगा जी ने एक न सुनी.

ज़मीर जब चलने के लिए राज़ी हो गए और कहा कि पूरे कपड़े पहन लें फिर चलते हैं तो दरोगा ने दबाव बनाने की कोशिश की कि नहीं ऐसे ही चलिए. ज़मीर  ने जब सख्त लहजे में कहा की इतनी जल्दी है तो आप लोग चलिए! मैं अपनी कार से आता हूँ, तो दरोगा जी ने कहा कि ठीक है...आप तैयार हो कर आइये. इतनी देर में गॉंव के लोग बड़ी संख्या में ज़मीर के घर इकठ्ठा हो चुके होते हैं...ख़ाली काग़ज़ पर ही, पुलिस रिफ़ार्म हेतु ख़ूब जोर दिया जाता है जबकि सच्चाई ये है कि पुलिस का तौर तरीक़ा इतना गन्दा और सांप्रदायिकतापूर्ण है कि आज भी गांव में किसी के घर पुलिस का आना ठीक नहीं माना जाता.


ज़मीर जब अस्पताल पहुंचे तो उन्हें कहा गया कि वो एम्बुलेंस से  न उतरें. दरोगा अंदर जाते हैं और झटपट डॉक्टर एन के सिंह, प्रभारी अस्पताल, क़ैसरगंज और डॉक्टर हुकुम सिंह, समुदायिक सवास्थ्य केंद्र, कैसरगंज से रेफ़र के काग़ज़ात लाते हैं जिस पर "तब्लीग़ी जमात केस" लिखा होता है. ग़ौरतलब है कि यहाँ के डॉक्टरों ने प्राइमरी स्क्रीनिंग भी नहीं की और तथाकतिथ मरीज़ को बिना देखे ही निःसंकोच जिला अस्पताल, बहराइच रेफर कर दिया.


जिला अस्पताल में ज़मीर की डॉक्टर से बहस हो गयी कयोंकि डॉक्टर का ज़ोर बस इसी बात पर था कि उन्हें  जल्द से जल्द क्वारंटाइन किया जाये. डॉक्टर साहब का रवैया सख्त था और वो कुछ भी मानने को तैयार नहीं थे. ज़मीर ने कहा कि  मीडिया वालों को बुलाइये मैं बताना चाहता हूँ कि मेरा जमात या दिल्ली से कोई नाता नहीं और मैं बिलकुल स्वस्थ हूँ फिर भी मुझे क्वारंटाइन किया जा रहा है. थोड़ी देर बाद सी एम ओ बहराइच आ गए. ज़मीर ने उन्हें पूरी कहानी बताई कि क़ैसरगंज अस्पताल ने बिना किसी प्रारंभिक स्क्रीनिंग के ही मुझे यहाँ रेफर कर दिया है और "तबलीग़ी जमात केस" लिख दिया है जबकि मेरा तब्लीग़ी जमात से कोई लेना देना नहीं है. सी एम ओ ने पूछा की स्क्रीनिंग हुई? बताया गया कि अभी नहीं. उन्होंने स्क्रीनिंग करवाई तो टेम्प्रेचर बिलकुल नॉर्मल था और ज़मीर बिलकुल स्वस्थ पाए गए.उन्होंने डॉक्टर से कहा कि वह काग़ज़ात पर दस्तख़त करें और इन्हें छोड़ दिया जाये.

ज़मीर ने दावा किया कि कुछ असमाजिक तत्व और पुलिस ने मिलकर उन्हें जान बूझ कर परेशान किया.

