ٹویٹر مگر احتیاط سے!
العلم نور’علم روشنی ہے‘ مگر فی زماننا علم طاقت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاٹا نیا آئل (پٹرول) ہے، اگلا سپر پاور ہونے کا سہرا اسی ملک کے سر ہوگا جس کے پاس سب سے زیادہ ڈاٹا ہوں گے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے! کہ کوئی بھی ایپ انسٹال کرنے کے بعد وہ ہر طرح کا اختیار(Access) مانگتا ہے اور جب تک آپ ہاں، نہیں کر دیتے وہ غیر فعال رہتا ہے...کام ہی نہیں کرتا۔ یہ واقعہ ہے کہ ہم صد فیصد دورِ دستاویز میں جی رہے ہیں...سب کچھ ریکارڈ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں ’ہٹ دھرمی‘ https://abirti.blogspot.com/2020/02/caa-caa-un.html?m=1
جمہوری نظام میں اقلیتیں تربوز کے مانند ہوتی ہیں، چاقو ان پر گرے یا وہ چاقو پر گریں...بہرحال کٹنا تربوز کو ہی ہوتا ہے۔ ہمیشہ درپردہ سازش اور میڈیائی پروپیگنڈہ کرکے اقلیتوں کو مشتعل کیا جاتا ہے اور وہ بھی ظلم کے تازیانے سے تازہ دم ہوکر جذباتی ہو اٹھتے ہیں...ہر طرح کا نقصان اٹھاتے ہیں۔ مسائل میں الجھا کر مقاصد باطلہ کی تکمیل ایک آسان، پرانا اور گھٹیا طریقۂ کار ہے جو مسلسل دہرایا جا رہا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اقلیتوں کے موقر وجود کا انحصاراکثریتی فرقے سے بڑھ کر صلاحتیں پیدا کرنے پر ہے۔ تصادم کا طرزِعمل وقتی طور پر بہت مؤثرمعلوم پڑتا ہے مگر دیر پا اور پائیدار ہرگز نہیں۔
یہ بھی پڑھیں’خودی کا اثؔر نعمان خاں رحمہ اللہ‘https://abirti.blogspot.com/2019/10/blog-post.html
مسرت خیز ہے کہ علماء کرام بڑی تعداد میں سوشل میڈیا میں سب سے زیادہ مؤثر ٹویٹرپر نہ صرف آئے ہیں بلکہ بے حد سرگرم بھی ہیں۔ چونکہ مسلسل میڈیا مسلم اقلیت پر حملہ آور رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی زندگی کا انحصار اقلیتوں کی بستیاں سبوتاژ کرنے، ہزاروں کی تعداد میں انھیں بے کس و بے بس کرنے، انہی کی لاش کھانے اور انہی کا خون پینے پر ہے۔ ایسے میں بالکل واضح ہے کہ میڈیا جانب داری کی حرم سرا سے ایک سے بڑھ کر ایک بردہ فروش، عیار، مکار اور داشتاؤں کو اینکر بنا بنا کر اسکرین پر لاتا رہے گا اور یہ دیکھ کر مسلم نوجوان ’علماء‘ غیظ وغضب میں آکر مضطرب تو ہوں گے ہی جو عین فطری ہے بلکہ خود کو مضطر بھی پائیں گے...اوربہت ممکن ہے کہ وہ جوش میں آکر ہوش کھو بیٹھیں۔
تو ایسے میں احتیاط کریں:
کسے فالو کر رہے ہیں؟
کسے لائک کر رہے ہیں؟
کسے رپلائی کر رہے ہیں؟
کسے مینشن کر رہے ہیں؟
کس ہیش ٹیگ کو ہوا دے رہے ہیں اور اس کا مقصد کیا ہے؟
بیرون ممالک بالخصوص عرب کو فالو یا ری ٹویٹ کرتے وقت یقینی بنائیں کہ آپ ان کے بارے میں کتنا جانتے ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ کوئی آپ کی منھ بھرائی کردے اور آپ اس پر لٹُّو ہو جائیں۔ آج کل تو پروین توگڑیا کو بھی کبھی کبھی مسلمانوں کے بارے میں اچھی باتیں کرتے دیکھا جا سکتا ہے...تو کیا مطلب؟ ماحیتِ قلب ہوگیا ہے!
