Friday, May 15, 2020

Tarawih from Dainik Jagran


تراویح...دینک جاگرن سے!

سورۂ رحمٰن کا منظوم اردو ترجمہ https://abirti.blogspot.com/2020/04/surah-ar-rahman-translation-in-urdu.html

گرمی میں موسم ہی نہیں بلکہ سب کچھ اُبال مار رہا تھا۔ مئی جون کا مہینہ تھا۔ دوپہر کے وقت حافظ صاحب کہیں سے، کسی کام سے لوٹے تھے۔ تیز قدموں سے گھر جا رہے تھے کہ کسی نے دائیں جانب سے آواز لگائی کہ حضرت! او حضرت! حافظ صاحب رک گئے اور پسینہ پونچھتے ہوئے کہا،’کیا بات ہے!‘

چھپر کے نیچے بیٹھے شخص نے کہا،’ حضرت!ایک سوال ہے۔ جواب عنایت فرمائیں‘۔

حافظ صاحب: ہاں، پوچھو! کیا سوال ہے...جلدی کرو۔ حافظ صاحب چہرے پر رومال پھیرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گرمی کی شدت بھی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ 

حافظ صاحب کو ابھی حفظ مکمل کیے کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ گاؤں، محلے کے پہلے اور نئے نویلے حافظ ہوئے تھے۔ بڑی مشکل سے کچھ مسائل کا بیان اور تقریر وغیرہ کر پاتے تھے۔ 

حافظ صاحب نے کہا کہ کیا سوال ہے۔ دیکھو! ڈھنگ کا سوال کرنا۔ ابھی ابھی ایک ضروری کام سے نامراد لوٹا ہوں... کام بھی نہیں ہوا۔ موڈ بہت خراب ہے۔ 

در اصل سائل کو دیکھ کر ہی حافظ صاحب کی اندورونی سطحیں پسینے سے بہاؤ لینے لگیں۔ سوال کا نام سنتے ہی چہرے کا رنگ بدل گیا تھا مگر جلد ہی چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سدھار لے آئے۔ 

سائل: حضرت! سوال یہ ہے کہ حضرت آدم اور حضرت حوا علیھما السلام کا نکاح کہاں ہوا تھا؟ 

حافظ صاحب رومال سے ہاتھوں کا پسینہ پوچھتے ہوئے کہتے ہیں،’ جنت میں ہوا تھا۔ اف!‘حافظ صاحب جواب مکمل کرتے ہوئے جیسے ہی اپنا طوفانی پاؤں گھر کی طرف بڑھاتے ہیں‘ سوچا کہ تیزی لاؤں۔

تبھی سائل نے ایسے پکارا گویا حشر کا میدان ہو...’ارے رے رے حضرت! حضرت!!‘

حافظ صاحب: تھوڑا گرج کر،’ اب کیا ہے؟‘ 

جھٹ سے سائل نے زور دیتے ہوئے مزید ایک سوال داغ دیا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ان دونوں کا نکاح کس نے پڑھایا تھا؟ 

سوال سنتے ہی حافظ صاحب کا دماغ فرش سے عرش پر چلا آیا مگر انھیں وہاں کچھ نظر نہیں آیا۔ فرش پر لوٹتے ہی آس پاس کا مطالعہ کرنے لگا۔ امید ہے کہ حافظ صاحب اینٹ یا پتھر تلاش کرنے میں لگے ہوں مگر ڈھنگ کا اینٹ یا پتھرکچھ نہیں ملا جو ڈھیلے کا کام کر سکے۔

حافظ صاحب نے اپنی تپتی اور سرخ آنکھوں سے سائل کو دیکھا اور قدرے بیزاری سے جھنجلا کر جواب دیا،’نکاح تو جنت میں ہوا تھا مگر ہم بارات نہیں گئے تھے‘۔ 

....

یہی کوئی سات آٹھ برس گذرے ہوں گے۔ موسم گرماں کی شدت ایسی تھی کہ ہرے بھرے میدانی علاقوں کی زرخیز زمین بھی سنگلاخ ہوئی جاتی تھی۔ گرمی کے کئی رنگ ہیں، انہی میں سے ایک جولائی۔اگست کی حبس والی گرمی بھی ہے۔ اس دوارن موسم بڑا بے کیف اور کاٹ کھانے والا ہو جاتا ہے کہ اے سی اور کولر بھی بے اثر سے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ 

ماہ مبارک رمضان دینی سرگرمیوں کی بہار کے ساتھ رونما ہوا۔ سحری، افطار، نماز اور تلاوت کی چہل پہل کے ساتھ  ہی ہر طرف ماحول پُرکیف، روحانی اور خوشگوار ہو گیا تھا گویا انسانیت کو انسانوں کی آغوش میں جھوٹی ہی سہی مگر تھوڑی دیرے کے لیے سکون مل گیا۔ 

ٹویٹر ایک بہترین ہتھیار مگر احتیاط سے! https://abirti.blogspot.com/2020/04/twitterindiamuslim-ulma.html 


تراویح کی بہ جماعت نماز شروع ہوتے ہی بجلی گل ہوگئی۔ تمام نمازی اور خود امام پیسنے میں شرابور تھے۔ مسجد میں جنریٹر کا انتظام تھا مگر تراویح کے آگے کون اس جانب توجہ دے! رمضان میں مسلمان ابرِ رحمت سے براہ راست لطف اندوز ہوتا ہے مگر حفاظ کی دنیا غیر ہوجاتی ہے۔ انھیں شدید ذہنی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ پورے 24 گھنٹوں میں تراویح ختم ہونے کے بعد ہی انھیں کہیں پل بھر کے لیے سکون میسر ہوتا ہے۔ اگر دورانِ تراویح دو چند لقمے مل گئے تو یہ سکون بھی غارت ہوجاتا ہے۔  