#InTheNameOfMuslim इस पूरे घटनाक्रम से कुछ महत्वपूर्ण और बड़े सवाल जन्म लेते हैं कि एक ऐसे वक़्त में जबकि भारत ही नहीं बल्कि पूरी दुनिया को हेल्थ इमरजेंसी का सामना करना पड़ रहा है हमारे यहाँ PPE, दवा, डॉक्टर और अमले की सख्त ज़रूरत है. ऐसे में इतनी बेदर्दी से सरकारी संसाधनों का दुरुपयोग क्यों? आखिर पुलिस और मेडिकल टीम ने ज़मीर  के घर पर ही उनका टेम्प्रेचर क्यों नहीं मापा? किसके कहने पर डॉक्टर एन के सिंह, प्रभारी अस्पताल, क़ैसरगंज ने बिना देखे ही, दरोगा को रेफर काग़ज़ात थमा दिये? आखिर! दरोगा ने इतनी ज़िद क्यों पकड़ रखी थी? 21वीं  शताब्दी में भी, किसी सम्मानीय सज्जन के घर, पुलिसिया बारात ले जाना और गंदे तरीके से बातें करने की फालतू एनर्जी आयी कहाँ से?  इस पूरी कवायद में जो सरकारी संसाधन और अमले का दुरुपयोग हुआ उसकी भरपाई कौन करेगा? सरकारी संपत्ति का मालिक अस्ल में जनता है क्योंकि ये जनता के ही डायरेक्ट और इन-डायरेक्ट टैक्स से जुटाया जाता है. पब्लिक सर्वेंट को पब्लिक सर्वेंट ही रहना चाहिए... क्योंकि सर्वेंट वही अच्छा, जो हमेशा मालिक का वफादार रहे. क्या ज़मीर को एक मुस्लिम होने की वजह से अकारण परेशान किया गया?


Dargah, Shoaib-ul-Aaulia
ज़मीर  सूफी समाज के एक सम्मानीय धर्मगुरु (मौलाना) हैं. उन्होंने मुख्यमंत्री योगी और बहराइच प्रशासन से मांग की है कि उचित जाँच करवाई जाये और थाना क़ैसरगंज के दरोगा उदयचंद तिवारी के खिलाफ सख्त करवाई की जाये.


@MobeenJamei
mobeenahmad.abirti@gmail.com
Read more articles....https://abirti.blogspot.com/

Saturday, April 11, 2020

Surah Ar-Rahman Translation in Urdu Poetry



سورۂ رحمٰن کا منظوم اردو ترجمہ

تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی_اقبؔال

حضرتِ انساں کی فطرت، فطرت سے کس قدر متصادم ہے۔ تصور کیجیے! اگر کسی کو آزاد رہنے کا پابند کر دیا جائے تو اسے آزادی بھی زہر ہلاہل معلوم ہوگی۔ یہی باعث ہے کہ’مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں‘_فرؔاز

پڑھیے! غزل ’وقت ظہور عشق بھی بعثت سے کم نہیں‘ https://abirti.blogspot.com/2020/03/blog-post.html?m=1

بڑا ممنون کرم ہوں کہ آپ نے اپنے اپنے اسکرین پر ’ہندوستانیہ‘ https://abirti.blogspot.com/ بلاگ کو باریابی کا شرف بخشا۔ شب برأت گزری۔ اس دوران کئی چہرے جگنو تو کئی درخشندہ ستاروں کے مانند مطلع دل و دماغ پر رونما ہوتے رہے۔ دل بے چین رہا کہ اب سے پہلے تو ’یہ حال کبھی بحال‘ نہ ہوا...رسمِ دنیاداری ہے! میں نے بھی واٹس ایپ اسٹیٹس لگا کر جان چھڑا لی کہ آپ مجھے معاف فرما دیں۔ شب برأت کے دوران سورۂ رحمٰن کی تلاوت سے مشرف ہوا۔ اسی دوران یہ خیال آیا کہ سورۂ رحمٰن کا منظوم اردو ترجمہ پیش کروں جسےجوؔش ملیح آبادی نے لکھا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ جوؔش صاحب کمیونسٹ ’اشتراکیت کے عملبردار‘ تھے۔ وہ اردو کے’سب سے شعلہ مزاج ترقی پسند شاعر، شاعرِ انقلاب کے طور پر معروف‘ تھے۔

پڑھیے نظم ’میگی کورونا‘ https://abirti.blogspot.com/2020/03/nazm-maggi-corona.html

جوؔش صاحب کا مختصر تعارف یہ ہے کہ وہ 5 دسمبر 1898ء کو اترپردیش کے مردم خیز علاقے ملیح آباد کے ایک علمی اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے چند برسوں بعد وہ ہجرت کر گئے۔

جتنے گدا نواز تھے کب کے گزر چکے 
اب کیوں بچھائے بیٹھے ہیں ہم بوریا نہ پوچھ_جوؔش

پڑھیے! دہلی فسادات پر نظم ’بے حسی‘https://abirti.blogspot.com/2020/03/nazm-behisi-apathy.html?m=1

