Tuesday, April 7, 2020

Lockdown...Ulma

ہائے رہے! علماء 


لاک ڈاؤن کے سوا ہندوستان کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں۔ آزادی کے 73 برس گذر جانے کے باوجود یہاں انفراسٹرکچر، ڈاکٹر، نرس، وارڈ بوائے، دوا، پرسنل پروٹیکٹیو اکوپمنٹ (پی پی ای) اور ٹیسٹ لیبارٹریز حسب ضرورت نہیں ہیں کیونکہ سیاست مذہبی جنون کی آبیاری کرتی ہے اور سیاست داں اپنی اپنی تجوری بھرنے میں سرگرداں رہتے ہیں۔ در حقیقت چند افراد ہی خوشحال ہیں، انہی کی خوشحالی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور برہمن ازم در پردہ اپنے خاص ایجنڈے پر پیہم کاربند رہتا ہے۔ 

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ روز ایمس کے ڈاکٹروں نے وزیر اعظم کو مکتوب ارسال کیا ہے کہ انہیں ضروری اشیاء فراہم کی جائے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں عرضی بھی دائر ہے جس پر اگلے ہفتے مرکز اپنا موقف رکھے گا۔ یہ بھی قابل دید و داد ہے کہ سپریم کورٹ ہیلتھ ایمرجنسی میں بھی اتنا وقت لے رہا ہے اور دے رہا ہے۔

دیکھیے! نظم "گھر کو چھوڑا" (مرکزی خیال؛ پی ایم مودی) https://youtu.be/UvuDAnP9Rto

خبر رساں ادارہ رائٹر نے کورونا کے حوالے سے ورلڈ کی ٹاپ 10 اسٹوریز کا انتخاب کیا ہے۔انہی میں ہندوستان سے جس اسٹوری کو چنا ہے، اس میں یہ ہے کہ پی ایم مودی نے لاک ڈاؤن کے اعلان سے قبل میڈیا سے کہا۔۔۔جو ایک طرح سے حکم ہی ہے کہ "کووڈ-19" سے متعلق مثبت خبریں ہی دکھائی جائیں۔

دیکھیے! دہلی فسادات 2020 پر نظم"بے حسی" https://youtu.be/bsNlHcbrVW0

آزادی کے بعد سے ہی ہم اقلیت (مسلم) برہمن ازم کی طاغوتی چکی میں گیہوں کی طرح، پھنسے ہوئے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہم میں انتشار کا عالم یہ ہے کہ ہم اپنی ہی لاش کھا کر اپنا پیٹ بھرتے آئے ہیں اور بھر رہے ہیں۔۔۔اپنا ہی خون پی کر اپنی پیاس بُجھاتے آئے ہیں اور بجھا رہے ہیں؛ اس سنگین ہولناکی کے باوجود علماء اپنی ہی دھن میں مست ہو کر بے سر و پا "انا الحق، انالحق" کی رٹ لگائے رہتے ہیں جبکہ ان کے پاس محض "انا" ہے "حق" تو ہے ہی نہیں تاہم انہیں تنہا جنت میں جانے کا "عجیب الحقائق یقین کامل" ہے۔ 

الجامعۃ الاسلامیہ،روناہی: ایک تعارف؛ یہ بھی پڑھیں https://abirti.blogspot.com/2017/05/aljame-atul-islamia-raunahi-ek-taaruf.html

سابق وائس پرنسل جامعہ روناہی علامہ وصی صاحب حفظہ اللہ کا قول ہے،’اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کی ضروت بن جاؤ‘۔ قرآن عظیم میں فرمایا گیا کہ (وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى الْاَرْضِ) ہر وہ چیز جو انسانوں کو فائدہ پہنچائے اسے زمین میں ثبات ہے۔ 

بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی رحمہ اللہ بارہا فرمایا کرتےتھے،’من لم یعرف زمانہ فھو جاھل‘۔(جو اپنے زمانے کو نہیں سمجھتا وہ جاہل ہے۔)

