Saturday, November 28, 2020

Mufti Shabbir Hasan Razvi first Urs 2020

 ’بڑے مفتی صاحب نے دبے پاؤں آنے والیں منفی تحریکات کو داب دیا تھا‘

فی زماننا بہت سے چمچ؛ بطور چمچہ فروغ پانے کو ہیں لہذا وہ مذہبی سیاست کو روا جانتے ہیں اور اس میں خوں آشام سرمایہ داریت کے طرفدار بن بیٹھے ہیں۔ یہ وہی سرمایہ داریت ہے جسے سوائے اپنی؛ کسی اور کی خبر نہیں رہتی ؛ اس پر طرہ یہ کہ وہ اپنی اس جہالت کو "وحدۃ الوجود" سے تعبیر کرتی ہے۔


بہتوں کو اسی حسرت میں دنیا چھوڑ کر جانا پڑا کہ اعلیٰحضرت کی تحریروں کی تصحیح کرنا ہے!

بہتیرے یہ کہتے چل بسے کہ کتب اعلیٰحضرت کو مرجع کی حیثیت کیونکر دی جائے۔ اور یہ بڑبڑ تو ہنوز جاری ہے کہ ہر بات میں اعلیٰحضرت اعلیٰحضرت کیوں کرنا؟ اتنا ہونے کے باوجود ہر نام سے پہلے "محمد" اور تقریباً ہر نام کے آخر میں "رضوی" نظر آنا عام ہو گیا۔ یہ اعلیٰحضرت کو عوامی خراج عقیدت ہے کیونکہ انہوں نے نام سے پہلے "محمد" لکھنے کا دفاع کیا تھا۔


پھر دبے پاؤں نسبت چھوڑ کر مدرسے کا ٹائیٹل لکھا جانے لگا اور آج نام میں ٹائیٹل کا لاحقہ تو لازم ہے مگر نسبت، ندارد۔


ہمیں لگتا ہے کہ یہ محض موجودہ دور کا مسئلہ ہے۔  نہیں! یہ بہت پہلے ہوا چاہتا تھا مگر کچھ مرد میدان تھے جنہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، اساتذہ، علماء اور مشائخ "کسے باشد" ہر کسی کو دنداں شکن جواب دیا۔ انہی میں ایک امام العلماء، شہریار درسگاہ، جامع معقولات و منقولات، حضرت علامہ مفتی شبیر حسن رضوی "بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی" نور اللہ مرقدہ بھی ہیں۔ ایک صدی سے بھی زائد کا عرصہ گذر چکا، دبے پاؤں آنے والیں منفی جذبات پر مبنی تحریکات کی چال آج بھی دبے پاؤں اس لیے ہے کیونکہ انھیں بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی جیسی شخصیات نے داب دیا تھا۔


کار عناد و نفاق دراز ہے! نام اور حوالے تحریر کرنا باعث تفرقہ بازی ہے۔۔۔آپ کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔ آپ یہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ میں اتنی "رس ملائی" کیوں کر رہا ہوں؟ تو پہلا جواب یہ ہے کہ آپ زندگی بھر کام کیجیے مگر مدارس، خانقاہ اور خود اپنے شاگردوں کے پاس بھی آپ کی آخری رسومات میں شرکت کرنے اور آپ کو یاد کرنے کی فرصت نہیں ہوتی۔ یہ بھرم ہے، کچھ حد تک سچ بھی مگر مکمل سچ نہیں۔


دوسرا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر آپ خانقاہی فرد نہیں ہیں یا متعدد خلافتیں ملنے کے باوجود آپ نے پیری مریدی شروع نہیں کی ہے تو ایسی صورت میں بھی آپ کو "خراج فراموشی" ملنا طے ہے۔ کسی کے پاس آپ کو یاد کرنے کی فرصت نہیں ہوگی مگر میں اپنی چھوٹی سی کوشش سے یہ باور کرواتا ہوں کہ یہ ہرگز ممکن نہیں..."ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین"۔



بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی فرمایا کرتے تھے،"انتفاء جز انتفاء کل کو مستلزم ہے"۔ یہ محض کوئی منطقی جملہ نہیں بلکہ اعلیٰ ترین سفارتی بیان ہے مثلاً بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی سواد اعظم کا جز ہیں، اور جز کی نفی کرنا یعنی انھیں فراموش کرنا پورے سواد اعظم کو فراموش کرنا ہے۔

یہ بھی کہا کرتے تھے،"اعلیٰحضرت کی کتابوں کے نام پڑھنا سیکھ لو، عالم خود بخود بن جاؤ گے".

"جس کے پاس جتنا علم ہے، وہ شخص اعلیٰحضرت سے اتنا ہی محبت کرتا ہے".

"کام کرنے کے لیے اچھی تنخواہ نہیں، اچھے لوگوں کی ضرورت ہے، اچھے لوگوں کی پرکھ ہونی چاہیے۔ کام اچھا ہوگا تو تنخواہ خود بخود اچھی ہو جائے گی".


جس طرح امام احمد رضا عشق محمدی (صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم) کے حوالے سے زندہ باد ٹھہرے، اسی طرح بڑے مفتی صاحب قبلہ روناہی عشق رضوی کے حوالے سے زندہ یادگار ٹھہرے...

اب بھی اگر نہیں سمجھے تو ہمیں انہی کی بولی میں آپ سے کہنا ہوگا "ابے! جب بات نہیں سمجھتا تو کتاب کیا خاک سمجھے گا!" بہر کیف! بڑے مفتی صاحب قبلہ کا پہلا عرس مبارک ہو!

"مبین احمد جامعی"

~ اب جبکہ آپ نے یہاں تک پڑھ لیا ہے اور دل میں بہت کچھ امنڈ بھی آیا ہے تو آپ مجھے شوق سے "جامعی" کے بجائے "شبیری" کہیے! ہمیں کوئی دقت نہ ہوگی۔ آپ کی قسم! مگر آپ کے لیے ادھر ادھر کی چھوڑ دیں مثلاً  "دینی تجارت"  تو سیدھا سیدھا پیغام یہی ہے کہ برصغیر میں اہلسنت والجماعت کا بکھرتا شیرازہ اگر کسی واحد ذات بہ برکات کے نام پر یکجا و توانا ہو سکتا ہے تو وہ اعلیٰحضرت امام عشق و محبت کی ہی ذات ہے۔ 

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

                                                            بشیر بدر

@MobeenJamei

Friday, May 15, 2020

Tarawih from Dainik Jagran


تراویح...دینک جاگرن سے!

سورۂ رحمٰن کا منظوم اردو ترجمہ https://abirti.blogspot.com/2020/04/surah-ar-rahman-translation-in-urdu.html

گرمی میں موسم ہی نہیں بلکہ سب کچھ اُبال مار رہا تھا۔ مئی جون کا مہینہ تھا۔ دوپہر کے وقت حافظ صاحب کہیں سے، کسی کام سے لوٹے تھے۔ تیز قدموں سے گھر جا رہے تھے کہ کسی نے دائیں جانب سے آواز لگائی کہ حضرت! او حضرت! حافظ صاحب رک گئے اور پسینہ پونچھتے ہوئے کہا،’کیا بات ہے!‘

چھپر کے نیچے بیٹھے شخص نے کہا،’ حضرت!ایک سوال ہے۔ جواب عنایت فرمائیں‘۔

حافظ صاحب: ہاں، پوچھو! کیا سوال ہے...جلدی کرو۔ حافظ صاحب چہرے پر رومال پھیرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گرمی کی شدت بھی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ 

حافظ صاحب کو ابھی حفظ مکمل کیے کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ گاؤں، محلے کے پہلے اور نئے نویلے حافظ ہوئے تھے۔ بڑی مشکل سے کچھ مسائل کا بیان اور تقریر وغیرہ کر پاتے تھے۔ 

حافظ صاحب نے کہا کہ کیا سوال ہے۔ دیکھو! ڈھنگ کا سوال کرنا۔ ابھی ابھی ایک ضروری کام سے نامراد لوٹا ہوں... کام بھی نہیں ہوا۔ موڈ بہت خراب ہے۔ 

در اصل سائل کو دیکھ کر ہی حافظ صاحب کی اندورونی سطحیں پسینے سے بہاؤ لینے لگیں۔ سوال کا نام سنتے ہی چہرے کا رنگ بدل گیا تھا مگر جلد ہی چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سدھار لے آئے۔ 

سائل: حضرت! سوال یہ ہے کہ حضرت آدم اور حضرت حوا علیھما السلام کا نکاح کہاں ہوا تھا؟ 