جوؔش صاحب مروت میں ایک ملازمت کے لیے کئی لوگوں کی سفارش کردیتے تھے ایک دفعہ ایک شخص کے ہمراہ سفارش کے لیے گئے افسر نے کہا اس کے لیے تو آپ نے کسی اور کی سفارش کی ہے فرمایا کہ اس مردود کو رکھ لیجئے کیونکہ مجھے ساتھ لایا ہے۔

نایاب کلام، سورۂ رحمٰن کا منظوم ترجمہ_جوؔش ملیح آبادی


اے فنا انجام انسان کب تجھے ہوش آئے گا
تیر گی میں ٹھوکریں آخر کہاں تک کھائے گا
اس تمرد کی روش سے بھی کبھی شرمائے گا
کیا کرے گا سامنے سے جب حجاب اٹھ جائے گا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

یہ سحر کا حسن ، یہ سیارگاں اور یہ فضا
یہ معطر باغ ، یہ سبزہ ، یہ کلیاں دل ربا
یہ بیاباں ، یہ کھلے میدان یہ ٹھنڈی ہوا
سوچ تو کیا کیا ، کیا ہے تجھ کو قدرت نے عطا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

خلد میں حوریں تری مشتاق ہیں آنکھیں اٹھا
نیچی نظریں جن کا زیور ، جن کی آرائش حیا
جِن و انساں میں کسی نے بھی نہیں جن کو چھوا
جن کی باتیں عطر میں ڈوبتی ہوئی جیسے صبا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

اپنے مرکز سے نہ چل منہ پھیر کر بہر ِ خدا
بھولتا ہے کوئی اپنی انتہا اور ابتدا
یاد ہے وہ دور بھی تجھ کو کہ جب تو خاک تھا
کس نے اپنی سانس سے تجھ کو منور کر دیا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

سبز گہرے رنگ کی بیلیں چڑھی ہیں جا بجا
نرم شاخیں جھومتی ہیں ، رقص کرتی ہے صبا
پھل وہ شاخوں میں لگے ہیں دل فریب و خوشنما
جن کا ہر ریشہ ہے قندو شہد میں ڈوبا ہوا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

پھول میں خوشبو بھری ، جنگل کی بوٹی میں دوا
بحر سے موتی نکالے صاف روشن ، خوش نما
آگ سے شعلہ نکالا، ابر سے آبِ صفا
ک سے ہو سکتا ہے اس کی بخششوں کا حق ادا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

ہر نفس طوفان ہے ، ہر سانس ہے اک زلزلہ
موت کی جانب رواں ہے زندگی کا قافلہ
مضطرب ہر چیز ہے جنبش میں ہے ارض وسما
ان میں قائم ہے تو تیرے رب کے چہرے کی ضیا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

صبح کے شفاف تاروں سے برستی ہے ضیا
شام کو رنگ شفق کرتا ہے اک محشر بپا
چودھویں کے چاند سے بہتا ہے دریا نور کا
جھوم کر برسات میں اٹھتی ہے متوالی گھٹا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

चांद भी तनहा, हम भी तनहा.... शब बरात भी तनहा तनहा
پڑھیے! نظم ’مدرسہ‘ https://abirti.blogspot.com/2020/03/nazm-madarsa.html?m=1

سورۂ رحمٰن کا صوتی جمال ایسا پُر کیف ہے کہ دل شب برأت کی ’پندرہویں چاند‘ کی طرح چمک، دمک محسوس کرتا ہے۔ 

@MobeenJamei
+917618049339
https://youtu.be/HHffMy4TB4U ‘دیکھیے! نظم ’کردو غوث کرم خدارا

Tuesday, April 7, 2020

Lockdown...Ulma

ہائے رہے! علماء 


لاک ڈاؤن کے سوا ہندوستان کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں۔ آزادی کے 73 برس گذر جانے کے باوجود یہاں انفراسٹرکچر، ڈاکٹر، نرس، وارڈ بوائے، دوا، پرسنل پروٹیکٹیو اکوپمنٹ (پی پی ای) اور ٹیسٹ لیبارٹریز حسب ضرورت نہیں ہیں کیونکہ سیاست مذہبی جنون کی آبیاری کرتی ہے اور سیاست داں اپنی اپنی تجوری بھرنے میں سرگرداں رہتے ہیں۔ در حقیقت چند افراد ہی خوشحال ہیں، انہی کی خوشحالی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور برہمن ازم در پردہ اپنے خاص ایجنڈے پر پیہم کاربند رہتا ہے۔ 