’حضور بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی‘ یہ بھی پڑھیں https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post.html

لاک ڈاؤن کے بعد جس طرح سے علماء جبہ، قبہ، عمامہ، داڑھی اور ٹوپی میں پولیس کی لاٹھی چارج کے دوران پٹتے اور اپنی جان بچاتے ہوئے بے تحاشہ بھاگتے نظرآئے، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نہ تو انسانوں کے لیے نفع بخش ہیں اور نہ ہی اپنے زمانے کو جانتے ہیں۔ پولیس تعصب سے کام لیتی ہے کیونکہ مبینہ طور پر وہ فرقہ پرست ہے۔۔۔۔اسی طرح فوج، آر اے پی سمیت تمام ایجنسیاں اور مکمل انتظامیہ حتی کہ عدلیہ بھی۔

آپ اگر ایک مفتی، عالم اور امام ہیں تو کوئی مانے نہ مانے‘ آپ ایک قائد ہیں۔ آپ کو موجودہ حالات اور ان کے تقاضوں کے تئیں دو قدم آگے بڑھ کر معلومات ہونی چاہیے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ایڈوائزری  اور آرڈر جاری کیے تھے۔ آپ کو انھیں پڑھنا چاہیے تھا کہ کیا شرائط ہیں اور کیا چھوٹ ہے۔ (انٹرنیٹ کے زمانے میں بہت آسان ہے۔) اگر آپ نے پڑھا ہوتا اور تھوڑی بھی قانون کی معلومات ہوتی تو آپ بھاگ کھڑے نہیں ہوتے بلکہ پولیس سے پوچھتے....

کیا بات ہے؟
 آپ کے پاس ایڈوائزری یا آرڈر کی کاپی ہے؟
 آپ جانتے ہیں اس میں کیا کیا شرائط ہیں؟
 آپ کی کاروائی ایڈوائزری یا آرڈر کی خلاف ورزی ہے؟


۔۔۔ اور یہ سوالات آپ اسی وقت کرنے کے اہل ہوں گے جبکہ آپ خود غلط نہ ہوں۔ خدا کرے کہ جھوٹ ہو؛ اگر خاطی پائے گئے تو آپ متانت سے کہتے! ٹھیک ہے....آپ قانونی کاروائی کریں ہم قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ یاد رہے کہ آئین میں ایک شہری کو بڑے اختیارات ہیں مگر ذمہ داریاں بھی ہیں۔ اگر کسی شہری کو اندیشہ ہوکہ سرکاری اہلکار اس کی جان لے سکتا ہے تو وہ ذاتی دفاع میں اسے قتل بھی کر سکتا ہے۔

دیکھیے! نظم "جے این یو اٹیک"  https://youtu.be/f3G7tx7ACGI

ذاتی دفاع (پرائیویٹ ڈیفنس) کے حوالے سے آئی پی سی (تعزیرات ہند) کے تحت 16، 18 کی شق 96، 99، 100 کو پڑھنا چاہیے۔


شق 100 کے تحت سات صورتوں میں پرائیویٹ ڈیفنس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔۔۔

(1) ایسا حملہ، جس سے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہو۔۔۔شدید زدو کوب (grievous hurt)۔
(2) ایسا حملہ جو جنسی زیادتی (ریپ) کے ارادے سے کیا گیا ہو۔
(3) ایسا حملہ جس سے کسی لڑکی کو اندیشہ ہو کہ وہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی ہے۔
(4) غیر فطری طور پر جنسی ہوس کی تکمیل ( لواطت بھی اسی زمرے میں شامل ہے۔)
(5)  ایسا حملہ جو اغوا یا زبردستی دباؤ ڈال کر بھگانے کی نیت سے کیا گیا ہو۔
(6) ایسا حملہ جو  کسی شخص کو غلط طریقے سے قید کرنے کے ارادے سے کیا گیا ہو، ایسے میں جو اسے معقول حد تک گرفت میں لے جانے کا سبب بن سکتا ہے کہ وہ اپنی رہائی کے لئے عوامی حکام سے تعاون کرنے سے قاصر ہوگا۔
(7) تیزاب سے حملے کا اندیشہ ہو