حافظ صاحب رومال سے ہاتھوں کا پسینہ پوچھتے ہوئے کہتے ہیں،’ جنت میں ہوا تھا۔ اف!‘حافظ صاحب جواب مکمل کرتے ہوئے جیسے ہی اپنا طوفانی پاؤں گھر کی طرف بڑھاتے ہیں‘ سوچا کہ تیزی لاؤں۔

تبھی سائل نے ایسے پکارا گویا حشر کا میدان ہو...’ارے رے رے حضرت! حضرت!!‘

حافظ صاحب: تھوڑا گرج کر،’ اب کیا ہے؟‘ 

جھٹ سے سائل نے زور دیتے ہوئے مزید ایک سوال داغ دیا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ان دونوں کا نکاح کس نے پڑھایا تھا؟ 

سوال سنتے ہی حافظ صاحب کا دماغ فرش سے عرش پر چلا آیا مگر انھیں وہاں کچھ نظر نہیں آیا۔ فرش پر لوٹتے ہی آس پاس کا مطالعہ کرنے لگا۔ امید ہے کہ حافظ صاحب اینٹ یا پتھر تلاش کرنے میں لگے ہوں مگر ڈھنگ کا اینٹ یا پتھرکچھ نہیں ملا جو ڈھیلے کا کام کر سکے۔

حافظ صاحب نے اپنی تپتی اور سرخ آنکھوں سے سائل کو دیکھا اور قدرے بیزاری سے جھنجلا کر جواب دیا،’نکاح تو جنت میں ہوا تھا مگر ہم بارات نہیں گئے تھے‘۔ 

....

یہی کوئی سات آٹھ برس گذرے ہوں گے۔ موسم گرماں کی شدت ایسی تھی کہ ہرے بھرے میدانی علاقوں کی زرخیز زمین بھی سنگلاخ ہوئی جاتی تھی۔ گرمی کے کئی رنگ ہیں، انہی میں سے ایک جولائی۔اگست کی حبس والی گرمی بھی ہے۔ اس دوارن موسم بڑا بے کیف اور کاٹ کھانے والا ہو جاتا ہے کہ اے سی اور کولر بھی بے اثر سے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ 

ماہ مبارک رمضان دینی سرگرمیوں کی بہار کے ساتھ رونما ہوا۔ سحری، افطار، نماز اور تلاوت کی چہل پہل کے ساتھ  ہی ہر طرف ماحول پُرکیف، روحانی اور خوشگوار ہو گیا تھا گویا انسانیت کو انسانوں کی آغوش میں جھوٹی ہی سہی مگر تھوڑی دیرے کے لیے سکون مل گیا۔ 

ٹویٹر ایک بہترین ہتھیار مگر احتیاط سے! https://abirti.blogspot.com/2020/04/twitterindiamuslim-ulma.html 


تراویح کی بہ جماعت نماز شروع ہوتے ہی بجلی گل ہوگئی۔ تمام نمازی اور خود امام پیسنے میں شرابور تھے۔ مسجد میں جنریٹر کا انتظام تھا مگر تراویح کے آگے کون اس جانب توجہ دے! رمضان میں مسلمان ابرِ رحمت سے براہ راست لطف اندوز ہوتا ہے مگر حفاظ کی دنیا غیر ہوجاتی ہے۔ انھیں شدید ذہنی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ پورے 24 گھنٹوں میں تراویح ختم ہونے کے بعد ہی انھیں کہیں پل بھر کے لیے سکون میسر ہوتا ہے۔ اگر دورانِ تراویح دو چند لقمے مل گئے تو یہ سکون بھی غارت ہوجاتا ہے۔  

بہر کیف! تراویح حسب معمول جاری تھی۔ حافظ (امام) صاحب نے ’وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُفْلِحُوْن‘ آیہ پر رکوع کر دیا۔ سلام پھیرا تو صف اول کے ایک زیرک مقتدی ڈاکٹر صاحب کو لگا کہ امام صاحب شاید سہو کا شکار ہوگئے اور وہ سورہ بقرہ میں آگئے تھے لہٰذا تپاک سے انہوں نے پوچھا کہ امام صاحب کہاں سے پڑھ رہے تھے؟ 

پہلے سے ہی شدید ذہنی دباؤ کے مارے اور گرمی سے بے حال امام نے قدرے بیزاری سے جھنجھلا کر جواب دیا کہ دینک جاگرن سے! 

...فوراً جلدی سے کھڑے ہوئے اور بہ آوز بلند ’اللہ اکبر‘ کہتے ہوئے نیت باندھ لی۔ 

ہمارے لیے درس یہ ہے کہ تمام الٹی سیدھی باتوں ’کَٹبیٹھی‘سوالات کے جواب علماء سے طلب نہ کریں۔ Common sense (تھوڑی سمجھ بوجھ) سے کام لیں تو بہت سے سوالوں کے جواب آپ مل جائیں گے۔ ’اصیل الاشیاء اباحۃ‘ تمام چیزیوں کی حقیقت اباحت ’جائز‘ ہے۔ دیکھنا یہ کی ضرورت کی نوعیت کیا ہے۔ 

رمضان میں حفاظ کو پریشان کرنے کے بجائے انھیں خوش رکھیں تاکہ وہ بغیر کسی ذہنی دباؤ کے ہشاش بشاش ہو کر نماز تراویح میں قرآن پڑھیں۔ 


اپیل: فی الحال  مہلک وائرس، کووِڈ-19 ’عالمی وبا‘ کے سبب قومی سطح پر لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ بہت سے حفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ تراویح سے پورے سال کے تعلیمی اخراجات کا انتظام کر لیا کرتے ہیں مگراس بار ’الٹی پڑ گئیں سب تدبیریں‘۔ ایسے میں آپ اپنے اپنے حفاظ کی مالی مدد ضرور کریں تاکہ انھیں مسائل زیست میں آسانی ہو! کچھ فون آئے کہ وہ تراویح تو پڑھا رہے ہیں مگر کوئی امید نہیں ہے کہ کوئی ان کا ہاتھ مضبوط کرے گا۔ 

رمضان کا آخری عشرہ چل رہا ہے۔ آپ دعا کریں کہ آئین سلامت رہے! این پی آر، این آر سی اور سی اے اے جیسے کالے قانون خاک ہو جائیں۔ اس مقصد سے بڑی قربانیاں دی گئی ہیں۔

بہت سے سرکاری مدارس میں پراوئیویٹ اسٹاف کو نکال دیا گیا ہے۔ یہ بالکل ناروا ہے۔ سرکاری اسٹاف کو چاہیے کہ ایک ماہ کی تنخواہ اپنے ادارے کو عطیہ کرے تاکہ کسی طور ادارہ اور اس کی تعلیمی بہار پر خزاں نہ آئے۔ 

ہر سال بڑے مدارس سے سیکڑوں میں فارغ ہونے والے کہاں جاتے ہیں... وہ چھوٹے چھوٹے اداروں سے منسلک ہوکردینی و سماجی خدمات انجام دیتے ہیں۔ چند ہی فارغین ایسے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ انھیں ڈھنگ کی کوئی درسگاہ مل جاتی ہے۔ بہتیرے بڑے مدارس ایڈیڈ ہیں لہٰذا چھوٹے مدارس کا خاص خیال رکھیں کیونکہ چھوٹے مدارس علماء کو سب سے زیادہ روزگار دیتے ہیں۔

بہت شکریہ محمد جنید صاحب، نئی سڑک، بارہ بنکی اور محمد اعظم بستوی صاحب مانو، حیدرآباد...آپ کے بغیر یہ تحریر میرے بس کی بات نیہں تھی۔ 

@MobeenJamei
+917618049339
 https://youtu.be/bsNlHcbrVW0 ...نظم: بے حسی

Ramzan- taravih from Dainik Jagran



तरावीह...दैनिक जागरण से

गर्मी में मौसम ही नहीं बल्कि सब कुछ उबाल मार रहा था। मई जून का महीना था। दोपहर के वक़्त हाफ़िज़ साहिब कहीं से, किसी काम से लौटे थे। तेज़ गामी के साथ घर जा रहे थे कि किसी ने दाएं जानिब से आवाज़ लगाई कि हज़रत! ओ हज़रत!! हाफ़िज़ साहिब रुक गए और पसीना पोंछते हुए कहा,'क्या बात है!'

छप्पर के नीचे बैठे शख़्स ने कहा, हज़रत! एक सवाल है। जवाब इनायत फ़रमाएं'

हाफ़िज़ साहिब: हाँ, पूछो क्या सवाल है...जल्दी करो। हाफ़िज़ साहिब चेहरे पर रूमाल फेरते हुए कहते हैं कि गर्मी की शिद्दत भी अपनी इंतिहा को पहुंच गई है.