بہر کیف! تراویح حسب معمول جاری تھی۔ حافظ (امام) صاحب نے ’وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُفْلِحُوْن‘ آیہ پر رکوع کر دیا۔ سلام پھیرا تو صف اول کے ایک زیرک مقتدی ڈاکٹر صاحب کو لگا کہ امام صاحب شاید سہو کا شکار ہوگئے اور وہ سورہ بقرہ میں آگئے تھے لہٰذا تپاک سے انہوں نے پوچھا کہ امام صاحب کہاں سے پڑھ رہے تھے؟ 

پہلے سے ہی شدید ذہنی دباؤ کے مارے اور گرمی سے بے حال امام نے قدرے بیزاری سے جھنجھلا کر جواب دیا کہ دینک جاگرن سے! 

...فوراً جلدی سے کھڑے ہوئے اور بہ آوز بلند ’اللہ اکبر‘ کہتے ہوئے نیت باندھ لی۔ 

ہمارے لیے درس یہ ہے کہ تمام الٹی سیدھی باتوں ’کَٹبیٹھی‘سوالات کے جواب علماء سے طلب نہ کریں۔ Common sense (تھوڑی سمجھ بوجھ) سے کام لیں تو بہت سے سوالوں کے جواب آپ مل جائیں گے۔ ’اصیل الاشیاء اباحۃ‘ تمام چیزیوں کی حقیقت اباحت ’جائز‘ ہے۔ دیکھنا یہ کی ضرورت کی نوعیت کیا ہے۔ 

رمضان میں حفاظ کو پریشان کرنے کے بجائے انھیں خوش رکھیں تاکہ وہ بغیر کسی ذہنی دباؤ کے ہشاش بشاش ہو کر نماز تراویح میں قرآن پڑھیں۔ 


اپیل: فی الحال  مہلک وائرس، کووِڈ-19 ’عالمی وبا‘ کے سبب قومی سطح پر لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ بہت سے حفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ تراویح سے پورے سال کے تعلیمی اخراجات کا انتظام کر لیا کرتے ہیں مگراس بار ’الٹی پڑ گئیں سب تدبیریں‘۔ ایسے میں آپ اپنے اپنے حفاظ کی مالی مدد ضرور کریں تاکہ انھیں مسائل زیست میں آسانی ہو! کچھ فون آئے کہ وہ تراویح تو پڑھا رہے ہیں مگر کوئی امید نہیں ہے کہ کوئی ان کا ہاتھ مضبوط کرے گا۔ 

رمضان کا آخری عشرہ چل رہا ہے۔ آپ دعا کریں کہ آئین سلامت رہے! این پی آر، این آر سی اور سی اے اے جیسے کالے قانون خاک ہو جائیں۔ اس مقصد سے بڑی قربانیاں دی گئی ہیں۔

بہت سے سرکاری مدارس میں پراوئیویٹ اسٹاف کو نکال دیا گیا ہے۔ یہ بالکل ناروا ہے۔ سرکاری اسٹاف کو چاہیے کہ ایک ماہ کی تنخواہ اپنے ادارے کو عطیہ کرے تاکہ کسی طور ادارہ اور اس کی تعلیمی بہار پر خزاں نہ آئے۔ 

ہر سال بڑے مدارس سے سیکڑوں میں فارغ ہونے والے کہاں جاتے ہیں... وہ چھوٹے چھوٹے اداروں سے منسلک ہوکردینی و سماجی خدمات انجام دیتے ہیں۔ چند ہی فارغین ایسے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ انھیں ڈھنگ کی کوئی درسگاہ مل جاتی ہے۔ بہتیرے بڑے مدارس ایڈیڈ ہیں لہٰذا چھوٹے مدارس کا خاص خیال رکھیں کیونکہ چھوٹے مدارس علماء کو سب سے زیادہ روزگار دیتے ہیں۔

بہت شکریہ محمد جنید صاحب، نئی سڑک، بارہ بنکی اور محمد اعظم بستوی صاحب مانو، حیدرآباد...آپ کے بغیر یہ تحریر میرے بس کی بات نیہں تھی۔ 

@MobeenJamei
+917618049339
 https://youtu.be/bsNlHcbrVW0 ...نظم: بے حسی

14 comments:

  1. دل جیت لیا آپ نے اس لۓ نہیں کی میں بھی حافظ ہوں بلکہ صرف اس لئے کہ قارئ قرآن کے ساتھ قوم کا یہ نا روا سلوک انھیں الامان و الحفیظ کی تباہی میں پھینک سکتا ہے

    ReplyDelete
  2. Bahut Achcha likhte hain Mobeen Bhai Aap
    Aapki Soch Aapki Fikr ko Salam

    Proud of you❤

    Allah Salamt Rkhe Aapko

    ReplyDelete
  3. ماشاءاللہ بہت خوب
    آپ نے حفاظ کو پیش آنے والی پریشانیوں کے بارے میں اچھے انداز میں لکھا ہے۔

    ReplyDelete
  4. صارا قلبی بستانابستانا 😃😃

    ReplyDelete
    Replies
    1. ہمارا دل بھی باغ باغ ہو گیا۔ شکریہ

      Delete
  5. جہاں جنید بھائی ہوں وہاں کانٹ نہ ہو، ہو ہی نہیں سکتا.
    حضرت کی پندرہ منٹ کی تقریر کا تذکار عظیم بھی ہو جانا چاہئے تھا. 😂😂😂
    ویسے عمدہ لکھا آپ نے

    ReplyDelete