واضح رہے کہ ان قوانین کا ذکر محض اس مقصد سے کیا جا رہا ہے کہ آپ اپنے اندر بہ اختیار اور بہ وقار شہری کا احساس پیدا کریں۔۔۔۔یہ نہیں کہ گتھم گتھا ہوجائیں۔ ہم پر فرض ہے کہ اس آئین و اقتدار کے بارے میں جانیں جس کے توسط سے ہم گورن ہو رہے ہیں (ہم پر حکومت کی جاری ہے)۔ قانون سے لاعلمی بھی ناقابل تلافی ایک سنگین بد عملی ہے۔


’سپریم کورٹ کا جنازہ‘ یہ بھی پڑھیں https://abirti.blogspot.com/2020/01/supremecourt.html?m=1


مدارس کو چاہیے کہ بورڈ کا نصاب چلائیں اور بورڈ کا ہی امتحان سختی سے کروائیں کیونکہ اس میں بہرکیف! این سی ای آر ٹی کی کتب سمیت کافی اچھی کتابیں داخل ہیں جو آئین، سماجیات، سیاسیات، سائنس اور جغرافیہ سمیت دیگر موضوعات کی بنیادی معلومات طلبہ تک پہنچاتی ہیں۔(جیسا کہ میں نے لکھنؤ بورڈ کی ویب سائٹ پر دیکھا اور سمجھا، قطعی معلومات میرے پاس  بھی نہیں ہیں کیونکہ بورڈ کے نصاب کی کاپی دستیاب نہ ہوسکی۔) مدارس کے فارغ اکثر ’بدھو‘ ہوتے ہیں۔ انھیں کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا۔ میں بھی انہیں میں سے ایک ہوں۔ 

قرآن کی متعدد آیات ہیں جن سے محاسبہ نفس کا حکم مستفاد ہوتا ہے۔ آپ جو بھی ہیں عالم، مفتی اور امام۔۔۔خدا کے لیے! ایک مرتبہ اپنا محاسبہ نفس کرو...! اگر خود کو اپنے اپنے مناصب کا اہل پاتے ہو تو بحال رہو! ورنہ کوئی اور کام کرو۔ اصلاح کا یہی عمل سب سے بہتر ہے کہ خود سدھر جاؤ اور یہ تصور کرو کہ دنیا میں ایک نا اہل انسان کم ہو گیا۔

لاک ڈاؤن اور نماز جمعہ 


ایک طرف "جمعہ کی نماز" کے حوالے سے حضرت مفتی نظام الدین رضوی صاحب کا فتویٰ آتا ہے اور دوسری طرف اہل سنت (صوفی) میں گٹ بازی شروع ہو جاتی ہے۔ چند مزید علماء جن کی رائے مفتی نظام صاحب کے دلائل اور مشمولات سے مختلف ہے؛ وہ میدان میں نکل پڑے۔ عوام میں کنفیوژن اور انتشار پھیلانا شروع کر دیا۔ اگر حسن معاملہ کی بات کی جائے تو جتنے افراد نے بعد میں فتویٰ دیا انھیں مفتی نظام صاحب سے گفتگو کرکے ہی کوئی فتویٰ جاری کرنا چاہیے تھا۔ مگر یہاں امت اور مقاصد شرعیہ سے زیادہ اپنی جھوٹی شان اور دھندے کی پڑی رہتی ہے۔ کسے یہ فرصت کہ وہ امت کا بھی خیال کر لے۔واۓ تعجب! یہ سبھی مل کر مدارس کا ہنوز اپنا کوئی مشترکہ نصاب تک تشکیل نہ دے سکے۔ 