हाफ़िज़ साहिब को अभी हिफ़्ज़ मुकम्मल किए कोई ज़्यादा अरसा (वक़्त) नहीं हुआ था। गांव, मुहल्ले के पहले और नए नवेले हाफ़िज़ हुए थे। बड़ी मुश्किल से कुछ मसाइल का बयान और तक़रीर वग़ैरह कर पाते थे.

हाफ़िज़ साहिब ने कहा कि क्या सवाल है। देखो! ढंग का सवाल करना। अभी अभी एक ज़रूरी काम से ना मुराद लौटा हूँ.. काम भी नहीं हुआ। मूड बहुत ख़राब है.

दर असल साइल (सवाल पूछने वाले) को देख कर हाफ़िज़ साहिब की अंदरूनी सतहें पसीने से बहाव लेने लगीं। सवाल का नाम सुनते ही चेहरे का रंग बदल गया था मगर जल्द ही चेहरे पर हाथ फेरते हुए सुधार लाये.

साइल: हज़रत सवाल ये है कि हज़रत-ए-आदम और हज़रत हव्वा (अलैहिमा अस्सलाम) का निकाह कहाँ हुआ था?

हाफ़िज़ साहिब रूमाल से हाथों का पसीना पूछते हुए कहते हैं, जन्नत में हुआ था। उफ़!' हाफ़िज़ साहिब जवाब मुकम्मल करते हुए जैसे ही अपना तूफ़ानी पांव घर की तरफ़ बढ़ाते हैं और सोचा कि तेज़ी लाऊँ.

तभी साइल ने ऐसे पुकारा गोया हश्र का मैदान हो...'अरे रे रे हज़रत! हज़रत!!

हाफ़िज़ साहिब थोड़ा गरज कर, अब क्या है?

झट से साइल ने ज़ोर देते हुए मज़ीद एक सवाल दाग़ दिया कि असल सवाल ये है कि इन दोनों का निकाह किस ने पढ़ाया था?

सवाल सुनते ही हाफ़िज़ साहिब का दिमाग़ फ़र्श से अर्श पर चला आया मगर उन्हें वहां कुछ नज़र नहीं आया। फ़र्श पर लोटते ही आस-पास का मुताला (पढ़ने) करने लगा। उम्मीद है कि हाफ़िज़ साहिब ईंट या पत्थर तलाश करने में लगे हों मगर ढंग का ईंट या पत्थर कुछ नहीं मिला जो ढीले का काम कर सके.

हाफ़िज़ साहिब ने अपनी तप्ती और सुर्ख़ आँखों से साइल को देखा और क़दरे (थोड़ी) बेज़ारी से झुंझला कर जवाब दिया,'निकाह तो जन्नत में हुआ था मगर हम बारात नहीं गए थे'.

....

यही कोई सात आठ बरस गुज़रे होंगे। मौसम गर्मां की शिद्दत ऐसी थी कि हरे-भरे मैदानी इलाक़ों की ज़रख़ेज़ ज़मीन भी संगलाख़ (पथरों सी) हुई जाती थी। गर्मी के कई रंग हैं, उन्ही में से एक जुलाई अगस्त की हब्स (उमस) वाली गर्मी भी है। इस दौरान मौसम बड़ा बे-कैफ़ और काट खाने वाला हो जाता है कि ए-सी और कूलर भी बे-असर से हो कर रह जाते हैं

माह-ए-मुबारक रमज़ान दीनी सरगर्मीयों की बहार के साथ रूनुमा हुआ। सेहरी, इफ़तार, नमाज़ और तिलावत की चहल पहल के साथ ही हर तरफ़ माहौल पुर कैफ़, रुहानी और ख़ुशगवार हो गया था गोया इन्सानियत को इन्सानों की आग़ोश में झूटी ही सही, मगर थोड़ी देर के लिए सुकून मिल गया.

टांग कशीदन, ٹانگ کشیدن https://abirti.blogspot.com/2020/03/drgah-ala-hazrat-announced-boycott-of.html



तरावीह की बा जमात नमाज़ शुरू होते ही बिजली गुल हो गई। तमाम नमाज़ी और ख़ुद इमाम पीसने में शराबोर थे। मस्जिद में जनरेटर का इंतिज़ाम था मगर तरवीह के आगे कौन इस जानिब तवज्जो दे. रमज़ान में मुस्लमान अबर-ए-रहमत (रहमत के बादल) से ब राह-ए-रास्त (डायरेक्ट) लुत्फ़ अंदोज़ होता है मगर हुफ़्फ़ाज़ (हाफिज लोगों) की दुनिया ग़ैर हो (बदल) जाती है। उन्हें शदीद ज़हनी दबाव का सामना रहता है। पूरे 24 घंटों में तरावीह ख़त्म होने के बाद ही उन्हें कहीं पल-भर के लिए सुकून मयस्सर होता है। अगर दौरान-ए-तरावीह दो-चंद लुक़्मे मिल गए तो ये सुकून भी ग़ारत हो जाता है.

ब-हर कैफ़! तरावीह हसब-ए-मामूल जारी थी। हाफ़िज़ (इमाम साहिब) ने 'व उलाइका हुमुल मुफ़लिहून' आया करीमा पर रुकू कर दिया। सलाम फेरा तो सफ़-ए-अव्वल के एक ज़ीरक (दिमाग़ के तेज़) मुक़तदी डाक्टर साहिब को लगा कि इमाम साहिब शायद भूल गए और वो सूरा बक़रा में आग थे लिहाज़ा तपाक से उन्होंने पूछा कि इमाम साहिब कहाँ से पढ़ रहे थे?

पहले से ही शदीद ज़हनी दबाव के मारे और गर्मी से बेहाल इमाम ने क़दरे बेज़ारी से झुँझला कर जवाब दिया कि दैनिक जागरण से!

...फ़ौरन जल्दी से खड़े हुए और बा आवाज़-ए-बुलंद 'अल्लाहु-अकबर कहते हुए नीयत बांध ली.

हमारे लिए दर्स  (सबक़) ये है कि तमाम उल्टी सीधी बातों 'कटबैठी' सवालात के जवाब उल्मा से तलब ना करें. Common sense (थोड़ी समझ बूझ) से काम लें तो बहुत से सवालों के जवाब आप मिल जाऐंगे। 'उसैलुल अशया एबाहा'  तमाम चीजों की हक़ीक़त इबाहत 'जायज़' है। देखना ये है कि ज़रूरत की नौईयत क्या (किस तरह की और कितनी सख्त) है.

रमज़ान में हुफ़्फ़ाज़ को परेशान करने के बजाय उन्हें ख़ुश रखें ताकि वो बग़ैर किसी ज़हनी दबाव के हश्शाश बश्शाश हो कर नमाज़-ए -तरावीह में क़ुरान पढ़ सकें.

"मर्ग -ए- अंबोह जश्न दारद" https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_22.html

अपील: फ़िलहाल वैश्विक महामारी, 'कोविड19’ के कारण राष्ट्रीय स्तर पर लॉक डाउन लागु है। बहुत से हुफ़्फ़ाज़ ऐसे होते हैं कि वो तरावीह से पूरे साल के तालीमी खर्च का इंतिज़ाम कर लिया करते हैं मगर इस बार 'उल्टी पड़ गईं सब तदबीरें'। ऐसे में आप अपने अपने हुफ़्फ़ाज़ की माली मदद ज़रूर करें ताकि उन्हें मसाइल-ए-ज़ीस्त (जीवन के झमेलों) में आसानी हो! कुछ फ़ोन आए कि वो तरावीह तो पढ़ा रहे हैं मगर कोई उम्मीद नहीं है कि कोई उनका हाथ मज़बूत करेगा

क्यों डराते हो...! https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_19.html

रमज़ान का आख़िरी अशरा चल रहा है। आप दुआ करें कि संविधान सुरक्षित रहे... एन पी आर, एन आर सी और सी ए ए जैसे काले क़ानून ख़ाक हो जाएं. इसी मक़सद से बड़ी क़ुर्बानियां दी गयी हैं.

बहुत से सरकारी मदरसों में प्राइवेट स्टाफ़ को निकाल दिया गया है। ये बिलकुल नारवा (ठीक नहीं)  है। सरकारी स्टाफ़ को चाहिए कि एक माह की तनख़्वाह अपने इदारे को दे ताकि किसी तौर इदारा और उस की तालीमी बहार पर ख़िज़ां (पतझड़ का मौसम) ना आए.