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ روز ایمس کے ڈاکٹروں نے وزیر اعظم کو مکتوب ارسال کیا ہے کہ انہیں ضروری اشیاء فراہم کی جائے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں عرضی بھی دائر ہے جس پر اگلے ہفتے مرکز اپنا موقف رکھے گا۔ یہ بھی قابل دید و داد ہے کہ سپریم کورٹ ہیلتھ ایمرجنسی میں بھی اتنا وقت لے رہا ہے اور دے رہا ہے۔

دیکھیے! نظم "گھر کو چھوڑا" (مرکزی خیال؛ پی ایم مودی) https://youtu.be/UvuDAnP9Rto

خبر رساں ادارہ رائٹر نے کورونا کے حوالے سے ورلڈ کی ٹاپ 10 اسٹوریز کا انتخاب کیا ہے۔انہی میں ہندوستان سے جس اسٹوری کو چنا ہے، اس میں یہ ہے کہ پی ایم مودی نے لاک ڈاؤن کے اعلان سے قبل میڈیا سے کہا۔۔۔جو ایک طرح سے حکم ہی ہے کہ "کووڈ-19" سے متعلق مثبت خبریں ہی دکھائی جائیں۔

دیکھیے! دہلی فسادات 2020 پر نظم"بے حسی" https://youtu.be/bsNlHcbrVW0

آزادی کے بعد سے ہی ہم اقلیت (مسلم) برہمن ازم کی طاغوتی چکی میں گیہوں کی طرح، پھنسے ہوئے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہم میں انتشار کا عالم یہ ہے کہ ہم اپنی ہی لاش کھا کر اپنا پیٹ بھرتے آئے ہیں اور بھر رہے ہیں۔۔۔اپنا ہی خون پی کر اپنی پیاس بُجھاتے آئے ہیں اور بجھا رہے ہیں؛ اس سنگین ہولناکی کے باوجود علماء اپنی ہی دھن میں مست ہو کر بے سر و پا "انا الحق، انالحق" کی رٹ لگائے رہتے ہیں جبکہ ان کے پاس محض "انا" ہے "حق" تو ہے ہی نہیں تاہم انہیں تنہا جنت میں جانے کا "عجیب الحقائق یقین کامل" ہے۔ 

الجامعۃ الاسلامیہ،روناہی: ایک تعارف؛ یہ بھی پڑھیں https://abirti.blogspot.com/2017/05/aljame-atul-islamia-raunahi-ek-taaruf.html

سابق وائس پرنسل جامعہ روناہی علامہ وصی صاحب حفظہ اللہ کا قول ہے،’اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کی ضروت بن جاؤ‘۔ قرآن عظیم میں فرمایا گیا کہ (وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى الْاَرْضِ) ہر وہ چیز جو انسانوں کو فائدہ پہنچائے اسے زمین میں ثبات ہے۔ 

بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی رحمہ اللہ بارہا فرمایا کرتےتھے،’من لم یعرف زمانہ فھو جاھل‘۔(جو اپنے زمانے کو نہیں سمجھتا وہ جاہل ہے۔)

’حضور بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی‘ یہ بھی پڑھیں https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post.html

لاک ڈاؤن کے بعد جس طرح سے علماء جبہ، قبہ، عمامہ، داڑھی اور ٹوپی میں پولیس کی لاٹھی چارج کے دوران پٹتے اور اپنی جان بچاتے ہوئے بے تحاشہ بھاگتے نظرآئے، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نہ تو انسانوں کے لیے نفع بخش ہیں اور نہ ہی اپنے زمانے کو جانتے ہیں۔ پولیس تعصب سے کام لیتی ہے کیونکہ مبینہ طور پر وہ فرقہ پرست ہے۔۔۔۔اسی طرح فوج، آر اے پی سمیت تمام ایجنسیاں اور مکمل انتظامیہ حتی کہ عدلیہ بھی۔

آپ اگر ایک مفتی، عالم اور امام ہیں تو کوئی مانے نہ مانے‘ آپ ایک قائد ہیں۔ آپ کو موجودہ حالات اور ان کے تقاضوں کے تئیں دو قدم آگے بڑھ کر معلومات ہونی چاہیے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ایڈوائزری  اور آرڈر جاری کیے تھے۔ آپ کو انھیں پڑھنا چاہیے تھا کہ کیا شرائط ہیں اور کیا چھوٹ ہے۔ (انٹرنیٹ کے زمانے میں بہت آسان ہے۔) اگر آپ نے پڑھا ہوتا اور تھوڑی بھی قانون کی معلومات ہوتی تو آپ بھاگ کھڑے نہیں ہوتے بلکہ پولیس سے پوچھتے....