جس طرح سے جوابی فتوے جاری ہوئے؛ اس سے محسوس ہوا کہ ’چلتی ٹرین پر نماز پڑھنے کا حکم‘ اور اس پر جلسے اور کتابوں کی اشاعت کا دور پھر سے شروع ہونے والا ہے۔ کوئی کھڑی ٹرین پر نماز پڑھنے کو تیار نہیں اور ہم نے اسی مسئلے پر کروڑوں روپیے کتاب لکھنے، جلسہ کرنے اور نہ جانے کہاں کہاں خرچ کر دیے۔ نماز ہی بہ مشکل ایک یا دو فیصد افراد پڑھتے ہیں، ان ایک یا دو فیصد میں بہت معمولی افراد ایسے ہیں؛ جنھیں ٹرین کے سفر میں بھی اپنی نمازوں کا خیال رہتا ہے۔ 

ویسے پھر بھی بڑی خیر ہوئی؛ اگر حشمتی میدان میں آ جاتے تو پھر مقابلہ نا قابل دید ہوجاتا۔

یہ بھی پڑھیں، آخری فتویٰhttps://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_21.html?m=1

اگر یہ تحریر کسی ایسے صاحب کے ہاتھ لگے جو مفتی نظام الدین صاحب تک اسے پہنچا سکتے ہوں تو برائے کرم ضرور پہنچا دیں۔ ان سے ہماری اپیل ہے کہ آپ جتنے بھی دارالقضاء (دو چار ہی اہم) ہیں، انھیں اعتماد میں لے کر فتویٰ جاری کریں۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت مشکل کام ہے مگر آپ سے امید ہے کہ آپ ایک فون کرکے ان کی رائے ضرور طلب کر لیا کریں گے اور عوام کو انتشار سے بچائیں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی عرض ہے کہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی پر بھی آپ کی جانب سے کوئی لیٹر یا فتویٰ جاری ہونا چاہیے۔  بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم شمالی ہند والے جنوبی ہند کے علماء کا کوئی خیال نہیں کرتے، نہ ہی ہمارے درمیان ان کا کوئی تذکرہ ہوتا ہے۔۔۔۔اسی طرح ہم نے نارتھ ایسٹ (آسام، تریپورہ، منی پور، میزورم اور میگھالیہ وغیرہ) کو بھی بالکل چھوڑ رکھا ہے۔


’سی اے اے احتجاج، اب آگے کیا؟ یہ بھی پڑھیںhttps://abirti.blogspot.com/2020/01/caaprotest_30.html

نماز جمعہ کے حوالے سے مفتی نظام صاحب کے فتوے سے بہت سے امام اور موذن کی چھٹی ہوتے ہوتے رہ گئی جو کہ ایک طرح سے ‘حفظانِ روزگار‘ ہی کہلائے گا۔ امام و موذن کی تنخواہ ویسے بھی مساجد کے متولیوں پر بڑا بوجھ ہے۔ اسی سے تراویح کے لیے لامحالہ راستہ ہموار ہوگا۔۔۔۔(اگر لاک ڈاؤن بڑھتا ہے جیسا کہ ابھی تک یہی عندیہ ہے۔) جو علماء مدارس میں (پرائیویٹ) پڑھنے پڑھانے کا کام کرتے ہیں، فی الحال انھیں گذر اوقات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ذرائع آمدنی صفر ہو چکی ہے۔ 

ہمیں خوب یاد ہے! ایک شخص نے از راہ مزاح ایک چھوٹا سا اعلان لکھ کر وائرل کر دیا تھا کہ فلاں فلاں صاحبان آج سی اے اے کا بائیکاٹ کریں گے۔۔۔تو برگزیدہ صاحبان نے تردیدی بیان جاری کر دیا۔ حالانکہ دل ہی رکھنے کو کہہ سکتے تھے کہ ہاں! ہم آئین کی حفاظت میں عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں "کیوں ڈراتے ہو! https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_19.html?m=1