हर साल बड़े मदरसों से सैकड़ों में फ़ारिग़ होने वाले कहाँ जाते हैं... वो छोटे छोटे इदारों से मुंसलिक हो कर दीनी-व-समाजी ख़िदमात अंजाम देते हैं। चंद ही फ़ारग़ीन ऐसे ख़ुश नसीब होते हैं कि उन्हें ढंग की कोई दरसगाह मिल जाती है। अक्सर बड़े मदरसे एडेड हैं लिहाज़ा छोटे मदरसों का ख़ास ख़्याल रखें क्योंकि छोटे मदरसे उल्मा को सबसे ज़्यादा रोज़गार देते हैं.

बहुत शुक्रिया मुहम्मद जुनैद साहिब, नई सड़क, बाराबन्की और मुहम्मद आज़म बस्तवी साहिब MAANUU, हैदराबाद...आपके बग़ैर ये तहरीर मेरे बस की बात  नहीं थी।

#CAAProtest अब आगे क्या किया जाये? https://abirti.blogspot.com/2020/01/caaprotest_30.html

@MobeenJamei
+917618049339
#Nazm संवेदनहीन https://youtu.be/bsNlHcbrVW0

Friday, May 1, 2020

hindi poetry on whatsapp #covid19pandemic


दर WhatsApp 



लन-तरानी लन-तरानी, ख़ा-मख़ा की गुफ़्तगु
सारा दिन गुज़रा अबस में, चाह थी ना जुस्तजू

मस्लेहत से तीर छोड़ें, तीरगी बढ़ती ही जाये
नूर ख़्वाही इस तरह से आम है अब कु-ब-कु 

हर तबाही का जहां में एक ही अंदाज़ है
सब्ज़ा ही सब्ज़ा नज़र में, सावन बरसे चार सू

जलसे हों जब रात में तो शोब्दा होना है तै
ख़ैर से हो, दिन में हो तो बात होगी ख़ूबरू

अब ज़मींदारी है साहब, पीर लोगों की यहां
मौलवी सारे लठैत हैं, बाज़ तो हैं पालतू

इब्न-ए-पीरे, पैर होवे, इब्न-ए-आलिम कुछ हो और
क्या वजह है, क्या ख़बर हो, कौन छेड़े गुफ़्तगु

ख़ानक़ाहें अब चढ़ावा, हज़रत-ए-इंसां को दें
वक़्त-ए-मुश्किल में बचा लें मुफ़लिसी की आबरू

तंग ज़हनी से निकल कर नंग ज़हनी में यहां
सब ये कहते हैं अना में, मैं हूँ मैं और तू है तू

बे वजह हमने लगाया था गले, वाट्सएप मुबीं
थी वजह अच्छी मगर थी, वो बेहस ही फ़ालतू

लन-तरानी लन-तरानी: सिर्फ अपनी बात कहना, सामने वाले की ना सुनना
ख़ा-मख़ा: बेकार, फालतू, ज़बरदस्ती वाली अबस: बेकार, जिससे कुछ हासिल ना हो जुस्तजू: तलाश, खोज, जिज्ञासा मस्लेहत: आना कानी, टाल मटोल, सबको खुश करने वाली आदत
तीरगी: अंधेरा नूर ख़्वाही: रोशनी चाहना, उजाला चाहना कु-ब-कु: गली गली, कूचा कूचा सब्ज़ा ही सब्ज़ा: हरियाली ही हरियाली शोब्दा: जादू की तरह दिखावा ख़ूबरू: अच्छी, ख़ूबसूरत पीर: दरगाह के सज्जादा नशीं
बाज़: कुछ इब्न-ए-पीरे: पीरा का बेटा इब्न-ए-आलिम: मौलवी का बेटा ख़ानक़ाहें: दरगाहें हज़रत-ए-इंसां: मनुष्य, इंसान मुफ़लिसी: अत्यंत गरीबी
आबरू: इज़्ज़त 
तंग ज़हनी: नीची सोच नंग: शर्म, नंगई करना
अना: मैं मैं करना, अपनी ही बड़ाई करना
नोट: शब्दों के अर्थ के लिए कमेंट करें, जवाब में बता दिया जायेगा।

क्यों डराते हो...!http://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_19.html?m=1

अब नज़्म के बाद नस्र (लेख) यानी चंद गुज़ारिशात भी मुलाहिज़ा फ़र्मा लें!



ये बात दरुस्त है कि इस वक़्त बाज़ार से बेज़ार रहा जाये और ख़रीदारी ना की जाये मगर ये लिख कर कि 'वो आपसे सब्ज़ी ख़रीदने को तैयार नहीं हैं तो आप क्यों उनकी चीज़ें ख़रीदोगे?' गलत है। ईद की ख़रीदारी ना करें बल्कि कोरोना महामारी में अपने पैसे बचा कर रखें'....मालूम नहीं कि हालात कब बेहतर होंगे...बहारें कब आयेंगी!


आपको एहसास नहीं कि तुन्द रवी (आंधी की चाल) में आप किस क़द्र नुक़्सान कर रहे हैं। जो काबिल-ए-नफ़रीं (नफरत के के लायक़) समाज दुश्मन हैं' उन्हें यही सामग्री चाहिए ताकि वो सादा-लौह (भोले भाले) शख़्स को धर्म के नाम पर हमवार (अपने साथ) कर सकें कि वो भी सुलगती चिंगारी का हिस्सा बने, शोले की तरह भड़क उठे और  फिर ख़ाक हो जाये, साथ ही वतन-ए-अज़ीज़ भारत को भी खाकिसतर (जला कर रख) कर दे। याद रहे! आज ये जो नफ़रत का पहाड़ है, कोई एक दिन की पैदा-कर्दा नहीं बल्कि तक़रीबन एक सदी मुसलसल साज़िशों का हासिल है लिहाज़ा इस का खात्मा भी एक झटके में हरगिज़ मुम्किन नहीं। बड़े एहतियात से सोशल मीडीया का इस्तिमाल करें और मीठे मीठे ज़हर से भी बचें और बचाएं!

आग का क्या है पल दो पल में लगती है
बुझते बुझते एक ज़माना लगता है
कैफ़ भोपाली


कुछ ऐसे मदरसे हैं कि उनके पास एक दहाई से ज़्यादा का बजट मौजूद है। उन्हें चाहिए कि छोटे मदरसों की मदद करें ताकि वो बंद ना हों। साथ ही अवाम में अपील करें कि वो अपने ज़कात-व -फ़ित्रात और अतियात (डोनेशन) ज़्यादा से ज़्यादा (मसारिफ़-ए -ज़कात के मुताबिक़) अपने मुस्तहिक़ अज़ीज़-व-अक़ारिब, मुहल्ले, गांव, शहर और ग़रीब भाईयों को दें, उनकी मदद करें। ये इतना मुश्किल वक़्त है कि हम अंदाज़ा भी नहीं कर सकते कि इन्सान किन तकालीफ़ और मसाइब-व -आलाम (दुख-दर्द) से गुज़र रहा है। मक़ासिद-ए-शरिया में ज़रुरीया के तहत हिफ़्ज़-ए-दीन पहले बयान किया गया मगर मैं सझता हूँ कि हिफ़्ज़-ए-जान पहले है क्योंकि जब ज़िंदगी होगी तभी तो दीन पर अमल होगा और उसकी हिफ़ाज़त होगी। दीन, दुनिया के लिए है मरने के बाद तो हिसाब (यौमुद्दीन) है, लिहाज़ा अपनी और तमाम जानों की हिफ़ाज़त करें....'जान है तो जहान है'।


एक नहीं, कई ख़बरें मिली हैं और मिल रही हैं कि बहुत से इलाक़ों में लापरवाही बरती जा रही है। हर शख़्स ये यक़ीनी बनाए कि वो अपनी जान की हिफ़ाज़त करेगा

मुस्लिम शरीफ़ (हसीस की किताब) में है कि 'हर शख़्स ज़िम्मेदार है और उससे उसकी ज़िम्मेदारी के बारे में पूछा जाएगा। अगर आपकी वजह से किसी की जान जाती है तो आपसे इस बाबत सवाल होगा!

सूरा ज़िलज़ाल में है कि अगर किसी ने ज़र्रा बराबर अच्छाई या बुराई की तो वो उसे ब-रोज़-ए- क़यामत देखेगा (क़ुरान)। यौम-ए- हिसाब से ख़ौफ़ करें। सूरा निसा में फ़रमाया गया,'अल्लाह तुम सब पर निगरां है'।(क़ुरान) जब रब निगरां है तो उसकी निगरानी से कौन बच सकता है! अपना और अपने घर परिवार का ख़ास ख़्याल रखें!

