ہیلتھ ایمرجنسی اور مساجد
حالانکہ اس پر کافی کچھ لکھا جا چکا ہے۔ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مساجد کو بلکل بند کرنا درست فیصلہ نہیں تاہم احتیاط ضروری ہے۔
غور کیجیے! مساجد میں بالعموم بانگی اور امام ہوتے ہی ہیں۔ اگر کوئی ایک پاس پڑوس کا آ جائے تو فبھا ورنہ دو ہی اذان و نماز جاری رکھ سکتے ہیں۔ ویسے بھی کل سپریم کورٹ نے اس پر آرڈر جاری کرنے سے منع کر دیا ہے۔ اگر کوئی کورونا متاثر یہاں سے سامنے آیا تو پھر کوئی راستہ نہیں بچے گا سوائے اس کے کہ مساجد مقفل کر دیے جائیں اور پولیس یا آرمی بٹھا دی جائے۔
نمازی حضرات یہ ضد چھوڑ دیں کہ جب تک مسجد وا ہے ہم تو جائیں گے ہی۔ آپ کا جذبہ خوب ہے مگر آپ پر فرض ہے کہ آپ دوسروں کا بھی خیال کریں۔ اپنے ہی اہل خانہ، بچے اور عزیزوں کی صحت کا دھیان کر لیں۔ کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کے گھر کا کوئی فرد اس مرض الموت میں گرفتار ہو؟ اگر نہیں تو پھر گھر پر ہی نماز ادا کریں اور موجودہ انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے رب سے استمداد کریں۔
@MobeenJamei
No comments:
Post a Comment