مسلمان باہم فتنہ و فساد میں رزق کا متلاشی ہے جو اسے حاصل بھی ہے۔ ہم باہم لڑنے کے بڑے خوگر ہیں۔ یاد کیجیے! سیریا سے امریکی فوجیوں کا انخلاء ہوا۔ اسی کے دوسرے دن سے ترکی نے کردوں پر بمباری شروع کر دی۔ جب تک امریکی فوجی تھے، ترکی کی ہمت نہیں ہوئی۔
دوسری جانب عرب ممالک ہمیشہ! جنگ پر آمادہ نظر آتے ہیں؛ جب اسرائیل کو جواب دینے کی بات آتی ہے تو سب دم دبا کر بیٹھ جاتے ہیں۔

نوٹ! میری اس تحریر کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ کسی کی حمایت یا مخالفت کی جائے۔۔۔میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے...کیونکہ بہت مشکل ہے زندگی اور بہت آسان ہے مر جانا۔۔۔پتے کی بات یہ ہے کہ اتحاد ہی زندگی ہے اور اختلاف موت ہے۔

یہ بھی پڑھیں "مرگ انبوہ جشن دارد" https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_22.html?m=1

فتویٰ

بغض و حسد کی دنیا، عقبیٰ میرے آگے
علماء کا ہے جو کھیل فتویٰ میرے آگے

ملت کے مسیحا تو، ملت کے قاتل دیکھ
ہے دوست قناعت کا قشقہ میرے آگے

العالمْ هو العاملْ‘فرما گئے غزالی’
بد خلق، بے عمل ہیں علماء میرے آگے

کورونا کی گھڑی میں، بے اعتنائی کیوں؟
مسجد بھی لاٹھی چارج سے رسوا میرے آگے

دیر و حرم کے جھگڑے مٹی میں مل ہی جائیں
سچا مبیں تو بن جا مسلماں میرے آگے
7, اپریل 2020
03:00 pm
نوٹ! یہاں مسجد سے مراد مقتدی اور مقتدیٰ ہیں۔

کورونا میگی نظم‘ یہ بھی پڑھیں https://abirti.blogspot.com/2020/03/nazm-maggi-corona.html

@MobeenJamei
+917618049339
👇...دیکھیے! نظم "کر دو غوث کرم خدارا
https://youtu.be/HHffMy4TB4U

36 comments:

  1. علما پر پولس افسران کے ہاتھ کھل گئے ہیں سارا قصور ہماری کم علمی کا ہی ہے۔

    ReplyDelete
  2. Sahi likha hai. .. Aur axi ray hai. Ab hamare ambedkar nagar me Shabe Barat 8 aur 9 ko hogi.... Mufti Nizam sb ka 9 ko aelaan hai jbki Jame Ashraf aur Jamia Izharul Uloom ja 8 ko Aelaan hai

    ReplyDelete
    Replies
    1. This comment has been removed by the author.

      Delete
    2. जी हमारे गांव से भी फोन आया था...लोग बहुत परेशान हैं.

      Delete
  3. Good. ... Keep it up....

    I always obey... Nashtar jo lagata hai woh dushman nhi hota

    ReplyDelete
    Replies
    1. شکریہ ۔۔۔۔دعائے خیر میں یاد رکھیں۔

      Delete
  4. ماشاء اللہ... اللہ آپکے زور قلم کو اور مضبوط اور ماثر کرے.
    یہ مقالہ اگر سو صفحات پر بھی مشتمل ہوتا تو پڑھنے میں کوئی اکتاہٹ محسوس نہ ہوتی.. مبین بھائی آپ مستقبل میں نئ نسل کے لئے امیف ہیں.. اللہ آپکو سلامت رکھے اور آپکی صلاحیتوں کو اور اجاگر کرے..