کیا بات ہے؟
 آپ کے پاس ایڈوائزری یا آرڈر کی کاپی ہے؟
 آپ جانتے ہیں اس میں کیا کیا شرائط ہیں؟
 آپ کی کاروائی ایڈوائزری یا آرڈر کی خلاف ورزی ہے؟


۔۔۔ اور یہ سوالات آپ اسی وقت کرنے کے اہل ہوں گے جبکہ آپ خود غلط نہ ہوں۔ خدا کرے کہ جھوٹ ہو؛ اگر خاطی پائے گئے تو آپ متانت سے کہتے! ٹھیک ہے....آپ قانونی کاروائی کریں ہم قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ یاد رہے کہ آئین میں ایک شہری کو بڑے اختیارات ہیں مگر ذمہ داریاں بھی ہیں۔ اگر کسی شہری کو اندیشہ ہوکہ سرکاری اہلکار اس کی جان لے سکتا ہے تو وہ ذاتی دفاع میں اسے قتل بھی کر سکتا ہے۔

دیکھیے! نظم "جے این یو اٹیک"  https://youtu.be/f3G7tx7ACGI

ذاتی دفاع (پرائیویٹ ڈیفنس) کے حوالے سے آئی پی سی (تعزیرات ہند) کے تحت 16، 18 کی شق 96، 99، 100 کو پڑھنا چاہیے۔


شق 100 کے تحت سات صورتوں میں پرائیویٹ ڈیفنس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔۔۔

(1) ایسا حملہ، جس سے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہو۔۔۔شدید زدو کوب (grievous hurt)۔
(2) ایسا حملہ جو جنسی زیادتی (ریپ) کے ارادے سے کیا گیا ہو۔
(3) ایسا حملہ جس سے کسی لڑکی کو اندیشہ ہو کہ وہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی ہے۔
(4) غیر فطری طور پر جنسی ہوس کی تکمیل ( لواطت بھی اسی زمرے میں شامل ہے۔)
(5)  ایسا حملہ جو اغوا یا زبردستی دباؤ ڈال کر بھگانے کی نیت سے کیا گیا ہو۔
(6) ایسا حملہ جو  کسی شخص کو غلط طریقے سے قید کرنے کے ارادے سے کیا گیا ہو، ایسے میں جو اسے معقول حد تک گرفت میں لے جانے کا سبب بن سکتا ہے کہ وہ اپنی رہائی کے لئے عوامی حکام سے تعاون کرنے سے قاصر ہوگا۔
(7) تیزاب سے حملے کا اندیشہ ہو


واضح رہے کہ ان قوانین کا ذکر محض اس مقصد سے کیا جا رہا ہے کہ آپ اپنے اندر بہ اختیار اور بہ وقار شہری کا احساس پیدا کریں۔۔۔۔یہ نہیں کہ گتھم گتھا ہوجائیں۔ ہم پر فرض ہے کہ اس آئین و اقتدار کے بارے میں جانیں جس کے توسط سے ہم گورن ہو رہے ہیں (ہم پر حکومت کی جاری ہے)۔ قانون سے لاعلمی بھی ناقابل تلافی ایک سنگین بد عملی ہے۔


’سپریم کورٹ کا جنازہ‘ یہ بھی پڑھیں https://abirti.blogspot.com/2020/01/supremecourt.html?m=1


مدارس کو چاہیے کہ بورڈ کا نصاب چلائیں اور بورڈ کا ہی امتحان سختی سے کروائیں کیونکہ اس میں بہرکیف! این سی ای آر ٹی کی کتب سمیت کافی اچھی کتابیں داخل ہیں جو آئین، سماجیات، سیاسیات، سائنس اور جغرافیہ سمیت دیگر موضوعات کی بنیادی معلومات طلبہ تک پہنچاتی ہیں۔(جیسا کہ میں نے لکھنؤ بورڈ کی ویب سائٹ پر دیکھا اور سمجھا، قطعی معلومات میرے پاس  بھی نہیں ہیں کیونکہ بورڈ کے نصاب کی کاپی دستیاب نہ ہوسکی۔) مدارس کے فارغ اکثر ’بدھو‘ ہوتے ہیں۔ انھیں کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا۔ میں بھی انہیں میں سے ایک ہوں۔ 