इसे उर्दू में पढ़ने के लिए क्लिक करें http://abirti.blogspot.com/2020/05/poetry-on-whatsapp-covid19pandemic.html?m=1

यूं बे-हिसी के दाग़ मिटाता चला गया
आता रहा जो दिल में सुनाता चला गया
@MobeenJamei
mobeenahmad.abirti@gmail.com
+917618049339

poetry on whatsapp #covid19pandemic

در واٹس ایپ

ٹویٹر بہترین ہتھیار مگر احتیاط سے!https://abirti.blogspot.com/2020/04/twitterindiamuslim-ulma.html?m=1

لن ترانی لن ترانی، خواہ مخواہ کی گفتگو
سارا دن گذرا عبث میں، چاہ تھی نہ جستجو

مصلحت سے تیر چھوڑیں، تیرگی بڑھتی ہی جائے
نور خواہی اس طرح سے عام ہے اب کو بہ کو

ہر تباہی کا جہاں میں ایک ہی انداز ہے
سبزہ ہی سبزہ نظر میں، ساون برسے چار سو

جلسے ہوں جب رات میں تو شعبدہ ہونا ہے طے
خیر سے ہو، دن میں ہو تو بات ہوگی خوبرو

اب زمینداری ہے صاحب، پیر لوگوں کی یہاں 
مولوی سارے لَٹَھیت ہیں، بعض تو ہیں پالتو

ابنِ پیرے، پیر ہووے، ابنِ عالم کچھ ہو اور
کیا وجہ ہے، کیا خبر ہو، کون چھیڑے گفتگو

خانقاہیں اب چڑھاوا، حضرتِ انساں کو دیں
وقتِ مشکل میں بچا لیں مفلسی کی آبرو

تنگ ذہنی سے نکل کر ننگ ذہنی میں یہاں 
سب یہ کہتے ہیں انا میں، میں ہوں میں اور تو ہے تو

بے وجہ ہم نے لگایا تھا گلے وَٹسَپ مبؔیں
تھی وجہ اچھی مگر تھی، وہ بحث ہی فالتو

نوٹ: الا ما شاء اللہ کی قید بہرحال ہے!

اب نظم کے بعد نثر یعنی چند گذارشات بھی ملاحظہ فرما لیں!

 یہ بات درست ہے کہ اس وقت بازار سے بیزار رہا جائے اور خریداری نہ کی جائے مگر یہ لکھ کر کہ ’وہ آپ سے سبزی خریدنے کو تیار نہیں ہیں تو آپ کیوں ان کی چیزیں خریدوگے؟' غلط ہے۔ عید کی خریداری نہ کریں بلکہ کورونا بحران میں اپنے پیسے بچا کر رکھیں‘....معلوم نہیں کہ حالات کب بہتر ہوں گے...بہاریں کب آئیں گی!


آپ کو احساس نہیں کہ تند روی میں آپ کس قدر نقصان کر رہے ہیں۔ جو قابل نفریں سماج دشمن افراد ہیں‘ انھیں یہی مواد چاہیے تاکہ وہ سادہ لوح شخص (سناتنی) کو رام کر سکیں کہ وہ بھی سلگتی چنگاری کا حصہ بنے، شعلے کی طرح بھڑک اٹھے اور پھرخاک ہوجائے۔ ساتھ ہی وطن عزیز بھارت کو بھی خاکستر کر دے۔ یاد رہے! آج یہ جو نفرت کا پہاڑ ہے‘ ایک دن کی پیدا کردہ نہیں بلکہ تقریباً ایک صدی پیہم ریشہ داوانی کا حاصل ہے لہٰذا اس کا ازالہ بھی ایک جھٹکے میں ہرگز ممکن نہیں۔ بڑے احتیاط سے سوشل میڈیا کا استعمال کریں اور میٹھے میٹھے زہر سے بھی بچیں اور بچائیں؎

آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے 
بجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے
کیف بھوپالی

بعض مدارس ایسے ہیں کہ ان کے پاس ایک دہائی سے زیادہ کا بجٹ موجود ہے۔ انھیں چاہیے کہ چھوٹے مدارس کی مالی امداد کریں تاکہ وہ بند نہ ہوں۔ ساتھ ہی عوام میں اپیل کریں کہ وہ اپنے زکوٰۃ و فطرات اور عطیات زیادہ سے زیادہ (حسب مصارف زکوٰۃ) اپنے  مستحق عزیز و اقارب، محلے، گاؤں، شہر اور غریب بھائیوں کو دیں‘ ان کی مدد کریں۔ یہ اتنا مشکل وقت ہے کہ ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ انسان کن تکالیف اور مصائب و آلام سے گذر رہا ہے۔ مقاصد شرعیہ میں ضروریہ کے تحت حفظ دین پہلے بیان کیا گیا مگر میں سجھتا ہوں کہ حفظِ جان پہلے ہے کیونکہ جب زندگی ہوگی تبھی تو دین پر عمل ہوگا اور اس کی حفاظت ہوگی۔ دین دنیا کے لیے ہے بعد الموت تو حساب (یوم الدین) ہے لہٰذا اپنی اور تمام جانوں کی حفاظت کریں....’جان ہے تو جہان ہے‘۔


ایک نہیں‘ متعدد خبریں موصول ہورہی ہیں کہ بہت سے علاقوں میں لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ ہر شخص یہ یقینی بنائے کہ وہ اپنی جان کی حفاظت کرے گا۔ 

صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ’كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْؤُوْلٌ عَنْ رَّعِيَّتِهِ‘ ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اگر آپ کی وجہ سے کسی کی جان جاتی ہے تو آپ سے اس ہلاکت کے بارے میں سوال ہوگا!

فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ‘ اگر کسی نے ذرہ برابر اچھائی یا برائی کی تو وہ اسے بروز قیامت دیکھے گا (سورہ زلزال)۔ یومِ حساب سے خوف کریں۔ ’إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا‘ اللہ تم سب پر نگراں ہے (سورہ النساء)۔ جب رب تعالیٰ نگراں ہو، تو اس کی نگرانی سے کون بچ سکتا ہے! اپنا اور اہل خانہ کا خاص خیال رکھیں!

इसे हिंदी में पढ़ने के लिए क्लिक करें http://abirti.blogspot.com/2020/05/hindi-poetry-on-whatsapp-covid19pandemic.html?m=1

غزل ’وقت ظہور عشق بھی بعثت سے کم نہیں‘https://abirti.blogspot.com/2020/03/blog-post.html?m=1

یوں بے حسی کےداغ مٹاتا چلا گیا
آتا رہا جودل میں سناتا چلا گیا

@MobeenJamei
mobeenahmad.abirti@gmail.com

Friday, April 24, 2020

TwitterIndia...Muslim, Ulma


ٹویٹر مگر احتیاط سے!


العلم نور’علم روشنی ہے‘ مگر فی زماننا علم طاقت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاٹا نیا آئل (پٹرول) ہے، اگلا سپر پاور ہونے کا سہرا اسی ملک کے سر ہوگا جس کے پاس سب سے زیادہ ڈاٹا ہوں گے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے! کہ کوئی بھی ایپ انسٹال کرنے کے بعد وہ ہر طرح کا اختیار(Access) مانگتا ہے اور جب تک آپ ہاں، نہیں کر دیتے وہ غیر فعال رہتا ہے...کام ہی نہیں کرتا۔ یہ واقعہ ہے کہ ہم صد فیصد دورِ دستاویز میں جی رہے ہیں...سب کچھ ریکارڈ ہو رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں ’ہٹ دھرمی‘ https://abirti.blogspot.com/2020/02/caa-caa-un.html?m=1

جمہوری نظام میں اقلیتیں تربوز کے مانند ہوتی ہیں، چاقو ان پر گرے یا وہ چاقو پر گریں...بہرحال کٹنا تربوز کو ہی ہوتا ہے۔ ہمیشہ درپردہ سازش اور میڈیائی پروپیگنڈہ کرکے اقلیتوں کو مشتعل کیا جاتا ہے اور وہ بھی ظلم کے تازیانے سے تازہ دم ہوکر جذباتی ہو اٹھتے ہیں...ہر طرح کا نقصان اٹھاتے ہیں۔ مسائل میں الجھا کر مقاصد باطلہ کی تکمیل ایک آسان، پرانا اور گھٹیا طریقۂ کار ہے جو مسلسل دہرایا جا رہا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اقلیتوں کے موقر وجود کا انحصاراکثریتی فرقے سے بڑھ کر صلاحتیں پیدا کرنے پر ہے۔ تصادم کا طرزِعمل وقتی طور پر بہت مؤثرمعلوم پڑتا ہے مگر دیر پا اور پائیدار ہرگز نہیں۔