    ReplyDelete
  5. کیسے وہ دکھائیں گے زمانے کو راستہ
    معلوم نہیں جس کو ہے کیا میرے آگے

    ReplyDelete
    Replies
    1. واہ۔۔۔داد دینے کا انداز منفرد ہے۔ ماشاء اللہ

      Delete
  6. کیسے وہ دکھائیں گے زمانے کو راستہ
    معلوم نہیں جس کو ہے کیا میرے آگے

    ReplyDelete
  7. ہو علم تو پہھر کیا نہیں قبضے میں تمہارے
    واہ ماشااللہ لاجواب تحریر اس تحریر میں علماء کرام کا ادب بھی صوفیوں کی جھلک بھی محبت کا پیغام بھی معاشرے کی اصلاح بھی نظر آرہےہیں
    اللہ تعالی آپکے قلم میں مزید ترقی دے

    ReplyDelete
  8. ماشاءاللہ بہت چشم کشاں تحریر
    سب سے بڑی بات یہ کہ قارئین کیلئے علم میں اضافہ بھی ہوگا
    یہ تحریر طلبہ کو عصریات کی طرف راغب کریگی
    بس اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے عزیز مبین بھائی ہمت اور حوصلے کو سلامت رکھے و ترقی کے بام عروج کی طرف گامزن فرمائے

    ReplyDelete
  9. ماشاءاللہ بہت خوب لکھا
    مولی قدیر خوب دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطافرمایےآمین
    مشورہ خوب ہے
    گر قبول افتد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شرف

    ReplyDelete
  10. آپ کی تحریر پر از معلومات ہے
    زمانے کے تقاضوں کےساتھ زندگی بسر کرنے کا سلیقہ ہونا لازمی ہے, علمی انحطاط کا اس قدر زور ہے کہ اس کا کوئی حساب نہیں
    علماء, خطباءاورمذہبی رہنماؤں نے جو آپ سی رویہ اختیار کیا ہے وہ اس دور میں بالکل موزوں نہیں میری مراد نماز جمعہ کے حوالے سے مفتی نظام الدین صاحب کی رائے کے مقابل میں جو جس گروہ نے فتوی باز ی کی ہے سے ہے, امت مسلمہ اس وقت صالح قیادت کی سخت محتاج ہے اگر اس ضرورت کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ کی گئی تو صورت حال خطرناک بھی ہوگی اور امت میں مایوسی کے بادل بھی سامنے آئیں گے
    محترم مبین بھائی نے ایک کوشش کی ہے بیدار کرنے کی خدا کرے یہ کاوش ان کی کامیاب ہو

    ReplyDelete
  11. 💓آپ کے یہ بزرگانہ کلمات تحریر سے کہیں زیادہ اچھی ہیں۔ بہت شکریہ حوصلہ افزائی کا۔

    ReplyDelete
  12. یقیناً آپ کی تحریر پڑھ کر ایسا لگا آپ نہیں بول رہے ہیں ۔بلکہ آپ کا درد بول رہاہے

    ReplyDelete
  13. جس سے جگر لالہ کوٹھنڈک ہو وہ شبنم*دریاوں کے دلجس سے دہل جائیں وہ طوفاں ط

    تحریر سبک روی سے بڑھتی ہوئی ندی کی مانند محسوس ہوتی ھے اللھم زد فزد !!

    ReplyDelete
  14. ماشاء اللہ... اللہ آپکے زور قلم کو اور مضبوط اور ماثر کرے.
    یہ مقالہ اگر سو صفحات پر بھی مشتمل ہوتا تو پڑھنے میں کوئی اکتاہٹ محسوس نہ ہوتی.. مبین بھائی آپ مستقبل میں نئ نسل کے لئے امیف ہیں.. اللہ آپکو سلامت رکھے اور آپکی صلاحیتوں کو اور اجاگر کرے..

    ReplyDelete
  15. ماشاءاللہ.سبحان اللہ.الحمد للہ
    بہت خوب بہت عمدہ حضور.
    اللہ تعالیٰ آپ کی اس خدمات کو قبول ومقبول فرمائیں اور آپ کو صحت و سلامتی عطا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم

    ReplyDelete
  16. آپ سے عزیزانہ درخواست ہے کہ آپ اپنے مضامین کے ذریعہ عصر حاضر کے حالات سے ہمیں باخبر کرتے رہیں
    علماء حضرات کو یہ مضمون لازمی پڑھنا چاہیے

    ReplyDelete
  17. واہ بہت عمدہ و لاجواب تحریر ہے پروردگار اور ترقی عطا فرمائے

    ReplyDelete