دنیا محشر ہے بنی سب کے لیے
زخم پر مرہم نہیں سب کے لیے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
این آر سی کے بعد لینے کے دینے جو پڑے تو حکومت ہند سی اے اے لے آئی۔ این پی آر، این آر سی کا پہلا قدم ہوگا جیسا کہ خود مرکزی وزارت داخلہ کی رپورٹ سے ثابت ہے۔ حیرت ہے کہ سی اے اے میں واضح طور پر محض مذہب کو بنیاد بنانے کے بعد بھی بی جے پی اور اس کی طرفدار میڈیا نے مسلسل رٹ لگا رکھی ہے ’ستائے ہوئے غیر مسلم افراد‘ کو ہندستانی شہریت دی جائے گی۔
ہندوستانی مسلمانوں کے اصل مسائل کیا ہیں، کیوں ہیں اور ان کا سد باب کیا ہے؟ کبھی اس پر سنجیدگی سے گفتگو نہیں ہوتی۔ ’ہم ایمان والے ہیں‘، ’سر کٹاضرور ہے،جھکا نہیں ہے‘، مختلف مسلم جنگجوؤں کی بے ہنگم کہانیوں پر فخر سے اپنی چھاتی آپ پھلا کر ہم خوش ہولیتے ہیں جبکہ جو جنگجو تھے انھیں تبلیغ دین سے کوئی علاقہ نہیں تھا۔ وہ دین اور سیاست میں از خود غیر مرئی فرق رکھا کرتے تھے ورنہ کیا وجہ تھی کہ عالمگیر اورنگ زیب نے دکن کو تہس نہس کردیا تاکہ حدودِ سلطنت مغلیہ کی وسعت پورے ہندوستان کو محیط ہوجائے۔
حالات کیا سے کیا ہونے کو ہیں جن کے تصور ہی سے کلیجہ منھ کو آتا ہے مگر ہمارے علماء مشائخ پر مشتمل قیادت کھل کر کچھ بھی کہنے سے گریزاں ہے۔ صوفیاء نے ہمیشہ حکومتوں کو اپنے پیروں کا دھووَن تک نہ دیا مگر آج انہی کے نام پر عوام کے ساتھ کھلم کھلا دھوکہ کرتے ہوئے فسطائیت کا طواف کیا جا رہا ہے تاکہ اپنا کام چلتا رہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آج کل ’لا الہ الا اللہ ‘(کلمہ) کی جگہ ’لائے لائے دَھے دَھے جاؤ‘ پڑھا جا رہا ہے اور بے چارے سادہ لوح عوام لا لا کر دھرتے بھی جا رہے ہیں۔
ممکن ہے کہ آپ کو یہ محسوس ہو کہ میں بلاوجہ سر پہ آسمان اٹھائے ہوئے ہوں۔ میں آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایک بار ٹھنڈے دل سے جن ملکوں میں لاوطنیت کے مسائل پیش آئے ہیں وہاں کا جائزہ لیں۔ آپ محسوس کریں گے کہ یہاں بھی وہی کچھ ہورہا ہے۔ نسل کشی عام بات ہوچکی ہے۔ اب یہ بڑے پیمانے پر ہو گی۔ حال ہی میں حیدرآباد میں شرپسندوں نے ایک موذن کو تیزاب پلا دیا جو زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے، کئی سرجری ہو چکی ہے‘دعا کیجیے۔ دہلی ، جسولا میں ایک برقع پوش خاتون پر تیزاب میں رنگ گھول کر ڈال دیا گیا۔ آج ہی پارلیمنٹ میں دہلی فسادات 2020 پر بحث کے دوران بی جے پی یہ کہہ رہی تھی کہ کانگریس کے دور اقتدار میں ایک ہزار ایک فسادات ہوئے...اس کے مقابلے ہمارے دورِ اقتدار میں کچھ نہیں ہوا۔ مفہوم مخالف یہ نکلتا ہے کہ ہمیں بھی ہزاروں کی تعداد تک پہنچنے دو۔