سوشل میڈیا پر اس قدر ہوشیار رہیں کہ آپ کے کسی بھی اقدام پرغیرقانونی ہونے کا شائبہ تک نہ گزرے!
ٹویٹر پر ڈائریکٹ میسج (ڈی ایم) بھیجے جاتے ہیں جن میں صارف کی تعریف ہوتی ہے اور صارف کا ای میل اور رابطہ نمبر طلب کیا جاتاہے۔ جب صارف کوئی توجہ نہیں دیتا تو اسے آفر دیے جاتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ ’لالچ بری بلا ہے‘... ہزاروں اور لاکھوں ڈالر کا فائدہ بتلایا جاتا ہے۔ کئی بار بے وقوف بنا کر چندہ بھی مانگنے کی کوشش ہوتی ہے۔ ان تمام عمل کے دوران ہوتا یہ ہے کہ جوں ہی آپ ان کی لنک اوپن کرکے فارم بھرنا شروع کریں گے تو منٹوں میں آپ کا اکاؤنٹ، ڈاٹا اور سسٹم کسی نامعلوم کے کنٹرول میں آ جائے گا۔ پس! آپ ہمہ جہت تباہ و برباد ہو کر جیل کی پناہوں میں ہوا کھا رہے ہوں گے۔
ہم ایک مشکل اور انتہائی صبر آزما دورِ پُر فِتَن سے گذر رہے ہیں۔ آزمائیشیں انسانوں کو عظیم بنانے کے لیے رب کی طرف سے دنیا میں انمول عطیہ (مواقع) ہیں۔ گھبرانے یا جذباتی ہونے کی کوئی ضروت نہیں۔ ضروت اس بات کی ہے کہ ہمہ لمحہ ’مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ‘ کو حرزجاں بنائیں اور مومنانہ فراست ’غایت درجے کی سوجھ بوجھ‘ سے کام لیں...’ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین‘۔ یاد رہے!’دودھ کا جلا ہوا، چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے‘۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا،’ ان مع العسر یسرا‘ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
یہ بھی پڑھیں "کیوں ڈراتے ہو! https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_19.html?m=1
احتیاطی تدابیرحسنہ کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال ایک مشکل امر ہے۔ لیکن؛ اگر آپ جذباتی نہ ہوں اور مومنانہ فراست سے کام لیں تو یہی مشکل آپ کے لیے مشعل کا کام کرے گی۔ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت مشکل یہ ہے کہ یہاں مختلف ممالک کی خفیہ ایجنسیاں، بلیک مارکیٹ (منی لانڈرنگ، غیر قانونی اسلحہ فراہمی، ڈرگس، افیم اور منشیات کی خرید وفروخت)، مختلف غیر قانونی اور دہشت گرد تنظیمیں بھی سرگرم رہتی ہیں۔ چونکہ ان سب کے پاس ڈاٹا ماہرین کی ایک فوج ہوتی ہے جو بہ آسانی آپ کی پسند نا پسند کو جان لیتی ہے۔ پھر وہ دھیرے دھیرے اپنے جال میں آپ کو پھانستی چلی جاتی ہے۔ بادی النظر میں تو یہ کسی بہت پڑھے لکھے اور ہوشیار آدمی کو بھی سمجھ میں نہیں آتا اور وہ بھی دھوکہ کھا جاتا ہے جو آئی ٹی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کا بڑا تیس مار خاں بنا پھرتا ہے۔ آپ اپنے ذہن پر تھوڑا سا زور دیں! ماضی قریب کی مثال ہے کہ مبینہ طور پر ہندوستان سے بھی کچھ مسلم نوجوانوں نے آئی ایس آئی ایس (دہشت گرد تنظیم) کی آن لائن رکنیت حاصل کرکے جنگ زدہ ملک عراق روانہ ہو گئے تھے۔
