اثرؔ قادری اعظمی کو اصل خراج عقیدت
کہتے ہیں جب وہ سبکدوش ہو کر جامعہ روناہی سے نکلے تو ان کی آنکھوں میں تھی جامعہ کی غزل۔۔۔۔آنسو تک نکل پڑے تھے۔
جامعہ کے در و دیوار چیخ رہے تھے۔ وہاں موجود کتنے ہی دل تھے جو کئی بے ہنگم جھرنوں کے مانند اشکبار ہو کر شور مچا رہے تھے کہ اہالیان جامعہ میں سے کوئی تو روک لو انھیں۔۔۔۔ از راہ اخلاق و انسانیت ایک بار تو کہہ دو کہ حضرت یہ آپ کا ادارہ ہے۔ اسے چھوڑ کر آپ کہاں جا رہے ہیں؟
بالکل ویسے ہی جیسے کسی نے کسی کے لیے کبھی کہا تھا،"ایک عالم کبھی ریٹائر نہیں ہوتا ہے!"۔ کاش یہ فسانہ، فسانہ نہیں حقیقت ہو پاتا۔
آج بھی روناہی کے عوام اورجامعہ کے قدیم طلبا ان کے بے رحم ریٹائرمنٹ کو یاد کرتے کرتے کہیں کھو جاتے ہیں۔
علامہ ڈاکٹر اقبال کی شاعری سے نکلنے والی خودی کو حضرت علامہ نعمان خاں علیہ الرحمہ نے اپنا تن، من، دھن سب کچھ دے دیا مگر کبھی اسے ٹھیس تک نہ پہنچنے دی گویا۔۔۔
انہی کی ذات بہ برکات کے سبب جامعہ سمیت کئی مدارس اور علماء کے وارے نیارے ہوگئے مگر ان کے پسماندگان کہیں نظر نہیں آتے۔ خلوص و خود داری کے سبب جو وہ کبھی کہہ نہ سکے، ان کے فیض یافتگان بھی ایسے نکلے جو کبھی سن ہی نہ سکے۔۔۔۔۔اور شاید سن لیا مگر ان سنا کر گئے۔
واضح ہو کہ مدارس کی دنیا میں علامہ اثرؔ خاں اعظمی واحد ایسی نابغہ روزگار شخصیت ہیں جنھوں نے پائی پائی کا حساب رکھا۔ خواہ ذاتی امور ہوں یا دیگراں۔ انہوں نے ایک منٹ کی تاخیر کو بھی رجسٹر کے حوالے کر دیا۔ یہی سبب ہے کہ انہیں یو پی حکومت اورقومی سطح پر صدر جمہوریہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جب تک وہ رہے جامعہ روناہی کی منتظمہ کمیٹی بے جا مداخلت سے باز رہی مگر اب۔۔۔خیر! چھوڑییے؛ پھر کبھی۔
اگر کسی نے غیرت و حمیت میں خودی کو فروخت نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے تو ہم پر بھی یہ فرض ہے کہ اس کے عزم کو نہ مرنے دیں۔ خودی نہ بیچنے والے کی غریبی کو سلام کریں۔ اسے نیلام ہونے سے بچا لیں۔
بہ ضمیر، اصول پسند اور خود دار افراد کی حوصلہ افزائی کریں۔ چاپلوسوں اور ابن الوقتوں کو آئینہ دکھائیں۔ مصلحت پسندی کو رد کریں۔ یہ بتائیں کہ دو ناؤں کی سواری ہلاکت ہے، کامیابی نہیں!