یہ بھی پڑھیں’خودی کا اثؔر نعمان خاں رحمہ اللہ‘https://abirti.blogspot.com/2019/10/blog-post.html

مسرت خیز ہے کہ علماء کرام بڑی تعداد میں سوشل میڈیا میں سب سے زیادہ مؤثر ٹویٹرپر نہ صرف آئے ہیں بلکہ بے حد سرگرم بھی ہیں۔ چونکہ مسلسل میڈیا مسلم اقلیت پر حملہ آور رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی زندگی کا انحصار اقلیتوں کی بستیاں سبوتاژ کرنے، ہزاروں کی تعداد میں انھیں بے کس و بے بس کرنے، انہی کی لاش کھانے اور انہی کا خون پینے پر ہے۔ ایسے میں بالکل واضح ہے کہ میڈیا جانب داری کی حرم سرا سے ایک سے بڑھ کر ایک بردہ فروش، عیار، مکار اور داشتاؤں کو اینکر بنا بنا کر اسکرین پر لاتا رہے گا اور یہ دیکھ کر مسلم نوجوان ’علماء‘ غیظ وغضب میں آکر مضطرب تو ہوں گے ہی جو عین فطری ہے بلکہ خود کو مضطر بھی پائیں گے...اوربہت ممکن ہے کہ وہ جوش میں آکر ہوش کھو بیٹھیں۔ 

تو ایسے میں احتیاط کریں:

کسے فالو کر رہے ہیں؟
کسے لائک کر رہے ہیں؟
کسے رپلائی کر  رہے ہیں؟
کسے مینشن کر رہے ہیں؟
کس ہیش ٹیگ کو ہوا دے رہے ہیں اور اس کا مقصد کیا ہے؟
بیرون ممالک بالخصوص عرب کو فالو یا ری ٹویٹ کرتے وقت یقینی بنائیں کہ آپ ان کے بارے میں کتنا جانتے ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ کوئی آپ کی منھ بھرائی کردے اور آپ اس پر لٹُّو ہو جائیں۔ آج کل تو پروین توگڑیا کو بھی کبھی کبھی مسلمانوں کے بارے میں اچھی باتیں کرتے دیکھا جا سکتا ہے...تو کیا مطلب؟ ماحیتِ قلب ہوگیا ہے!
سوشل میڈیا پر اس قدر ہوشیار رہیں کہ آپ کے کسی بھی اقدام پرغیرقانونی ہونے کا شائبہ تک نہ گزرے! 

ٹویٹر پر ڈائریکٹ میسج (ڈی ایم) بھیجے جاتے ہیں جن  میں صارف کی تعریف ہوتی ہے اور صارف کا ای میل اور رابطہ نمبر طلب کیا جاتاہے۔ جب صارف کوئی توجہ نہیں دیتا تو اسے آفر دیے جاتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ ’لالچ بری بلا ہے‘... ہزاروں اور لاکھوں ڈالر کا فائدہ بتلایا جاتا ہے۔ کئی بار بے وقوف بنا کر چندہ  بھی مانگنے کی کوشش ہوتی ہے۔ ان تمام عمل کے دوران ہوتا یہ ہے کہ جوں ہی آپ ان کی لنک اوپن کرکے فارم بھرنا شروع کریں گے تو منٹوں میں آپ کا اکاؤنٹ، ڈاٹا اور سسٹم کسی نامعلوم کے کنٹرول میں آ جائے گا۔ پس! آپ ہمہ جہت تباہ و برباد ہو کر جیل کی پناہوں میں ہوا کھا رہے ہوں گے۔

ہم ایک مشکل اور انتہائی صبر آزما دورِ پُر فِتَن سے گذر رہے ہیں۔ آزمائیشیں انسانوں کو عظیم بنانے کے لیے رب کی طرف سے دنیا میں انمول عطیہ (مواقع) ہیں۔ گھبرانے یا جذباتی ہونے کی کوئی ضروت نہیں۔ ضروت اس بات کی ہے کہ ہمہ لمحہ ’مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ‘ کو حرزجاں بنائیں اور مومنانہ فراست ’غایت درجے کی سوجھ بوجھ‘ سے کام لیں...’ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین‘۔ یاد رہے!’دودھ کا جلا ہوا، چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے‘۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا،’ ان مع العسر یسرا‘ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

یہ بھی پڑھیں "کیوں ڈراتے ہو!  https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_19.html?m=1

احتیاطی تدابیرحسنہ کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال ایک مشکل امر ہے۔ لیکن؛ اگر آپ جذباتی نہ ہوں اور مومنانہ فراست سے کام لیں تو یہی مشکل آپ کے لیے مشعل کا کام کرے گی۔ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت مشکل یہ ہے کہ یہاں مختلف ممالک کی خفیہ ایجنسیاں، بلیک مارکیٹ (منی لانڈرنگ، غیر قانونی اسلحہ فراہمی، ڈرگس، افیم  اور منشیات کی خرید وفروخت)، مختلف غیر قانونی اور دہشت گرد تنظیمیں بھی سرگرم رہتی ہیں۔ چونکہ ان سب کے پاس ڈاٹا ماہرین کی ایک فوج ہوتی ہے جو بہ آسانی آپ کی پسند نا پسند کو جان لیتی ہے۔ پھر وہ دھیرے دھیرے اپنے جال میں آپ کو پھانستی چلی جاتی ہے۔ بادی النظر میں تو یہ کسی بہت پڑھے لکھے اور ہوشیار آدمی کو بھی سمجھ میں نہیں آتا اور وہ بھی دھوکہ کھا جاتا ہے جو آئی ٹی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کا بڑا تیس مار خاں بنا پھرتا ہے۔ آپ اپنے ذہن پر تھوڑا سا زور دیں! ماضی قریب کی مثال ہے کہ مبینہ طور پر ہندوستان سے بھی کچھ مسلم نوجوانوں نے آئی ایس آئی ایس (دہشت گرد تنظیم) کی آن لائن رکنیت حاصل کرکے جنگ زدہ ملک عراق روانہ ہو گئے تھے۔


’سی اے اے احتجاج، اب آگے کیا؟‘ یہ بھی پڑھیںhttps://abirti.blogspot.com/2020/01/caaprotest_30.html

ٹویٹر ایک مجازی اور عوامی جگہ ہے۔ ایک سوشل نیٹ ورک کی حیثیت سے، یہ فیس بک یا جی + کے مقابلے کہیں زیادہ اوپن ہے، کیونکہ یہ فلٹر یا رکاوٹوں کے بغیرہر طرح کے واقعات اور آراء کو شیئر کرنے اور ان پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کوئی بھی آپ کو فالو کرسکتا ہے اور آپ کسی کو بھی فالو کر سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے ، بہت کم پابندیاں ہیں۔عوامی نوعیت کا ہونے کے سبب ٹویٹر آپ کی پرسنل پرائیویسی (ذاتی رازداری) اور سکیورٹی کے لیے ایک انتہائی خطرناک سوشل نیٹ ورک ہے لہٰذا مندرجہ ذیل نکات ہرگز نظر انداز نہ کریں۔

مشتبہ لنلک چیک کریں:
زیادہ تر ٹویٹس کے لنکس مختصر ہوتے ہیں۔ بسا اوقات یہ لنک خطرناک مقامات کی طرف لے جاتے ہیں جیسے جعلی فارم یا وائرس جو آپ کے براؤزر پر ڈاؤن لوڈ ہوتے ہیں۔ چونکہ ہمیں جہاں نہیں ہونا چاہئے اس پر کلک کرنے سے ہی سوشل نیٹ ورکس پر میلویئر انفیکشن (وائرس) کا خطرہ پیدا ہوتا لہذا ان لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں جن پر آپ کو اعتبار نہیں ہے۔ ایک مختصر لنک کے پیچھے کیا پوشیدہ ہے یہ جاننے کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ براؤزر ایکسٹینشن ‘کروم’ اور ‘فائر فوکس’ کا استعمال کریں۔ آپ اے وی جی ’لنک اسکینر‘ بھی استعمال کرسکتے ہیں جو چیک کرتا ہے کہ لنک محفوظ ہے یا نہیں۔

ٹویٹر کے لیے ایک منفرد (Unique)، اسٹرونگ پاس ورڈ استعمال کریں:
سیکیورٹی کی سب سے بڑی غلطی جو آپ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ متعدد سروسز کے پاس ورڈ کو دہرانا ہے کیونکہ اگر کوئی ہیکر آپ کے پاس ورڈ میں سے کسی ایک کو پکڑ لیتا ہے تو وہ متعدد اکاؤنٹس میں اسے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔ اسی لیے آپ کو ٹویٹر کے لیے ایک منفرد اور محفوظ پاس ورڈ چننا ہوگا۔ اگر مخمصہ محسوس ہو توآپ پاس ورڈ مینیجر کا استعمال کرسکتے ہیں۔