اپریل میں این پی آر کا عمل شروع ہوجائے گا۔ اگرتمام ریاستوں میں جمہوری مثبت اقدام کے تحت ہم نے اپنی بیداری کا ثبوت نہ دیا تو یہ بھی کامیاب ہوجائےگا۔ المیہ یہ ہے کہ سب کچھ (اقوام متحدہ، مختلف ممالک اور ان کے ڈپلومیٹس کے)ہمارے حق میں ہوتے ہوئے بھی مسلم قیادتیں خوف سے لرزہ بر اندام ہیں۔ مسلم خواتین نے جس طرح سے جمہوری ڈھنگ سے شدید مزاحمتی رویہ اختیار کیا ہے ‘ اس کے زیر اثر یہ امکان ہے کہ چند دنوں کے لیے یہ ٹال دیا جائے مگر یہ ٹلنے والا نہیں ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ ہمارے جیتے جی یہ کامیاب نہ ہو مگر آنے والی نسلوں کو یہ بھگتنا ہوگا اور دھیرے دھیرے ہم ارتداد کی قعر مذلت میں پہنچ جائیں گے...پھر کیا عصمتیں، جانیں، مال واسباب اور عبادت گاہیں....خدارا! خود کو بچا لو! جو کرنا ہے‘ ہمیں ہی کرنا ہے‘ بے حسی کا مظاہرہ کریں گے تو رحمتِ خداوند بھی ہماری جانب متوجہ نہ ہوگی۔
الجامعۃ الاسلامیہ،روناہی: ایک تعارف؛ یہ بھی پڑھیں https://abirti.blogspot.com/2017/05/aljame-atul-islamia-raunahi-ek-taaruf.html
سچی بات ہے کہ اگر ہم اپنے مدارس کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق لا پاتے تو حالات اس قدر ناگفتہ بہ نہ ہوتے۔ ہمارے جانی دشمنوں نے یہی طریقہ اختیار کیا اور ہمارا جینا دوبھر کر دیا۔ انہوں نے گاؤں گاؤں اسکول ، شہر شہر کالج اور میٹرو سٹی میں یونیورسٹیز کھولے۔ ہم خیال افراد پیدا کیے۔ ہمارے پاس مدارس کی ایک بہترین پاکیزہ زنجیر ہوتے ہوئے بھی ہم اسے استعمال نہ کرسکے ۔
اب آگے کیا ؟
ساتھیو! میں آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ہم جامعہ روناہی کے فارغین سوشل میڈیا سمیت زمین پر اتر کر کام نہیں کرسکتے! بالکل کر سکتے ہیں۔ روناہی کے فارغین بیرون ملک سمیت تمام شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں‘ ہم عوام کو بےلاگ ایسے سمجھائیں اور جم کر مزاحمت کریں کہ ہمارا وجود سراپا احتجاج بن جائے۔
مجھے اس بات کا مکمل خیال ہے کہ آپ اپنی مصروف زندگی سے کیسے وقت نکالیں گے، غمِ روزگارہے تو سب کچھ بے کار ہے! مگر مجھے بتائیے کیا آپ کوئی کام پیشہ وارانہ کریں گے‘وہی خدمت دین ہے یا جو آپ اپنے ذاتی وقت میں فی سبیلہ تعالیٰ کریں گے وہ اصل خدمت دین ہے؟ پیشہ وارانہ خدمت دین آپ کا ذریعہ معاش ہے اسے خدمت دین بھی کہیے! کیونکہ آپ کی نیت ہے! مگر یہ مکمل انصاف نہیں ہے۔
جن عوام نے ہمیں برسوں مفت تعلیم اور اس کے لوازمات دیے‘ آج ان کے لیے کچھ کرنے کا وقت ہے۔ آپ تعلیم یافتہ ہیں کچھ سمجھ سکتے ہیں‘ مگر عوام اس کے اہل نہیں۔ غور کیجیے۔
کئی بار ایسا بھی ہوا کہ رپورٹر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں گھر کا سامان
تہس نہس کر دیا گیا ہے‘ شدید توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے۔ بیٹی کی عصمت دری
(کئی بار گینگ ریپ‘ کئی تو ایسے ہیں کہ جنہیں اپنی بیوی مہینوں ہنچانی پڑی‘
ریسرچ کرکے پڑھیے یہ سب مل جائیں گی۔) بھی کی گئی ہے۔ میں رپورٹ (ویڈیو،
فوٹو اور ٹیکسٹ) بنا چکا ہوں مگر بیٹی کا باپ رو رہا ہے کہ مت دیجیے ورنہ
بیٹی کی کہیں شادی نہیں ہوگی۔ وہاں یہ ایک عام بات سی ہوکر رہ گئی ہے‘
جسے وہاں کے عوام خون کے گھونٹ پی کر برداشت کرتے ہیں۔ جے این یو طلبہ بسا
اوقات یہ باتیں کھل کر اٹھاتے ہیں مگر ان کی سنتا ہی کون ہے!... یاد رہے!