جامعہ کے در و دیوار چیخ رہے تھے۔ وہاں موجود کتنے ہی دل تھے جو کئی بے ہنگم جھرنوں کے مانند اشکبار ہو کر شور مچا رہے تھے کہ اہالیان جامعہ میں سے کوئی تو روک لو انھیں۔۔۔۔ از راہ اخلاق و انسانیت ایک بار تو کہہ دو کہ حضرت یہ آپ کا ادارہ ہے۔ اسے چھوڑ کر آپ کہاں جا رہے ہیں؟
بالکل ویسے ہی جیسے کسی نے کسی کے لیے کبھی کہا تھا،"ایک عالم کبھی ریٹائر نہیں ہوتا ہے!"۔ کاش یہ فسانہ، فسانہ نہیں حقیقت ہو پاتا۔
آج بھی روناہی کے عوام اورجامعہ کے قدیم طلبا ان کے بے رحم ریٹائرمنٹ کو یاد کرتے کرتے کہیں کھو جاتے ہیں۔
کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے
تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے_فیض انور
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر_اقبال
دوڑتا تھا خون ان کے جسم میں انصاف کا
پرتو حضرت عمر تھے حصرت نعمان خاں_ندیم سلطانپوری
جامعہ آج روشن ہے جن کے طفیل
خوب سے خوب تر تھے اثر قادری_عزیز الرحمن قدسی
پڑھیے ’حضور بڑے مفتی صاحب قبلہ‘ https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post.html
انہی کی ذات بہ برکات کے سبب جامعہ سمیت کئی مدارس اور علماء کے وارے نیارے ہوگئے مگر ان کے پسماندگان کہیں نظر نہیں آتے۔ خلوص و خود داری کے سبب جو وہ کبھی کہہ نہ سکے، ان کے فیض یافتگان بھی ایسے نکلے جو کبھی سن ہی نہ سکے۔۔۔۔۔اور شاید سن لیا مگر ان سنا کر گئے۔
واضح ہو کہ مدارس کی دنیا میں علامہ اثرؔ خاں اعظمی واحد ایسی نابغہ روزگار شخصیت ہیں جنھوں نے پائی پائی کا حساب رکھا۔ خواہ ذاتی امور ہوں یا دیگراں۔ انہوں نے ایک منٹ کی تاخیر کو بھی رجسٹر کے حوالے کر دیا۔ یہی سبب ہے کہ انہیں یو پی حکومت اورقومی سطح پر صدر جمہوریہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جب تک وہ رہے جامعہ روناہی کی منتظمہ کمیٹی بے جا مداخلت سے باز رہی مگر اب۔۔۔خیر! چھوڑییے؛ پھر کبھی۔
اگر کسی نے غیرت و حمیت میں خودی کو فروخت نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے تو ہم پر بھی یہ فرض ہے کہ اس کے عزم کو نہ مرنے دیں۔ خودی نہ بیچنے والے کی غریبی کو سلام کریں۔ اسے نیلام ہونے سے بچا لیں۔
بہ ضمیر، اصول پسند اور خود دار افراد کی حوصلہ افزائی کریں۔ چاپلوسوں اور ابن الوقتوں کو آئینہ دکھائیں۔ مصلحت پسندی کو رد کریں۔ یہ بتائیں کہ دو ناؤں کی سواری ہلاکت ہے، کامیابی نہیں!
میرا کیا ہے۔۔۔
کوئی تہمت ہو میرے نام چلی آتی ہے
جیسے بازار میں ہر گھر کی گلی آتی ہے_انجم خیالی
نوٹ: مجھ گنہ گار کو تو حضرت کی زیارت بھی نصیب نہ ہوئی۔ میں بہت بعد میں روناہی پہنچا ہوں مگر عوام و خواص سے ان کی سیرت اور اخلاق کریمانہ کے بارے میں اتنا سنا ہے کہ لگتا ہے کہ میں انھیں غیر محسوس طور پر دیکھ رہا ہوں۔ یہ سطور اس وقت سپرد قرطاس ہو گئے جب گذشہ برس ’برسوں گزر جانے کے بعد‘ جامعہ روناہی نے ان کی یاد منانے کا فیصلہ کیا۔ فراموشی بھی ان کی یادوں کو مسلسل تازگی کے ساتھ آنے والی نسلوں تک پہنچاتی رہی ہے۔ ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین۔
@MobeenJamei
+917618049339
👇...دیکھیے! نظم "کر دو غوث کرم خدارا