دوسروں کے ساتھ اپنے اکاؤنٹ کا پاس ورڈ ہرگز شیئر نہ کریں:
اپنے اکاؤنٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئرکرنا تفریح طبع کے لیے بہت ہی خوشگوار ہو سکتا ہے، اگر اس اکاؤنٹ کا یہی مقصد ہے۔ لیکن؛ اگر آپ کو اپنے اکاؤنٹ کی معلومات کی پرواہ ہے تو کبھی بھی کسی ایسے شخص کے ساتھ اپنا پاس ورڈ شیئر نہ کریں جو آپ کا کامل معتمد علیہ نہیں ہے: جتنا زیادہ لوگ آپ کے پاس ورڈ کو جانیں گے اتنا ہی زیادہ خطرے کا امکان ہے۔

اپنے موبائل پر ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کو آن  کریں:
اگر آپ ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کو آن کرتے ہیں تو جب بھی آپ کسی نئے کمپیوٹر یا فون سے اپنا اکاؤنٹ ایکسِس کریں گے تو آپ کو ایک ایسا کوڈ ڈالنا ہوگا جو آپ کے فون پر ہر بار بھیجا جائے گا۔ اس کا فائدہ یہ ہے  کہ اگر کوئی آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کا پاس ورڈ جان بھی جا بھی ہے تو وہ بھی آپ کے اکاؤنٹ کو ایکسس نہیں کر پائے گا۔

پاس ورڈ کو ریسیٹ کرنے لیے پرسنل انفارمیشن کی ویریفکیشن کو فعال (Enable) کریں:
دوسرا اچھا خیال یہ ہے کہ جب آپ اپنا پاس ورڈ بھول جاتے ہو تو ٹویٹر سے پرسنل انفارمیشن (ذاتی معلومات) طلب کریں۔ اگر آپ سکیورٹی مینو پر باکس کو چیک کرتے ہیں تو آپ کو اپنا ای میل اور اپنا فون نمبر دینے کا اشارہ کیا جائے گا۔ یہ Username تلاش کرنے سے کہیں زیادہ بھروسے مند ہے۔

اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے نامعلوم ایپس کو ہٹائیں:
بہت سے ایپ ایسے ہیں جو آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ تک رسائی (Access) حاصل کرنا چاہتے ہیں اور بعض اوقات ہم اس بابت سوچے بغیر اجازت بھی دے دیتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس سے آپ کا ڈاٹا خطرے میں پڑ جائے گا۔
وقتاً فوقتاً، ایپلی کیشنز کی فہرست چیک کریں جنھیں آپ کے اکاؤنٹ تک ایپلی کیشن سیٹنگ مینو سے رسائی (Access) حاصل ہے۔ صرف Revoke Access پر کلک کردیں۔ ایپ کو فوری طور پر منقطع کردیا جائے گا پھروہ آپ کے ڈیٹا ریڈنگ کو جاری رکھنے سے قاصر ہو جائے گا۔ اگرآپ غلط پر کلک کرتے ہیں تو دوبارہ کلک کریں، اسے بحال کردیا جائے گا۔

کمپرومائزٹڈ اکاؤنٹ کی علامات پر توجہ دیں:
بہت ساری علامات ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آپ کا  ٹویٹر اکاؤنٹ کمپرومائزڈ ہے۔ انہی علامات میں سے کچھ یہ ہیں:
آپ کو مطلع کیا گیا ہے کہ آپ نے براہ راست پیغامات (ڈی ایم) بھیجے ہیں جو دراصل آپ نے نہیں بھیجے تھے۔
آپ کو ٹویٹس کے جواب ملتے ہیں جنھیں بھیجنا آپ یاد نہیں رکھتے۔
آپ ان اکاؤنٹس کو فالو کرتے ہیں یا فالو  کرنا چھوڑ دیتے ہیں جو آپ کی یاد داشت سے دور ہیں۔
آپ کو نان رکویسٹیڈ (Non-requested) یا عجیب سے سیکیورٹی نوٹیفکیشن موصول ہوتی ہیں۔
آپ کے پروفائل کی شکل بدل گئی ہے ، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔
اگر آپ کو یہ علامات نظر آتی ہیں تونامعلوم ایپس کی آتھرائیزیشن (اجازت) منسوخ کریں اور اپنا پاس ورڈ فوری طور پر بدل لیں۔

پاس ورڈ کا مطالبہ کرنے والے کسی بھی ای میل کا جواب ہرگز نہ دیں:
یہ ممکن ہے کہ حالیہ پاس ورڈ کی چوری کے سبب ہونے والی خوف و ہراس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کو ایک ای میل موصول ہو اور محسوس ہو کہ یہ ٹویٹر کے کی جانب سے بھیجا گیا ہے۔ اگر ای میل آپ سے اپنا موجودہ پاس ورڈ بھیجنے یا کسی شکل میں لکھنے کو کہے تو اسے نظرانداز کریں۔ عام طور پر کسی بھی مشتبہ ای میل سے ہوشیار رہیں، اگر آپ نے کچھ پوچھا نہیں ہے تو ہرگز کلک نہ کریں۔

وقتاً فوقتاً اپنے ٹویٹس کا بیک اپ ڈاؤن لوڈ کریں:
ذرا تصور کریں کہ کوئی آپ کے اکاؤنٹ کا Access پا لیتا ہے اور پھر اسے بند کردیتا ہے یا ایسے ایپ کو مجاز بنائیں جو آپ کی نصف پوسٹ کو حذف کردے۔ یہ ایک تباہی ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر اگر آپ اپنا اکاؤنٹ کام کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ آپ اپنے ٹویٹر پروفائل کے ’فُل بیک اَپ‘ اکاؤنٹ مینو سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ جب فائل تیار ہوجائے گی ، آپ کو ڈاؤن لوڈ لنک کے ساتھ ایک ای میل موصول ہوگا۔

گمنام ٹرول، بر انگیختہ، پریشان اور ناراض کرنے والوں کو بلاک کریں۔

آپ کا ای میل اکاؤنٹ ایک علیحدہ کائنات ہے جسے ٹویٹر کے ساتھ خلط ملط نہ کریں۔ اپنے ای میل ایڈریس کے ذریعہ دوسروں کو ڈھونڈنے سے روکیں۔

کسی کا آپ کو بلا اجازت ٹیگ کرنا بہت پریشان کن ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس سے آپ کی پروائیویسی کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے تو فوٹو ٹیگنگ کو غیر فعال(disable) کریں۔ آپ ان افراد کا انتخاب کر سکتے ہیں جنھیں آپ کی مرضی سے ٹیگ کرنے کی اجازت ہوگی۔

اپنے ٹویٹس کا جغرافیائی مقام (جیو لوکیشن) غیر فعال (disable) کریں:
کچھ سالوں سے ٹویٹر آپ کوجیو لوکیشن اپنے ٹویٹس (جی پی ایس کے ذریعے) سے منسلک کرنے کا آپشن دیتا ہے۔ یہ پرائیویسی کے لیے بڑا خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔ تصور کیجیے! مثال کے طور پر ممکنہ چور کو پتہ چلا کہ آپ عارضی طور پر کسی دوسرے ملک سے ٹویٹ کررہے ہیں۔ اس طرح آپ کی جانب سے اسے گھر لوٹنے کی ایک کھلی دعوت ہوگی۔ پرائیویسی کی سیٹنگ سے اس فنکشن کو غیر فعال (disable) کریں۔

نامناسب ٹویٹس، ایڈ یا تصاویر کو فلیگ لگائیں:
آپ انٹرنیٹ کو ایک زیادہ محفوظ اور خوشگوار جگہ بنانے میں بھی مدد کرسکتے ہیں۔ جب آپ کو تصاویر یا نامناسب پیغامات نظر آئیں تو آپ انہیں فلیگ (رپورٹ) کرسکتے ہیں تاکہ ٹویٹر ایکشن لے سکے۔ اس ترح ٹیوٹس کو ری ٹویٹ یا رپلائی نہ کریں جو واضح طور پر خطرناک یا غیر قانونی ہوں۔ اس پر خاص توجہ دینا چاہیے۔ تحریک فروغ اسلام نے منظم جد و جہد کا آغاز کیا ہے۔ ہم رپورٹ نہیں کرتے، اسی لیے نفرت پھیلانے والوں کے حوصلے اس قدر بلند ہیں۔