’سی اے اے احتجاج، اب آگے کیا؟‘ یہ بھی پڑھیںhttps://abirti.blogspot.com/2020/01/caaprotest_30.html
ٹویٹر ایک مجازی اور عوامی جگہ ہے۔ ایک سوشل نیٹ ورک کی حیثیت سے، یہ فیس بک یا جی + کے مقابلے کہیں زیادہ اوپن ہے، کیونکہ یہ فلٹر یا رکاوٹوں کے بغیرہر طرح کے واقعات اور آراء کو شیئر کرنے اور ان پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کوئی بھی آپ کو فالو کرسکتا ہے اور آپ کسی کو بھی فالو کر سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے ، بہت کم پابندیاں ہیں۔عوامی نوعیت کا ہونے کے سبب ٹویٹر آپ کی پرسنل پرائیویسی (ذاتی رازداری) اور سکیورٹی کے لیے ایک انتہائی خطرناک سوشل نیٹ ورک ہے لہٰذا مندرجہ ذیل نکات ہرگز نظر انداز نہ کریں۔
مشتبہ لنلک چیک کریں:
زیادہ تر ٹویٹس کے لنکس مختصر ہوتے ہیں۔ بسا اوقات یہ لنک خطرناک مقامات کی طرف لے جاتے ہیں جیسے جعلی فارم یا وائرس جو آپ کے براؤزر پر ڈاؤن لوڈ ہوتے ہیں۔ چونکہ ہمیں جہاں نہیں ہونا چاہئے اس پر کلک کرنے سے ہی سوشل نیٹ ورکس پر میلویئر انفیکشن (وائرس) کا خطرہ پیدا ہوتا لہذا ان لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں جن پر آپ کو اعتبار نہیں ہے۔ ایک مختصر لنک کے پیچھے کیا پوشیدہ ہے یہ جاننے کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ براؤزر ایکسٹینشن ‘کروم’ اور ‘فائر فوکس’ کا استعمال کریں۔ آپ اے وی جی ’لنک اسکینر‘ بھی استعمال کرسکتے ہیں جو چیک کرتا ہے کہ لنک محفوظ ہے یا نہیں۔
ٹویٹر کے لیے ایک منفرد (Unique)، اسٹرونگ پاس ورڈ استعمال کریں:
سیکیورٹی کی سب سے بڑی غلطی جو آپ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ متعدد سروسز کے پاس ورڈ کو دہرانا ہے کیونکہ اگر کوئی ہیکر آپ کے پاس ورڈ میں سے کسی ایک کو پکڑ لیتا ہے تو وہ متعدد اکاؤنٹس میں اسے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔ اسی لیے آپ کو ٹویٹر کے لیے ایک منفرد اور محفوظ پاس ورڈ چننا ہوگا۔ اگر مخمصہ محسوس ہو توآپ پاس ورڈ مینیجر کا استعمال کرسکتے ہیں۔
دوسروں کے ساتھ اپنے اکاؤنٹ کا پاس ورڈ ہرگز شیئر نہ کریں:
اپنے اکاؤنٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئرکرنا تفریح طبع کے لیے بہت ہی خوشگوار ہو سکتا ہے، اگر اس اکاؤنٹ کا یہی مقصد ہے۔ لیکن؛ اگر آپ کو اپنے اکاؤنٹ کی معلومات کی پرواہ ہے تو کبھی بھی کسی ایسے شخص کے ساتھ اپنا پاس ورڈ شیئر نہ کریں جو آپ کا کامل معتمد علیہ نہیں ہے: جتنا زیادہ لوگ آپ کے پاس ورڈ کو جانیں گے اتنا ہی زیادہ خطرے کا امکان ہے۔
اپنے موبائل پر ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کو آن کریں:
اگر آپ ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کو آن کرتے ہیں تو جب بھی آپ کسی نئے کمپیوٹر یا فون سے اپنا اکاؤنٹ ایکسِس کریں گے تو آپ کو ایک ایسا کوڈ ڈالنا ہوگا جو آپ کے فون پر ہر بار بھیجا جائے گا۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ اگر کوئی آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کا پاس ورڈ جان بھی جا بھی ہے تو وہ بھی آپ کے اکاؤنٹ کو ایکسس نہیں کر پائے گا۔
پاس ورڈ کو ریسیٹ کرنے لیے پرسنل انفارمیشن کی ویریفکیشن کو فعال (Enable) کریں:
دوسرا اچھا خیال یہ ہے کہ جب آپ اپنا پاس ورڈ بھول جاتے ہو تو ٹویٹر سے پرسنل انفارمیشن (ذاتی معلومات) طلب کریں۔ اگر آپ سکیورٹی مینو پر باکس کو چیک کرتے ہیں تو آپ کو اپنا ای میل اور اپنا فون نمبر دینے کا اشارہ کیا جائے گا۔ یہ Username تلاش کرنے سے کہیں زیادہ بھروسے مند ہے۔
اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے نامعلوم ایپس کو ہٹائیں:
بہت سے ایپ ایسے ہیں جو آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ تک رسائی (Access) حاصل کرنا چاہتے ہیں اور بعض اوقات ہم اس بابت سوچے بغیر اجازت بھی دے دیتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس سے آپ کا ڈاٹا خطرے میں پڑ جائے گا۔
وقتاً فوقتاً، ایپلی کیشنز کی فہرست چیک کریں جنھیں آپ کے اکاؤنٹ تک ایپلی کیشن سیٹنگ مینو سے رسائی (Access) حاصل ہے۔ صرف Revoke Access پر کلک کردیں۔ ایپ کو فوری طور پر منقطع کردیا جائے گا پھروہ آپ کے ڈیٹا ریڈنگ کو جاری رکھنے سے قاصر ہو جائے گا۔ اگرآپ غلط پر کلک کرتے ہیں تو دوبارہ کلک کریں، اسے بحال کردیا جائے گا۔
کمپرومائزٹڈ اکاؤنٹ کی علامات پر توجہ دیں:
بہت ساری علامات ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آپ کا ٹویٹر اکاؤنٹ کمپرومائزڈ ہے۔ انہی علامات میں سے کچھ یہ ہیں:
آپ کو مطلع کیا گیا ہے کہ آپ نے براہ راست پیغامات (ڈی ایم) بھیجے ہیں جو دراصل آپ نے نہیں بھیجے تھے۔
آپ کو ٹویٹس کے جواب ملتے ہیں جنھیں بھیجنا آپ یاد نہیں رکھتے۔
آپ ان اکاؤنٹس کو فالو کرتے ہیں یا فالو کرنا چھوڑ دیتے ہیں جو آپ کی یاد داشت سے دور ہیں۔
آپ کو نان رکویسٹیڈ (Non-requested) یا عجیب سے سیکیورٹی نوٹیفکیشن موصول ہوتی ہیں۔
آپ کے پروفائل کی شکل بدل گئی ہے ، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔
اگر آپ کو یہ علامات نظر آتی ہیں تونامعلوم ایپس کی آتھرائیزیشن (اجازت) منسوخ کریں اور اپنا پاس ورڈ فوری طور پر بدل لیں۔
پاس ورڈ کا مطالبہ کرنے والے کسی بھی ای میل کا جواب ہرگز نہ دیں:
یہ ممکن ہے کہ حالیہ پاس ورڈ کی چوری کے سبب ہونے والی خوف و ہراس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کو ایک ای میل موصول ہو اور محسوس ہو کہ یہ ٹویٹر کے کی جانب سے بھیجا گیا ہے۔ اگر ای میل آپ سے اپنا موجودہ پاس ورڈ بھیجنے یا کسی شکل میں لکھنے کو کہے تو اسے نظرانداز کریں۔ عام طور پر کسی بھی مشتبہ ای میل سے ہوشیار رہیں، اگر آپ نے کچھ پوچھا نہیں ہے تو ہرگز کلک نہ کریں۔
وقتاً فوقتاً اپنے ٹویٹس کا بیک اپ ڈاؤن لوڈ کریں:
ذرا تصور کریں کہ کوئی آپ کے اکاؤنٹ کا Access پا لیتا ہے اور پھر اسے بند کردیتا ہے یا ایسے ایپ کو مجاز بنائیں جو آپ کی نصف پوسٹ کو حذف کردے۔ یہ ایک تباہی ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر اگر آپ اپنا اکاؤنٹ کام کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ آپ اپنے ٹویٹر پروفائل کے ’فُل بیک اَپ‘ اکاؤنٹ مینو سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ جب فائل تیار ہوجائے گی ، آپ کو ڈاؤن لوڈ لنک کے ساتھ ایک ای میل موصول ہوگا۔
گمنام ٹرول، بر انگیختہ، پریشان اور ناراض کرنے والوں کو بلاک کریں۔
آپ کا ای میل اکاؤنٹ ایک علیحدہ کائنات ہے جسے ٹویٹر کے ساتھ خلط ملط نہ کریں۔ اپنے ای میل ایڈریس کے ذریعہ دوسروں کو ڈھونڈنے سے روکیں۔
کسی کا آپ کو بلا اجازت ٹیگ کرنا بہت پریشان کن ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس سے آپ کی پروائیویسی کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے تو فوٹو ٹیگنگ کو غیر فعال(disable) کریں۔ آپ ان افراد کا انتخاب کر سکتے ہیں جنھیں آپ کی مرضی سے ٹیگ کرنے کی اجازت ہوگی۔
اپنے ٹویٹس کا جغرافیائی مقام (جیو لوکیشن) غیر فعال (disable) کریں:
کچھ سالوں سے ٹویٹر آپ کوجیو لوکیشن اپنے ٹویٹس (جی پی ایس کے ذریعے) سے منسلک کرنے کا آپشن دیتا ہے۔ یہ پرائیویسی کے لیے بڑا خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔ تصور کیجیے! مثال کے طور پر ممکنہ چور کو پتہ چلا کہ آپ عارضی طور پر کسی دوسرے ملک سے ٹویٹ کررہے ہیں۔ اس طرح آپ کی جانب سے اسے گھر لوٹنے کی ایک کھلی دعوت ہوگی۔ پرائیویسی کی سیٹنگ سے اس فنکشن کو غیر فعال (disable) کریں۔
نامناسب ٹویٹس، ایڈ یا تصاویر کو فلیگ لگائیں:
آپ انٹرنیٹ کو ایک زیادہ محفوظ اور خوشگوار جگہ بنانے میں بھی مدد کرسکتے ہیں۔ جب آپ کو تصاویر یا نامناسب پیغامات نظر آئیں تو آپ انہیں فلیگ (رپورٹ) کرسکتے ہیں تاکہ ٹویٹر ایکشن لے سکے۔ اس ترح ٹیوٹس کو ری ٹویٹ یا رپلائی نہ کریں جو واضح طور پر خطرناک یا غیر قانونی ہوں۔ اس پر خاص توجہ دینا چاہیے۔ تحریک فروغ اسلام نے منظم جد و جہد کا آغاز کیا ہے۔ ہم رپورٹ نہیں کرتے، اسی لیے نفرت پھیلانے والوں کے حوصلے اس قدر بلند ہیں۔
اگر آپ کو دھمکی ملے تو ٹویٹر اور حکام کو مطلع کریں:
سائبر کرائم ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اگر کوئی آپ کو ہراساں کرتا ہے، دھمکی دیتا ہے یا ٹویٹر کے ذریعہ آپ پر زبانی طور ہر حملہ آور ہے تو ٹویٹر پرایک فارم ہے اسے استعمال کرتے ہوئے رپورٹ کریں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو جان کا خطرہ ہے تو حکام سے رابطہ کریں۔ (حکام کو بتانے سے بھی کچھ خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا مگر کاغذی کاروائی کی اپنی اہمیت ہے۔)
ذاتی معلومات شائع کرنے سے پہلے غور کریں:
ٹویٹر پر آپ جو بھی پوسٹ کرتے ہیں اس میں اگر ذاتی ڈیٹا شامل ہے تو وہ آپ کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے۔ ٹویٹر پر اس طرح کے کسی بھی معلومات کو پوسٹ کرنے سے پہلے غور و خوض کریں! Hootsuite جیسے ٹول کا استعمال کریں جو آپ کو پوسٹس شیڈول کرنے اور ان کے اثرات کو آسانی سے فالو کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
اگر آپ خواہ مخواہ کے مسئلے میں پڑنا نہیں چاہتے ہیں تو اپنے ٹویٹس کی حفاظت کریں:
ٹویٹر پر لاک ایک کلاسک فیچر ہےاس کے استعمال سے آپ کا ٹویٹر پروفائل فیس بک کی طرح نجی ہوجائے گا۔ آپ کی اجازت سے لوگ آپ کو فالو کریں گے اور آپ کے ٹویٹس دیکھ سکیں گے۔ (یہ زیادہ مفید نہیں)
ٹویٹر کے ضابطے پرعمل کریں:
آپ کو ایک اچھا ٹویٹریوزر بننا چاہئے۔ اگر آپ نہیں چاہتے کہ آپ کا اکاؤنٹ بلاک ہو تو آپ کو ٹویٹر کے ضابطوں پر عمل کرنا ہوگا۔ کسی اور شخص یا برانڈ کی نقالی نہ کریں، دوسرے لوگوں کی خفیہ معلومات شائع نہ کریں، کسی کو دھمکی نہ دیں، کسی بھی کاپی رائٹس (حق اشاعت) کی خلاف ورزی نہ کریں، غیر قانونی مقاصد کے لیے ٹویٹر کا استعمال ہرگز نہ کریں ۔ اگر آپ کو بلاک کردیا جاتا ہے تو آپ اپیل کرسکتے ہیں۔
سب سے اہم بالکل نہ گھبرائیں!
یہ بھی پڑھیں ’بابا صاحب اور سی اے اے 2019https://abirti.blogspot.com/2020/02/caa-caa-un.html?m=1
ٹویٹر ایک عوامی جگہ ہے ، لیکن یہ ایک محفوظ جگہ ہے۔ اگر آپ بلا وجہ کے مخمصے میں نہیں پڑنا چاہتے تو آپ ایک بہترین پاس ورڈ کا استعمال کریں اور کوئی کمپرومائزڈڈیٹا شائع نہ کریں۔ ہوشیار رہیں! آپ کے ساتھ کچھ بھی غلط ہونے کا کوئی امکان بھی پھٹک نہیں سکتا۔
واٹس ایپ اور فیس بک میسنجر پر کئی بار اسپیم میسجز یا لنک بھیجے جاتے ہیں اوراسی سے پورے موبائل پر کنٹرول پا لیا جاتا ہے۔
فیس بک پیج لائک کرنے میں بھی احتیاط برتنا چاہیے۔ اسی طرح واٹس ایپ پر شیئر اور فارورڈ کرتے وقت حد درجہ محتاط ہونا لازمی ہے۔ کسی بھی شخص کو کسی طرح کا اوٹی پی (ون ٹائم پاسورڈ) ہرگز نہ بتائیں۔ انڈروئڈ بالکل محفوظ نہیں مانا جاتا۔ ایپل کے فون محفوظ ترین سمجھے جاتے ہیں کیونکہ اس کی تمام سروسز، اپنی ہوتی ہیں جبکہ دوسرے برانڈ کے موبائل میں ایسا نہیں ہے.... موبائل مینوفیکچرنگ کسی اور کمپنی کی تو ایپلیکیشنس سروسز کسی اور کمپنی کی ہوتی ہے۔ سکیورٹی کے لحاظ سے ایپل کا کلاؤڈ سسٹم بہت سخت ہے۔