قرآن کی متعدد آیات ہیں جن سے محاسبہ نفس کا حکم مستفاد ہوتا ہے۔ آپ جو بھی ہیں عالم، مفتی اور امام۔۔۔خدا کے لیے! ایک مرتبہ اپنا محاسبہ نفس کرو...! اگر خود کو اپنے اپنے مناصب کا اہل پاتے ہو تو بحال رہو! ورنہ کوئی اور کام کرو۔ اصلاح کا یہی عمل سب سے بہتر ہے کہ خود سدھر جاؤ اور یہ تصور کرو کہ دنیا میں ایک نا اہل انسان کم ہو گیا۔

لاک ڈاؤن اور نماز جمعہ 


ایک طرف "جمعہ کی نماز" کے حوالے سے حضرت مفتی نظام الدین رضوی صاحب کا فتویٰ آتا ہے اور دوسری طرف اہل سنت (صوفی) میں گٹ بازی شروع ہو جاتی ہے۔ چند مزید علماء جن کی رائے مفتی نظام صاحب کے دلائل اور مشمولات سے مختلف ہے؛ وہ میدان میں نکل پڑے۔ عوام میں کنفیوژن اور انتشار پھیلانا شروع کر دیا۔ اگر حسن معاملہ کی بات کی جائے تو جتنے افراد نے بعد میں فتویٰ دیا انھیں مفتی نظام صاحب سے گفتگو کرکے ہی کوئی فتویٰ جاری کرنا چاہیے تھا۔ مگر یہاں امت اور مقاصد شرعیہ سے زیادہ اپنی جھوٹی شان اور دھندے کی پڑی رہتی ہے۔ کسے یہ فرصت کہ وہ امت کا بھی خیال کر لے۔واۓ تعجب! یہ سبھی مل کر مدارس کا ہنوز اپنا کوئی مشترکہ نصاب تک تشکیل نہ دے سکے۔ 

جس طرح سے جوابی فتوے جاری ہوئے؛ اس سے محسوس ہوا کہ ’چلتی ٹرین پر نماز پڑھنے کا حکم‘ اور اس پر جلسے اور کتابوں کی اشاعت کا دور پھر سے شروع ہونے والا ہے۔ کوئی کھڑی ٹرین پر نماز پڑھنے کو تیار نہیں اور ہم نے اسی مسئلے پر کروڑوں روپیے کتاب لکھنے، جلسہ کرنے اور نہ جانے کہاں کہاں خرچ کر دیے۔ نماز ہی بہ مشکل ایک یا دو فیصد افراد پڑھتے ہیں، ان ایک یا دو فیصد میں بہت معمولی افراد ایسے ہیں؛ جنھیں ٹرین کے سفر میں بھی اپنی نمازوں کا خیال رہتا ہے۔ 

ویسے پھر بھی بڑی خیر ہوئی؛ اگر حشمتی میدان میں آ جاتے تو پھر مقابلہ نا قابل دید ہوجاتا۔

یہ بھی پڑھیں، آخری فتویٰhttps://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_21.html?m=1

اگر یہ تحریر کسی ایسے صاحب کے ہاتھ لگے جو مفتی نظام الدین صاحب تک اسے پہنچا سکتے ہوں تو برائے کرم ضرور پہنچا دیں۔ ان سے ہماری اپیل ہے کہ آپ جتنے بھی دارالقضاء (دو چار ہی اہم) ہیں، انھیں اعتماد میں لے کر فتویٰ جاری کریں۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت مشکل کام ہے مگر آپ سے امید ہے کہ آپ ایک فون کرکے ان کی رائے ضرور طلب کر لیا کریں گے اور عوام کو انتشار سے بچائیں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی عرض ہے کہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی پر بھی آپ کی جانب سے کوئی لیٹر یا فتویٰ جاری ہونا چاہیے۔  بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم شمالی ہند والے جنوبی ہند کے علماء کا کوئی خیال نہیں کرتے، نہ ہی ہمارے درمیان ان کا کوئی تذکرہ ہوتا ہے۔۔۔۔اسی طرح ہم نے نارتھ ایسٹ (آسام، تریپورہ، منی پور، میزورم اور میگھالیہ وغیرہ) کو بھی بالکل چھوڑ رکھا ہے۔