اگر آپ کو دھمکی ملے تو ٹویٹر اور حکام کو مطلع کریں:
سائبر کرائم ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اگر کوئی آپ کو ہراساں کرتا ہے، دھمکی دیتا ہے یا ٹویٹر کے ذریعہ آپ پر زبانی طور ہر حملہ آور ہے تو ٹویٹر پرایک فارم ہے اسے استعمال کرتے ہوئے رپورٹ کریں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو جان کا خطرہ ہے تو حکام سے رابطہ کریں۔ (حکام کو بتانے سے بھی کچھ خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا مگر کاغذی کاروائی کی اپنی اہمیت ہے۔)

ذاتی معلومات شائع کرنے سے پہلے غور کریں:
ٹویٹر پر آپ جو بھی پوسٹ کرتے ہیں اس میں اگر ذاتی ڈیٹا شامل ہے  تو وہ آپ کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے۔ ٹویٹر پر اس طرح کے کسی بھی معلومات کو پوسٹ کرنے سے پہلے غور و خوض کریں! Hootsuite جیسے ٹول کا استعمال کریں جو آپ کو پوسٹس شیڈول کرنے اور ان کے اثرات کو آسانی سے فالو کرنے کی سہولت دیتا ہے۔

اگر آپ خواہ مخواہ کے مسئلے میں پڑنا نہیں چاہتے ہیں تو اپنے ٹویٹس کی حفاظت کریں:
ٹویٹر پر لاک ایک کلاسک فیچر ہےاس کے استعمال سے آپ کا ٹویٹر پروفائل فیس بک کی طرح نجی ہوجائے گا۔ آپ کی اجازت سے لوگ آپ کو فالو کریں گے اور آپ کے ٹویٹس دیکھ سکیں گے۔ (یہ زیادہ مفید نہیں)

ٹویٹر کے ضابطے پرعمل کریں:
آپ کو ایک اچھا ٹویٹریوزر بننا چاہئے۔ اگر آپ نہیں چاہتے کہ آپ کا اکاؤنٹ بلاک ہو تو آپ کو ٹویٹر کے ضابطوں پر عمل کرنا ہوگا۔ کسی اور شخص یا برانڈ کی نقالی نہ کریں، دوسرے لوگوں کی خفیہ معلومات شائع نہ کریں، کسی کو دھمکی نہ دیں، کسی بھی کاپی رائٹس (حق اشاعت) کی خلاف ورزی نہ کریں، غیر قانونی مقاصد کے لیے ٹویٹر کا استعمال ہرگز نہ کریں ۔ اگر آپ کو بلاک کردیا جاتا ہے تو آپ اپیل کرسکتے ہیں۔

سب سے اہم بالکل نہ گھبرائیں!

یہ بھی پڑھیں ’بابا صاحب اور سی اے اے 2019https://abirti.blogspot.com/2020/02/caa-caa-un.html?m=1

ٹویٹر ایک عوامی جگہ ہے ، لیکن یہ ایک محفوظ جگہ ہے۔ اگر آپ بلا وجہ کے مخمصے میں نہیں پڑنا چاہتے تو آپ ایک بہترین پاس ورڈ کا استعمال کریں اور کوئی کمپرومائزڈڈیٹا شائع نہ کریں۔ ہوشیار رہیں! آپ کے ساتھ کچھ بھی غلط ہونے کا کوئی امکان بھی پھٹک نہیں سکتا۔

واٹس ایپ  اور فیس بک میسنجر پر کئی بار اسپیم میسجز یا لنک بھیجے جاتے ہیں اوراسی سے پورے موبائل پر کنٹرول پا لیا جاتا ہے۔

فیس بک پیج لائک کرنے میں بھی احتیاط برتنا چاہیے۔ اسی طرح واٹس ایپ پر شیئر اور فارورڈ کرتے وقت حد درجہ محتاط ہونا لازمی ہے۔ کسی بھی شخص کو کسی طرح کا اوٹی پی (ون ٹائم پاسورڈ) ہرگز نہ بتائیں۔ انڈروئڈ بالکل محفوظ نہیں مانا جاتا۔ ایپل کے فون محفوظ ترین سمجھے جاتے ہیں کیونکہ اس کی تمام سروسز، اپنی ہوتی ہیں جبکہ دوسرے برانڈ کے موبائل میں ایسا نہیں ہے.... موبائل مینوفیکچرنگ کسی اور کمپنی کی تو ایپلیکیشنس سروسز کسی اور کمپنی کی ہوتی ہے۔ سکیورٹی کے لحاظ سے ایپل کا کلاؤڈ سسٹم بہت سخت ہے۔

یہ بھی پڑھیں ’آخری فتویٰ‘https://abirti.blogspot.com/2019/12/blog-post_21.html?m=1

اکاؤنٹ ویریفکیشن
ٹویٹر اکاؤنٹ پر بلو ٹِک ہونے کے بہت سے فائدے ہیں کیونکہ یہ ویریفائیڈ اور مؤثر اکاؤنٹ ہونے کی پہچان ہے۔ ٹویٹر نے ویریفکیشن کا عمل کچھ مہینوں سے معطل کر رکھا ہے۔ پی آر (رابطہ عامہ) ایجنسیز، کمپنیز یا ورکر اکاؤنٹ ویریفکیشن میں جم کر کمائی کر رہے ہیں کیونکہ بہت معروف شخصیات ہیں جن کے ٹویٹر ہینڈل پر بلو ٹک نہیں۔ اسی لیے یہ بہت مشکل نہیں تو بہت آسان بھی نہیں۔ آپ گوگل پر ٹائپ کریں گے تو خود بہ خود سامنے آ جائے گا کہ ویریفکیشن کے لیے کیا کرنا ہے۔ جو اخبارات میں چھپتے ہیں اور عوامی شخصیت ہیں ان کے لیے قدرے آسان ہے۔ انھیں اپنے ادارے سے کے وائی سی کی طرز پر ایک لیگل پیپر تیار کروانا ہوگا۔ کئی بار پہلے ہی مرحلے میں ٹویٹر اکاؤنٹ ویریفائی ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں ’ہائے رے! علماءhttps://abirti.blogspot.com/2020/04/73-10-19.html

ٹویٹر کے مثبت اثرات کا ہی نتیجہ ہے کہ آج نفرتوں کے بیانیے تبدیل ہو رہے ہیں۔ یاد رہے کہ لوہا، لوہے کو کاٹتا ہے مگر اندھیرا اندھیرے کو نہیں کاٹتا اسی طرح نفرت کا خاتمہ نفرت سے ممکن ہی نہیں۔ ابتلاء اور آزمائش سے نہ گھبرائیں، یہ سب قدرتی ہے۔ سو بات کی ایک بات! جو برتن کام کا ہو؛ اسے بار بار دھویا جاتا ہے۔  


یہ تو محض استعمال کی بات ہو رہی ہے پروگرامنگ کی نہیں...ویسے بھی ٹیکنو فرینڈ ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ اگلا جو بھی مجدد دین و ملت ہوگا، اسے آئی ٹی (انفارمیشن ٹینالوجی) پر مکمل دسترس ہوگا۔ قومی صلاح و فلاح کی خاطر موبائل کا مثبت استعمال کریں۔ جو بھی ٹویٹر یوزر ہیں وہ سیٹنگ میں جاکر اکاؤنٹ پر کلک کریں۔ Username پر کلک کرکے Unique (منفرد) مثلاً BlogABIRTI@ ہینڈل لے لیں۔ یہ منفرد ہوتا ہے۔ دو ہینڈل ایک Username سے نہیں ہوسکتے۔ 

بندگان خدا کی خاطر صوفیاء کی نیم شبی آج بھی جاری ہے! یہ مضمون بھی اسی کا فیضان ہے جس کے لیے کچھ انگریزی مضامین اور ویب سائٹ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ 

مقصد یہ ہے کہ آپ کے اندر دنیا کا کامیاب ترین انسان بننے کا جوہر پیدا ہو جسے معلوم ہو کہ اسے کیا نہیں لکھنا ہے... کیا نہیں بولنا ہے اور کیا نہیں سننا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نا سمجھی اور نادانی میں سوشل میڈیا کا استعمال بے دریغ بڑھ تو جائے مگر اس سے نفع کم، نقصان زیادہ ہو۔ مسائل کا تدارک ’خود مسئلہ‘ بن کر ہرگز ممکن نہیں لہٰذا شش جہات سے اپنی حفاظت آپ کریں اور اپنا خاص خیال بھی رکھیں!

مزید معلومات کے لیے...👇



@MobeenJamei
mobeenahmad.abirti@gmail.com
+917618049339
Nazm, 'Kar Do Ghaus Karam Khudara!'