یہ بھی پڑھیں ’آخری فتویٰ‘https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_21.html?m=1
اکاؤنٹ ویریفکیشن
ٹویٹر اکاؤنٹ پر بلو ٹِک ہونے کے بہت سے فائدے ہیں کیونکہ یہ ویریفائیڈ اور مؤثر اکاؤنٹ ہونے کی پہچان ہے۔ ٹویٹر نے ویریفکیشن کا عمل کچھ مہینوں سے معطل کر رکھا ہے۔ پی آر (رابطہ عامہ) ایجنسیز، کمپنیز یا ورکر اکاؤنٹ ویریفکیشن میں جم کر کمائی کر رہے ہیں کیونکہ بہت معروف شخصیات ہیں جن کے ٹویٹر ہینڈل پر بلو ٹک نہیں۔ اسی لیے یہ بہت مشکل نہیں تو بہت آسان بھی نہیں۔ آپ گوگل پر ٹائپ کریں گے تو خود بہ خود سامنے آ جائے گا کہ ویریفکیشن کے لیے کیا کرنا ہے۔ جو اخبارات میں چھپتے ہیں اور عوامی شخصیت ہیں ان کے لیے قدرے آسان ہے۔ انھیں اپنے ادارے سے کے وائی سی کی طرز پر ایک لیگل پیپر تیار کروانا ہوگا۔ کئی بار پہلے ہی مرحلے میں ٹویٹر اکاؤنٹ ویریفائی ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں ’ہائے رے! علماء‘https://abirti.blogspot.com/2020/04/73-10-19.html
ٹویٹر کے مثبت اثرات کا ہی نتیجہ ہے کہ آج نفرتوں کے بیانیے تبدیل ہو رہے ہیں۔ یاد رہے کہ لوہا، لوہے کو کاٹتا ہے مگر اندھیرا اندھیرے کو نہیں کاٹتا اسی طرح نفرت کا خاتمہ نفرت سے ممکن ہی نہیں۔ ابتلاء اور آزمائش سے نہ گھبرائیں، یہ سب قدرتی ہے۔ سو بات کی ایک بات! جو برتن کام کا ہو؛ اسے بار بار دھویا جاتا ہے۔
یہ تو محض استعمال کی بات ہو رہی ہے پروگرامنگ کی نہیں...ویسے بھی ٹیکنو فرینڈ ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ اگلا جو بھی مجدد دین و ملت ہوگا، اسے آئی ٹی (انفارمیشن ٹینالوجی) پر مکمل دسترس ہوگا۔ قومی صلاح و فلاح کی خاطر موبائل کا مثبت استعمال کریں۔ جو بھی ٹویٹر یوزر ہیں وہ سیٹنگ میں جاکر اکاؤنٹ پر کلک کریں۔ Username پر کلک کرکے Unique (منفرد) مثلاً BlogABIRTI@ ہینڈل لے لیں۔ یہ منفرد ہوتا ہے۔ دو ہینڈل ایک Username سے نہیں ہوسکتے۔
بندگان خدا کی خاطر صوفیاء کی نیم شبی آج بھی جاری ہے! یہ مضمون بھی اسی کا فیضان ہے جس کے لیے کچھ انگریزی مضامین اور ویب سائٹ سے استفادہ کیا گیا ہے۔
مقصد یہ ہے کہ آپ کے اندر دنیا کا کامیاب ترین انسان بننے کا جوہر پیدا ہو جسے معلوم ہو کہ اسے کیا نہیں لکھنا ہے... کیا نہیں بولنا ہے اور کیا نہیں سننا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نا سمجھی اور نادانی میں سوشل میڈیا کا استعمال بے دریغ بڑھ تو جائے مگر اس سے نفع کم، نقصان زیادہ ہو۔ مسائل کا تدارک ’خود مسئلہ‘ بن کر ہرگز ممکن نہیں لہٰذا شش جہات سے اپنی حفاظت آپ کریں اور اپنا خاص خیال بھی رکھیں!
مزید معلومات کے لیے...👇
@MobeenJamei
mobeenahmad.abirti@gmail.com
+917618049339
Nazm, 'Kar Do Ghaus Karam Khudara!'


