’سی اے اے احتجاج، اب آگے کیا؟ یہ بھی پڑھیںhttps://abirti.blogspot.com/2020/01/caaprotest_30.html

نماز جمعہ کے حوالے سے مفتی نظام صاحب کے فتوے سے بہت سے امام اور موذن کی چھٹی ہوتے ہوتے رہ گئی جو کہ ایک طرح سے ‘حفظانِ روزگار‘ ہی کہلائے گا۔ امام و موذن کی تنخواہ ویسے بھی مساجد کے متولیوں پر بڑا بوجھ ہے۔ اسی سے تراویح کے لیے لامحالہ راستہ ہموار ہوگا۔۔۔۔(اگر لاک ڈاؤن بڑھتا ہے جیسا کہ ابھی تک یہی عندیہ ہے۔) جو علماء مدارس میں (پرائیویٹ) پڑھنے پڑھانے کا کام کرتے ہیں، فی الحال انھیں گذر اوقات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ذرائع آمدنی صفر ہو چکی ہے۔ 

ہمیں خوب یاد ہے! ایک شخص نے از راہ مزاح ایک چھوٹا سا اعلان لکھ کر وائرل کر دیا تھا کہ فلاں فلاں صاحبان آج سی اے اے کا بائیکاٹ کریں گے۔۔۔تو برگزیدہ صاحبان نے تردیدی بیان جاری کر دیا۔ حالانکہ دل ہی رکھنے کو کہہ سکتے تھے کہ ہاں! ہم آئین کی حفاظت میں عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں "کیوں ڈراتے ہو! https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_19.html?m=1

مسلمان باہم فتنہ و فساد میں رزق کا متلاشی ہے جو اسے حاصل بھی ہے۔ ہم باہم لڑنے کے بڑے خوگر ہیں۔ یاد کیجیے! سیریا سے امریکی فوجیوں کا انخلاء ہوا۔ اسی کے دوسرے دن سے ترکی نے کردوں پر بمباری شروع کر دی۔ جب تک امریکی فوجی تھے، ترکی کی ہمت نہیں ہوئی۔
دوسری جانب عرب ممالک ہمیشہ! جنگ پر آمادہ نظر آتے ہیں؛ جب اسرائیل کو جواب دینے کی بات آتی ہے تو سب دم دبا کر بیٹھ جاتے ہیں۔

نوٹ! میری اس تحریر کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ کسی کی حمایت یا مخالفت کی جائے۔۔۔میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے...کیونکہ بہت مشکل ہے زندگی اور بہت آسان ہے مر جانا۔۔۔پتے کی بات یہ ہے کہ اتحاد ہی زندگی ہے اور اختلاف موت ہے۔

یہ بھی پڑھیں "مرگ انبوہ جشن دارد" https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_22.html?m=1

فتویٰ

بغض و حسد کی دنیا، عقبیٰ میرے آگے
علماء کا ہے جو کھیل فتویٰ میرے آگے

ملت کے مسیحا تو، ملت کے قاتل دیکھ
ہے دوست قناعت کا قشقہ میرے آگے

العالمْ هو العاملْ‘فرما گئے غزالی’
بد خلق، بے عمل ہیں علماء میرے آگے

کورونا کی گھڑی میں، بے اعتنائی کیوں؟
مسجد بھی لاٹھی چارج سے رسوا میرے آگے

دیر و حرم کے جھگڑے مٹی میں مل ہی جائیں
سچا مبیں تو بن جا مسلماں میرے آگے
7, اپریل 2020
03:00 pm
نوٹ! یہاں مسجد سے مراد مقتدی اور مقتدیٰ ہیں۔

کورونا میگی نظم‘ یہ بھی پڑھیں https://abirti.blogspot.com/2020/03/nazm-maggi-corona.html

@MobeenJamei
+917618049339
👇...دیکھیے! نظم "کر دو غوث کرم خدارا
https://youtu.be/HHffMy4TB4U