این پی آر +این آر سی اور سی اے اے کے بعد ہمیں اتنی بھی عزت نہیں ملے
گی۔ پورا مسلم معاشرہ ٹوٹ جائے گا۔ کون کیسے جینے مرنے کی جد و جہد کر رہا
ہوگا‘ بیان سے باہر ہے۔ ایک بار این آر سی کی زد میں آنے کے بعد ٹریبونل،
ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں شہریت ثابت کرنے میں ہی اتنے پیسے لگ جائیں
گے کہ انسان کی جائداد ختم ہوجائے گی جبکہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں
مقدمہ بازی آسان نہیں۔
’محمد علی (جوہر) کو لیڈری نے تباہ کیا‘ https://abirti.blogspot.com/2020/02/jauhar-alibrothers.html?m=1
میں مسلسل کچھ علماء اور مشائخ کو میسج اور فون کر رہا ہوں مگر کوئی جواب نہیں مل رہا ہے تو ایسے میں آئیے ! زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھیں، ٹویٹر سے آغاز کریں! اگر ہم پانچ سو یا پانچ ہزار افراد ایک ہیش ٹیگ پر لگ جائیں اور وہ ہیش ٹیگ پانچ ہزار سے زیادہ ٹویٹ، ریٹویٹ کو عبور کر جائے تو شام میں ٹی وی اور صبح اخبار کی ہیڈلائن بن جائے گی۔ ہم اپنے موبائل کا استعمال مثبت اور بقائے ہند، وطن کے لیے کریں۔
مجلس جامعہ روناہی کو فالو کریں 👇
ٹویٹر اکاؤنٹ کیسے بنائیں گے....👇 https://youtu.be/JO5uxw2MHAk
🖕 لنک پر جاکردیکھ لیں۔
ہم یہ حقائق سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں کہ ہمارے بزرگوں نے اس لیے پاکستان کی ہجرت کو مسترد کر دیا تھا کہ یہاں کے مساجد اور خانقاہوں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ اب تو سوال یہ ہے کہ اگر ہم موقر زندگی کے متصرف نہ رہے تو کیا یہ ممکن ہوگا ؟ ...’ہم کہاں تم کہاں‘۔
ہم دہلی سمیت مختلف شہروں میں اپنا احتجاج شروع کرنے کے بارے میں آپ کی تجویز طلب کرتے ہیں جو تمام مدارس اور خانقاہوں کا نمائندہ احتجاج ہوگا۔ ہمیں بتائیے! آپ کی کیا رائے ہے؟ آخر! ہم تمام فرقوں (ہندو اور مسلم) کو متحد کرکے این
پی آر مسترد کیے جانے کے مطالبے کو کیسے منوا سکتے ہیں؟
پی آر مسترد کیے جانے کے مطالبے کو کیسے منوا سکتے ہیں؟
Team
#MajlisJameaRaunahi
#MajlisJameaRaunahi
@MobeenJamei
+917618049339
Watch... Nazm 'Kar Do Ghaus Karam Khudara!
آپ لاجواب ہیں
ReplyDeleteAap article ke bare me kahiye..main khud ka ta hun😊
Deleteقابل عمل
ReplyDeleteبہت عمدہ مبین بھائ
Shukriya
Deleteबहुत उम्दा
ReplyDeleteThank you...💓
Deleteاللہ تعالی آپ کو اور ترقی عطا فرمائے
ReplyDeleteAamin
Delete